طلبہ کے والدین کی شکایات برقرار، کیوں نہ 4وزراء ”ووہان“ بھیج دیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

طلبہ کے والدین کی شکایات برقرار، کیوں نہ 4وزراء ”ووہان“ بھیج دیں، اسلام ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) اسلام آباد ہائی کورٹ نے چین سے پاکستانی طلبہ کی واپسی سے متعلق کیس میں معاون خصوصی ظفرمرزا، زلفی بخاری اور سیکرٹری کابینہ کے ساتھ بچوں کے والدین کی ملاقات کرانے کا حکم دیدیا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ کیوں نہ دو چار وفاقی وزرا کو ووہان کے دورے پر بھیج دیں،متاثرین مسلسل شکایت کر رہے ہیں کہ حکومت انہیں سن نہیں رہی،، حکومت پاکستان کیوں غیر ذمہ دار ہے؟۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کرونا وائرس کے باعث چین میں پھنسے پاکستانی طلبہ کی واپسی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ نمائندہ وزارت صحت نے والدین کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کیلئے کمیٹی بنانے کا بتایا تو عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ کمیٹی کا نہ بتائیں، حکومت پاکستان کیوں غیر ذمہ دار ہے؟ متاثرین مسلسل شکایت کر رہے ہیں کہ حکومت انہیں سن نہیں رہی، مسئلے کو حل کرنا وزارت خارجہ کا نہیں، وفاقی کابینہ کا کام ہے، کیوں نہ دو چار وفاقی وزرا کو وہان کے دورے پر بھیج دیں۔وزارت خارجہ کے نمائندہ نے بتایا کہ چینی حکومت کی نئی رپورٹس آنی ہے، اس پر ہی کابینہ فیصلہ کرے گی، چین میں پھنسے طلبا کے والدین کے وکیل نے دلائل دئیے کہ طلبہ اورحکومتی موقف میں واضح فرق ہے، عدالت اگر ایک وزیراعظم کو بلاسکتی ہے تو اس کیس میں بھی کوئی حکم جاری کر دے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سنگین صورتحال کا سامنا ہے، فیصلہ حکومت نے کرنا ہے، یہ عدالت اور یہاں موجود افراد میں کوئی ماہر نہیں جو اس مسئلے کا حل نکالے، عدالت صرف والدین کو مطمئن کرنے کیلئے درخواست سن رہی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ والدین کی جانب سے 4 رکنی وکلا ٹیم وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز زلفی بخاری اور سیکرٹری کابینہ سے ملاقات کرے گی۔ مقدمے کی مزید سماعت 6 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔

عدالت

مزید : صفحہ اول