آج ہائی کورٹ بار الیکشن‘ چودھری طاہر محمود‘ ریاض الحسن گیلانی آمنے سامنے

آج ہائی کورٹ بار الیکشن‘ چودھری طاہر محمود‘ ریاض الحسن گیلانی آمنے سامنے

  



ملتان‘ بہاولپور (کورٹ رپورٹر‘ ڈسٹرکٹ رپورٹر) ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے آج منعقد ہونے والے سالانہ انتخابات میں وکلاء امیدواروں نے شہر بھر میں بینرز اور بل بورڈز آویزاں کر دیے ہیں۔ہائیکورٹ کے نزد چوک پر نصب محمد بن قاسم کے مجسمے(بقیہ نمبر50صفحہ7پر)

پر بھی بینرز آویزاں کر دیے گئے ہیں۔ اور چوہراہے کو ہر جانب سے بینرز سے لاد دیا گیا ہے۔ گھوڑے پر سوار محمد بن قاسم کا مجسمہ بھی وکلاء کی انتخابی مہم میں رنگ چکا ہے۔ ہائیکورٹ و ڈسٹرکٹ بار سمیت شہر کے چوراہوں میں وکلاء کے بینرز کی بھرمار ہے۔ہائیکورٹ کی 5 نشستوں پر 11 امیدواروں کے درمیان آج مقابلے کا میدان سجے گا۔جاری کردہ لسٹ کے مطابق صدارت کی نشست پر چوہدری طاہر محمود اور سید ریاض الحسن گیلانی نے، نائب صدر کی نشست پر طاہر علی قریشی، محمد رمضان بھٹی اور میاں طاہر اقبال، جنرل سیکرٹری کی نشست پر محمد انور علی خاں رانا، شیخ عتیق الرحمن، سجاد حیدر سپرا اور صفدر سرسانہ، فنانس سیکرٹری کی نشست پر مہر محمد نواز نول اور چودھری احسان علی گل، لائبریری سیکرٹری کی نشست پر فرزانہ کوثر رانا اور نوشین افشاں بلوچ کے درمیان آج مقابلے کا میدان سجے گا۔ دوسری جانب ایگزیکٹو کی 7 مخصوص نشستوں پر حاجی دلبر خان مہار، میاں محمد اکرم،کامران رسول قیصرانی، محمد اعظم علی چوہان، تعظیم احمد باجوہ، مہر فخر رضا اجمل ملانہ اور راؤ سجاد علی بلامقابلہ منتخب قرار پائے ہیں ۔ وکلاء کے سالانہ الیکشن جمہوری نظام کی بہترین مثال بھی قرار دی جاتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وکلاء نے پریکٹشنر لائرز کو قیادت میں لانے کے لیے آواز بلند کی ہوئی ہے مزید برآں ہائیکورٹ بار کے یہ انتخابات کا پنجاب بار کونسل کے انتخابات پر اثر انداز ہونا بھی متوقع ہے۔جو اس خطے کے سیاسی وکلاء رہنماؤں کے لیے نیا سیاسی باب بھی بن سکتا ہے۔ بار صدر کی نشست پر ون ٹو ون اور کانٹے دار مقابلہ ہوگا جبکہ جنرل سیکرٹری کی نشست پر 4 امیدوار مدمقابل ہیں جن کے نتائج غیر معمولی ہوسکتے ہیں۔ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے آج منعقد ہونیوالے سالانہ انتخابات 2020-21 وکلاء سیاست کے نئے موڑ کا سبب بن سکتا ہے۔ جس کی اہم وجہ چند ماہ بعد ہونیوالے پنجاب بار کے انتخابات بھی ہیں۔جس کے لیے وکلاء لیڈروں نے پیپر ورک مکمل کرلیا ہے۔ ہائیکورٹ بار کا الیکشن لڑنے والے امیدواروں نے تحصیل بارز کے دوروں کا سلسلہ بھی گزشتہ کئی ماہ سے جاری کررکھا ہے جس میں شدت بھی آئی اور اب یہ سلسلہ آج اختتام پذیر ہونے کو ہے۔ وکلاء کے سالانہ انتخابات کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے امیدواروں نے چیمبر ٹو چیمبر اور موبائل پیغامات کے ذریعے بھی کمپئن کو جاری رکھا۔امیدواروں کی جانب سے دیے جانے والے عشائیے بھی کمپئن کا اہم حصہ تھے۔ دوسری جانب سپوٹران وکلاء کے مطالبات کو بھی پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی جارہی ہے۔ وکلاء کے دیرینہ مسائل میں وکلاء کالونی، خواتین اور نوجوان وکلاء کے معاشی مسائل کو حل کرنا، وکلاء کو طبی سہولیات کی فراہمی سے لیکر کئی اور اہم معاملات شامل ہیں۔ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات 2020-21 آج منعقد ہوں گے۔ پولنگ کا آغاز صبح 9 بجے ہوگا جو شام 5 بجے تک جاری رہے گا تاہم ایک بجے سے 2 بجے کے درمیان نماز اور کھانے کا وقفہ کیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں ہائیکورٹ بار کی جانب سے الیکشن انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔دریں اثناء چیئرمین الیکشن بورڈ کنور محمد یونس کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ووٹ ڈالنے والے وکلاء کو پاکستان بار کونسل کی شرائط شق نمبر 175-k کے مطابق اصل شناختی کارڈ اور پنجاب بار کونسل کا جاری کردہ کارڈ لازمی ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان دونوں کارڈ کے نہ ہونے کی صورت میں کسی وکیل کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن بہاولپورکے انتخابات آج ہونگے۔ جنر ل سیکرٹری کی سیٹ پرمحمداکرم بلوچ کاپلڑابھاری وکلا کے بڑے گروپوں نے ان کی حمایت کااعلان کردیابہاولپورکے علاوہ لودھراں ضلع بہاولنگر، ضلع رحیم یارخان اورتمام تحصیلوں کی بارز کی طرف سے بھرپورحمایت کااعلان کیاگیاوکلابرادری کے تمام بڑے گروپوں اورناموروکلانے محمداکرم بلوچ کی وکلابرادری کی محبت اورملنساری کی بناپرانہیں کامیاب کرانے کاعزم کررکھاہے واضح ہے کہ محمداکرم بلوچ ایڈووکیٹ گزشتہ سال بھی جنرل سیکرٹری کے عہدے پرالیکشن لڑے تھے انتہائی کم مارجن پرانہیں شکست ہوئی تھی لیکن امسال ان کی پوزیشن بہت بہترنظر آرہی ہے۔

آمنے سامنے

مزید : ملتان صفحہ آخر