امریکہ اور طالبان آج تاریخی امن معاہدے پر دستخط کریں گے، ہمارے کچھ پڑوسیوں کو معاہدہ ہضم نہیں ہوگا: شاہ محمود قریشی

      امریکہ اور طالبان آج تاریخی امن معاہدے پر دستخط کریں گے، ہمارے کچھ ...

  



دوحہ (خصوصی رپورٹ) طالبان اور امریکہ کے درمیان آج قطر کے دارالحکومت دوحہ مین تاریخی امن معاہدے پر دستخط کئے جائین گے اس تقریب میں پاکستان کی نمائندگی وزیر خارجہ شا محمودودود قریشی کرینگے معاہدے کی تقریب میں امیر قطر سمیت سات ممالک کے وزرائے خارجہ اور پچاس ممالک کے نمائندگان شریک ہوں گے۔ معاہدے افغانستان میں امن کے قیام کے لیے بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔اس معاہدے کو جہاں سراہا جا رہا ہے وہاں اس معاہدے میں کیے گئے فیصلوں اور افغانستان کے زمینی حالات میں اس معاہدے میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کو ایک مشکل اور کٹھن عمل بھی قرار دیا جا رہا ہے۔اس معاہدے سے افغانستان میں امریکہ اور طالبان کے درمیان 20 سالہ جنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات شروع کرانے اور انھیں ایک حتمی فیصلے تک پہنچانے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قطر کے حکام نے پاکستان کے وزیر خارجہ کو اس معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے۔قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کے مطابق امریکہ سے معاہدے کے تحت طالبان یہ یقین دہانی کرائیں گے کہ ان کی سرزمین امریکہ سمیت کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گیاس تقریب کی کوریج کے لیے پاکستان افغانستان اور دیگر ممالک سے صحافی یہاں دوحہ پہنچچکیہیں۔ اطلاعات ہیں کہ اس معاہدے پر طالبان کی جانب سے امن کونسل کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر دستخط کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے امریکی صدر یا امریکی وزیر خارجہ کو اس معاہدے پر دستخط کرنے چاہییں۔طالبان کے رہنما ملا عبدالغنی برادر افغانستان میں طالبان کارروائیوں کی نگرانی کے علاوہ تنظیم کے رہنماؤں کی کونسل اور تنظیم کے مالی امور بھی چلاتے تھے۔امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے جس میں جنگ بندی، افغانستان کے مستقبل سمیت کئی مسائل پر بات چیت ہو گی اس معاہدے کے تحت امریکہ طالبان کے قیدی رہا کرے گا اور ان کے پاس جو مقامی قیدی ہیں انھیں رہا کیا جائے گااسی طرح افغانستان میں جنگ بندی کا فیصلہ بھی کیا جائے گاامریکہ اپنی افواج کو افغانستان سے نکالنے کے بارے میں ایک ٹائم ٹیبل سے آگاہ کرے گا۔بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جاءِے گی جس میں پھر مختلف مسائل پر بات چیت ہوگی جس میں افغانستان کے دستور، سکیورٹی اداروں کے کردار اور دیگر معاملات پر فیصلے کیے جائیں گے اطلاع کے مطابق امریکہ کوئی پانچ ہزار افغان طالبان رہا کرے گا اور افغان طالبان کی تحویل میں اس وقت کوئی ایک ہزار ایسے افراد ہیں جن میں افغان سپاہی اور فوجیوں کے علاوہ سرکاری اہلکار ہیں جنھیں رہا کر دیا جائے گا۔

امن معاہدہ

دوحہ (این این آئی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان امن معاہدہ طے پانے سے نہ صرف افغانستان اور پاکستان،پورا خطہ مستفید ہو گا، امن و استحکام ہو گا تو تعمیر و ترقی کے نئے راستے کھلیں گے، دو طرفہ تجارت کے فروغ کیلئے بے پناہ مواقع میسر آئیں گے، افغانستان پر واضح کیا ہے ہم آپکے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے،ایک اچھے ہمسایہ کی طرح برادرانہ تعلقات کے خواہاں ہیں۔جمعہ کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے قطر میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قطر میں پاکستانی سفارتخانے کی نئی بلڈنگ کے افتتاح کے موقع پر میں قطر میں پاکستانی سفیر اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہمیں توقع ہے کہ (آج)ہفتہ کو انشاء اللہ ایک طویل جنگ کے بعد امن کا معاہدہ ہو گا۔ پاکستان کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے اسی لیے ہمیں معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ افغانستان میں قیام امن سے ہمیں توانائی کے حصول میں مدد ملے گی ہم کاسا 1000 منصوبے سے استفادہ حاصل کر سکیں گے۔ افغانستان میں قیام امن سے ہمارے وسط ایشیا سے روابط بحال ہوں گے ہمیں پن بجلی کی صورت میں سستی بجلی میسر آ سکے گی، پاکستان ترکمانستان افغانستان پائپ لائن منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع مل سکے گا۔ پاکستان نے قیام امن کیلئے بھاری قیمت ادا کی ہے ہماری سیکورٹی فورسز، پولیس، عام شہریوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ میں اس معاہدے میں پاکستان کے نمائندہ کے طور پر شریک ہوں گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جب ہم کہتے تھے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے، افہام و تفہیم سے حل کرنا ہو گا لیکن اس بات پر تمسخر اڑایا جاتا تھا۔ وہ ناقدین جو کل تک پاکستان کو دہشت گردی کی جڑ قرار دے رہے تھے آج قیام امن کیلئے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا رہے ہیں اور پاکستان کو پارٹنر ان پیس قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغانوں کو خود کرنا ہے انہیں یہ بھی خود طے کرنا ہے کہ وہ مستقبل کا کیا منظر نامہ ترتیب دینا چاہتے ہیں۔ ہمارے پڑوس اور افغانستان میں بھی ایسے عناصر موجود ہیں جن کو یہ امن معاہدہ ہضم نہیں ہو گا کیونکہ ان کا کاروبار تخریب سے چلتا ہے لیکن ہم نے افغانستان کے ساتھ نئے رشتے کی بنیاد رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان بھی مختصر دورے پر قطر تشریف لائے تھے ہماری قطری قیادت سے ملاقاتیں ہوئیں۔ہم نے قطری قیادت سے گزارش کی ہے پاکستان کے پاس ہنرمند لیبر موجود ہے جو ان کے ہاں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ میں تعمیراتی کام میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ہم قطر کو فوڈ سیکورٹی کے حوالے سے معاونت فراہم کر سکتے ہیں جبکہ قطر ہماری توانائی سے متعلقہ ضروریات کو پورا کرنے میں ہماری معاونت کر سکتا ہے ہمارا ایسا تعلق جڑ سکتا ہے جو دونوں ممالک کے لیے یکساں طور پر مفید ہو۔

شاہ محمود قریشی

مزید : صفحہ اول