امریکہ میں پناہ کے امیدواروں کو واپس میکسیکو نہیں بھیجا جا سکتا، امریکی عدالت

  امریکہ میں پناہ کے امیدواروں کو واپس میکسیکو نہیں بھیجا جا سکتا، امریکی ...

  



واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) ایک وفاقی عدالت نے میکسیکو سرحد سے آنے والے امیگریشن کے خواہش مند افراد کو واپس میکسیکو بھیجنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کے خلاف فیصلہ سنا دیا ہے حکومت کے ”مائیگرنٹ پروٹیکشن پروٹوکول“ (ایم پی پی) کہلانے والے پروگرام کے تحت اس سرحد سے آنے والے پناہ حاصل کرنے والے امیدواروں کو اپنی درخواستوں کے فیصلے تک میکسیکو بھیج دیا جاتا ہے جہاں وہ مخصوص پناہ گاہوں میں قیام کرتے ہیں۔ کیلیفورنیا کی وفاقی اپیل کورٹ کے فیصلے سے ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی کو زبردست دھچکا لگے گا جو میکسیکو سرحد سے تارکین وطن کی یلغار کو روکنے کی جدوجہد میں مصروف ہے جس نے وسطی امریکہ کے خاندانوں کی ریکارڈ تعداد کو امریکہ داخل ہونے سے روک دیا ہے گزشتہ مالی سال کے دوران چار لاکھ ستر ہزار والدین اور بچے امریکہ داخل ہوئے جنہیں پناہ کی درخواستیں دینے کے بعد آزادی سے رہنے کی اجازت مل گئی تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف یہ ہے کہ تارکین وطن کے خاندان امریکی قانون میں خامیوں کا فائدہ اٹھا کر امریکہ میں ٹھہرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ کیلیفورنیا کی اپیل کورٹ نے ایک کے مقابلے پر دو ججوں کی اکثریت سے بہ فیصلہ سنایا۔

امریکی عدالت

مزید : صفحہ اول