پنجاب لینڈ ریکارڈ ز اتھارٹی کا قیام عمل میں آ گیا

پنجاب لینڈ ریکارڈ ز اتھارٹی کا قیام عمل میں آ گیا

  



لاہور (پ ر)پنجاب میں دیہی اراضی ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن، ہر تحصیل میں اراضی ریکارڈ سنٹر کے قیام اور کمپیوٹرائزڈ لینڈ ریکارڈ سروسز کی فراہمی کے نئے نظام کو برقرار رکھنے کیلئے پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی ایکٹ 2017ء کے تحت پنجاب لینڈ ریکارڈ ز اتھارٹی کا قیام عمل میں لا یا گیا۔ جسکا مقصد ایک جانب تو اراضی ریکارڈ سنٹر کے انتظامی معاملات کو چلانا تو دوسری جانب اس نظام کو عوامی سہولت اور بدلتے دور کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے رہنا ہے تاکہ بیشتر محکموں اور انتظامی اداروں کے مابین منتشر نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید خطوط پر ایک مربوط و متحد لینڈ ایڈمنسٹریشن سسٹم میں ڈھالا جا سکے۔اتھارٹی کے قیام سے اب تک اراضی ریکارڈ خدمات کے حوالے سے عوامی سہولت کیلئے بیشتر اقدامات کیے گئے ہیں۔ جسمیں آغازو فروغ کاروبار میں آسانی کیلئے پراپرٹی، نادرا ای سہولت سے فرد کا اجراء، زرعی قرضہ کے جلد حصول کیلئے بنکوں کو اراضی ریکارڈ تک رسائی، آن لائن فردکا اجراء، 115نئے اراضی سنٹرو ں کا قیام جیسی قابل قدرسہولیات شامل ہیں۔ اسی طرح اراضی ریکارڈ خدمات کی دہلیزتک فراہمی کیلئے عوامی سہولت کا یہ سفر جاری و ساری ہے

جس کو ممکن بنانے کیلئے محکمہ مال اور پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی کیجانب سے مشترکہ طور پر تمام ڈویژن سے دو قانونگوئی میں 206 ریونیو سٹیٹ کی سطح تک خدمات کی فراہمی کا تجرباتی طور پر آغاز کیا جا رہا ہے۔ جسکا مقصدپی ایل آراے سروس ڈیلیوری آؤ ٹ لیٹ کو بڑھاتے ہوئے پی ایل آر اے کو موثر بنانا ہے۔ تاہم ادارہ کی جانب سے کی جانیوالی عوامی خدمت کی کاوشوں کی حوصلہ شکنی کرنے کیلئے اتھارٹی ختم کیے جانے، پی ایل آر اے عملہ کو اراضی ریکارڈ خدمات کی فراہمی سے بے دخل کیے جانے، سروس سنٹر آفیشلز کی بھرتی پر پابندی یا نشستوں کی تعداد اور کنٹریکٹ کی معیاد میں کمی جیسی بے بنیاد افواہوں کو ہوا دی جارہی ہے۔ جسکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔تاہم اسکے برعکس گزشتہ ہفتہ 550 سے زائد سروس سنٹر آفیشلز کی نشستوں پر بھرتی کی درخواست پنجاب پبلک سروس کمیشن کو بھجوائی جا چکی ہے۔ علاوہ ازیں عملہ کی تنخواہوں میں اضافہ اور دیگر ریگولیشنز کی منظوری پر بھی تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔ پی ایل آر اے کی کارکردگی و افادیت کو محض اراضی ریکارڈ سنٹرز کے انتظامی امور کی دیکھ بھال سے منسلک کیا جانا یا اراضی ریکارڈ سنٹرز کو لینڈ ایڈمنسٹریشن سسٹم کی اصلاح و بہتری اور خدمات کی فراہمی کا واحد ذریعہ سمجھنا محض کم فہمی اور غلط ادراک پر مبنی ہے۔ پی ایل آر اے بحثیت ادارہ اپنے تمام عملہ بشمول ہیڈ کواٹر اور فیلڈ سٹاف کے ذریعے عوام کو بہترین خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ لینڈ ایڈمنسٹریشن سسٹم میں دیگر جدید اصلاحات لانے کیلئے پنجاب بھر کے ڈیجٹیل نقشہ جات (GIS) اور شہری اراضی کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے منصوبہ کی تیاری میں مصروف عمل ہے۔ اس ضمن میں حکومت پنجاب کے ذریعے پی ایل آر اے اور عالمی بنک کے مابین مذاکرات و سرگرمیاں جاری ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ فروری 2021ء تک منصوبہ کی تیاری مکمل ہونے پر ورلڈ بنک کے ساتھ آسان شرائط پر فائنانسنگ کے معاملات طے پا جائیں گے۔

مزید : کامرس