دہلی فسادات، مسلمانوں کے گھروں پر پٹرول بم حملے، ہلاکتیں 45ہو گئیں

        دہلی فسادات، مسلمانوں کے گھروں پر پٹرول بم حملے، ہلاکتیں 45ہو گئیں

  



نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں مسلم کش فسادات کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 45 ہو گئی ہے جبکہ مظالم پر عالمی میڈیا میں بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز ایوب شبیر نامی شخص کو ڈنڈوں سے تشدد کر کے قتل کر دیا گیا، بیٹے کے مطابق والد کباڑیے کا کام کرتے تھے، صبح باہر نکلے تو مار دئیے گئے۔ مشتعل ہجوم نے ایک مسلمان کے گھر کو آگ لگا دی جس کے باعث 85 سالہ اکبری نامی خاتون بری طرح جھلس کر جان بحق ہو گئی۔عینی شاہدین کے مطابق ہجوم نے پٹرول بموں سے گھر پر حملہ کیا اور گھر والوں کو اندر ہی محصور رکھا۔ بھارتی میڈیا نے 45 میں سے 28 ہلاک شدگان کی فہرست جاری کر دی ہے، مرنے والوں میں 20 مسلمان اور 8 ہندو ہیں۔ فسادات میں دو سو سے زائد زخمی اب بھی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ حالات قابو سے باہر ہونے کے بعد بھارتی فوجیوں نے گشت شروع کر دیا ہے، نئی دہلی میں مقبوضہ کشمیر والا منظر سامنے آرہا ہے۔ادھر بنگلا دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کی مرکزی مسجد میں نماز جمعہ کے بعد ہزاروں مسلمانوں نے نئی دہلی میں مسلم کش فسادات کے خلاف شدید احتجاج کیا اور مودی مخالف نعرے لگائے جبکہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سے دورہ بھارت منسوخ کرنے کا مطالبہ کر دیا۔مظاہرین نے کہا کہ مسلم کش فسادات کے پیچھے بھارتی حکومت کا ہاتھ ہے جو مسلمانوں اور ہندوؤں کو آپس میں لڑوا رہی ہے اگر بنگلا دیشی وزیراعظم اپنا دورہ منسوخ نہیں کرتی تو ہم بزور طاقت یہ دورہ منسوخ کروائیں گے اور ایئر پورٹ کا گھیراؤ کریں گے۔اس موقع پر نریندرا مودی کے پتلے بھی نذر آتش کیے گئے۔دریں اثناء عالمی میڈیا بھی نئی دہلی میں ہونے والے مسلم کش فسادات کو سامنے لارہا ہے، جس کے بعد بین الاقوامی میڈیا پر بھی بھارت میں ہونے والے مسلم کش فسادات پر آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔برطانوی اخبار دی گارڈین نے لکھاہے کہ نئی دہلی میں ہونے والے فسادات گجرات قتل عام کے بعد بد ترین فسادات ہیں۔ فسادات کی وجہ مودی سرکار کا شہریت سے متعلق قانون ہے۔امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے لکھا کہ دلی فسادات کے پیچھے صرف ایک شخص کپل مشرا کا ہاتھ ہے۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے گلی کوچے کسی جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ایک اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ 45 افراد کی ہلاکت کے بعد دہلی پولیس کی اہلیت پر انگلیاں اٹھنے لگی ہیں۔ پولیس فسادیوں کو روکنا نہیں چاہتی یا روک نہیں سکتی۔برطانوی اپوزیشن لیڈر جیرمی کوربن نے کہا ہے کہ بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں افسوسناک ہیں، بنیادی انسانی حقوق کے متصادم شہری قوانین نہیں بننے چاہئیں۔سربراہ لیبر پارٹی نے کہا کہ شہریوں کو عبادت کرنے اور زندگی گزارنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے، نئی دہلی میں مسلم آبادی پر پْر تشدد واقعات کی مذمت کرتا ہوں۔ انتہا پسندانہ نظریات تشدد کی طرف لے جاتے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ جنیوا میں بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں ہونیوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کروں گا۔

دہلی فسادات

مزید : صفحہ اول