سروسز ہسپتال غیر موزوں قرار، پی کے ایل آئی کو کرونا فوکل بنانے کی تجویزپیش

سروسز ہسپتال غیر موزوں قرار، پی کے ایل آئی کو کرونا فوکل بنانے کی تجویزپیش

  



لاہور(جاوید اقبال) سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے پرنسپل پروفیسر محمود ایازنے سروسز ہسپتال کو کرونا وائرس کے علاج معالجہ کیلئے غیر موزوں قراردیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ کرونا کے مریض دیگر تندرست لوگوں میں وائرس منتقلی کا باعث بن سکتے ہیں لہٰذا لوگوں کو بچانے کیلئے کرونا سنٹرسروسزہسپتال کی بجائے کے ایل آئی میں بنادیا جائے۔سروسزہسپتال ذرائع کے مطابق پروفیسر محمود ایازنے محکمہ صحت پنجاب کو پیشکش کی ہے کہ پی کے ایل آئی کے تمام مریضوں کے علاج معالجہ کی ذمہ داری سروسز ہسپتال اٹھانے کیلئے تیار ہے مگر کرونا وائرس کا لاہور میں فوکل ہسپتال پی کے ایل آئی بنادیا جائے۔ذرائع کے مطابق محکمہ صحت نے تجویز کو قابل عمل قرار دیتے اس پر عمل درآمد کو وزیراعلیٰ کی منظوری سے مشروط کردیا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ سمز کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز نے سیکرٹری صحت بیرسٹر نبیل اعوان سے ملاقات کے بعد موقف اختیار کیا کہ سروسز ہسپتال کو لاہور میں کرونا وائرس کے مریضوں کیلئے فوکل ہسپتال کا درجہ دیتے ہوئے اگرچہ انتظامات کر لیے گئے ہیں مگر سروسز ہسپتال چونکہ شہر کے مرکز میں ہے جہاں روزانہ ہزاروں مریض آتے ہیں اگر یہاں کرونا کے مریض آگئے تو پھر ہجوم کے باعث یہاں کرونا وائرس دیگر لوگوں میں منتقل ہو کروباء کی شکل اختیار کرسکتا ہے لہٰذاممکنہ بڑے نقصان سے بچاؤ کیلئے آبادی سے دور پی کے ایل آئی کو کرونا وائرس سنٹر کا درجہ دے دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی کے ایل آئی صرف 95بستروں پر مشتمل ہے،وہاں کے مریضوں کوعلاج معالجہ پی کے ایل آئی کے برابر دیں گے۔

تجویز پیش

مزید : صفحہ اول