تعلیم کی تباہی کے ہم سب ذمہ دار، 2021میں یکساں نصاب ہوگا: شفقت محمود

تعلیم کی تباہی کے ہم سب ذمہ دار، 2021میں یکساں نصاب ہوگا: شفقت محمود

  



کراچی (این این آئی) وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہاہے کہ اپریل 2021 میں پورے ملک میں پرائمری تعلیم تک یکساں نظام تعلیم رائج ہو گا۔وزیراعظم عمران خان صوبوں کے ساتھ ملکریکساں نصاب لانا چاہتے ہیں،وزیراعلی سندھ سے بھی ملاقات کی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی لٹریچرفیسٹیول میں شرکت کے موقع پرصحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔ گیارہویں کراچی لٹریچر فیسٹول کی افتتاحی تقریب میں وہ مہمانِ خصوصی تھے۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ 20لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے ہیں۔ تعلیم کی تباہی کے ہم سب ذمہ دارہیں، مدرسوں کا درس نظامی بالکل ہی مختلف ہے، تعلیم کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ کوئی بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ ملک میں یکساں تعلیمی نظام رائج کرنے جارہے ہیں۔ تعلیم کے حصول میں غربت سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پہلی سے پانچویں کلاس کا یکساں نصاب تیار کر لیا ہے۔ اگلے سال اپریل سے پاکستان کے تمام پرائمری اسکولوں میں یکساں نصاب ہو گا۔شفقت محمود نے کہا کہ ہم ایک تعلیم نظام تشکیل اور متعارف کرانے کے بہت قریب ہیں۔ پانچ بلین روپے کا پروگرام ڈیزائن کیا ہے۔ چار سو سے زائد طالب علموں کو آرٹس کی بنیاد پر اسکالر شپ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے شہروں میں بھی ادبی میلے ہونے چاہیئں۔ آتے ہوئے ٹریفک جام میں پھنس گیا خوش ہوں کہ یہ رش علم و ادب سے محبت کرنے والوں کا تھا۔

شفقت محمود

کراچی (خصوصی رپورٹ)11 ویں کراچی لٹریچر فیسٹول کا عنوان ہے ”براعظموں کے پار دنیا کیسے سفر کرتی ہے“ اس موقع پر ارشد سعید حسین، منیجنگ ڈائریکٹر، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ کراچی ادبی فیسٹول ہمیں ایک جگہ پر جمع کرتا ہے تاکہ ہم ادب، موسیقی، شاعری، گیتوں، وژؤل پرفارمنگ آرٹس اور دیگر فنون کے ذریعے تخلیقی انداز میں سوچیں اور تیزی سے تبدیلی ہوتی ہوئی سیاسی صورتحال کے شانہ بشانہ چل سکیں۔کراچی ادبی فیسٹول ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں لوگوں کو انسانی جذبے کی تمام شکلوں کا جشن منانے کا موقع حاصل ہوتا ہے۔تقریب میں برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ وہ یہاں کی ثقافتی انفرادیت سے بے حد متاثر ہوئے ہیں۔ تقریب میں امریکی قونصل جنرل، اٹلی کی قونصل جنرل نے بھی اظہارِخیال کیا۔ولیم ڈلرمپل، زاہدہ حنانے تقاریر کیں۔ اگلے دو دِن مصنفین کی دستخطی نشستوں، کتب میلوں، فن کی نمائشوں، براہِ راست فنی کارکردگیوں، خطابوں اور مباحثوں وغیرہ پر مشتمل ہوں گے۔ فیسٹول میں فوڈ کورٹ، کتب میلے اور میڈیا رومز کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ فیسٹول میں ادبا اور مصنفین کی تصانیف کو ایوارڈز بھی دئے گئے۔

فیسٹول احوال

مزید : صفحہ آخر