ملکی ترقی کیلئے تاجر برادری حکومت کا ساتھ دے‘ گورنر سندھ

  ملکی ترقی کیلئے تاجر برادری حکومت کا ساتھ دے‘ گورنر سندھ

  



کراچی(پ ر) گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ قوم ماضی کی حکومتوں کا بویا کاٹ رہی ہے، بجلی اور ایل این جی کے مہنگے معاہدے قرضوں کا سبب بنے جن کی وجہ سے حکومت اور عوام کو مشکلات کا سامنا، سرمایہ کاری لانے کے لیے شرح سود بڑھانا ضروری تھا تاہم اب شرح سود میں کمی کی توقع ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو ایکسپو سینٹر میں پلاسٹک مصنوعات کی (بقیہ نمبر29صفحہ12پر)

نمائش ”پلاسٹک پراڈکٹ شو 2020“ کے افتتاح کے بعد خطاب میں کہی۔ اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر انجم نثار، پاکستان پلاسٹک مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے چیئرمین نبیل ہاشمی، پی پی ایم اے کے سرپرست زکریا عثمان اور بزنس کمیونٹی کی دیگر نمایاں شخصیات کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔ گورنر سند ھ نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں سے مہنگے معاہدے کیے اسی طرح ایل این جی مہنگے داموں خریدنے کے معاہدے نے معیشت کو نقصان پہنچایا یہ معاہدے پاکستان اور عوام پر بوجھ بن گئے جن کے تحت اگر بجلی نہ خریدی تب بھی ان بجلی گھروں کو ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔پاکستان ان معاہدوں کی قیمت چکارہا ہے، حکومت ان معاہدوں کو درست کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے ایف پی سی سی آئی بھی اس میں معاونت کرے۔ گورنر سندھ کا کہنا تھاکہ عمران خان نے مشکل وقت میں حکومت سنبھالی ماضی کے غلط فیصلوں کے آگے رکاٹ نہ بنتے تو حالات بہت خراب ہوتے مشکل حالات میں سخت فیصلوں کی وجہ سے بیڈ بوائے کا کردار ادا کرنا پڑا۔ معیشت کو درست سمت میں گامزن رکھنے اور صنعتی شعبہ و تاجربرادری کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے وزیر اعظم کی معاشی ٹیم دن رات مصروف عمل ہے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ ملک میں صنعتوں کے فروغ کے بغیر معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار نہیں کیا جاسکتا حکومت صنعتی انفرااسٹرکچر کی بہتری، یوٹلیٹی کی قیمتوں کے پیداواری لاگت پر پڑنے والے اثرات اور بلند شرح سود جیسے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے۔ ماضی کی حکومتوں کے غلط فیصلوں کی وجہ سے پاکستان کو عالمی اداروں سے قرض کے لیے رجوع کرنا پڑا تاہم اب صورتحال بہتر ہورہی ہے، شرح سود میں بھی کمی کا امکان ہے تاجر برادری جلد اس بارے میں خوش خبری سنے گی تاہم یہ کمی بتدریج ہوگی۔ گورنر سندھ نے تاجر برادری پر زور دیا کہ وہ معیشت کی بحالی اور پاکستان کی ترقی و استحکام کے لیے حکومتی پالیسیوں اور اقدامات پر بھروسے کرے، قرض اور اخراجات میں کمی کے لیے ترکی کا ماڈل سامنے رکھا ہے بہت جلد ان پالیسیوں کے ثمرات سامنے آجائیں گے۔ گورنر سندھ نے کرونا وائرس کے باعث نامساعد تجارتی حالات کے باوجود پلاسٹک پراڈکٹ نمائش کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کی۔ گورنر سندھ نے کہا کہ پلاسٹک کی صنعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے پاکستان میں پلاسٹک انڈسٹری ابھی ایک نومولود بچہ ہے اس انڈسٹری کو ابھی جوان ہونا ہے اور ہمیں اس انڈسٹری کو بہت سپورٹ فراہم کرنا ہوگی۔ گورنر سندھ نے کہا کہ میں اپنے بچپن سے پاکستان میں پلاسٹک کے بنیادی خام مال کی فراہمی آسان بنانے کے لیے نافتا کریکر پلانٹ لگنے کی باتیں سن رہا ہوں تاہم یہ انڈسٹری نہ لگ سکی انہوں نے تاجر برادری کو یقین دلایا کہ بجلی کے نرخ سمیت دیگر مسائل پیر کو وزیر اعظم سے ملاقات میں ان کے گوش گزار کروں گا۔ پلاسٹک شو کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے صدر انجم نثار نے کہا کہ پاکستان میں بجلی کے نرخ دنیا سے دگنے ہیں پاکستان کا صنعتی شعبہ 18سینٹس فی کلو واٹ قیمت پر بجلی خرید رہا ہے بنگلہ دیش میں 7 انڈیا میں 8 اور چین میں 10 سینٹس پر بجلی دی جاتی ہے مہنگی بجلی کی وجہ سے پاکستانی صنعتوں کے لیے مسابقت دشوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی بلند لاگت حکومت اور صنعت دونوں کا مسئلہ ہے۔ صدر ایف پی سی سی آئی نے بلند شرح سود کو بھی صنعتوں کے لیے بڑا مسئلہ قرار دیا اور پاکستان میں نئی صنعتوں کے قیام کے لیے شرح سود میں کمی کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے پانچ بڑی برآمد ی صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخ برقرار رکھنے کا اعلان کیا تاہم دیگر صنعتیں بدستور مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور ہیں۔ صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ ملک میں کرونا وائرس سے افراتفری نہیں پھیلانی چاہیے عام حفاظتی ماسک کا خام مال دستیاب ہے متعلقہ صنعتیں ماسک کی مقامی سطح پر پیداوار بڑھانے پر توجہ دینا دیں تاکہ ملک میں حفاظتی ماسک کی وافر دستیابی یقینی بنائی جاسکے۔ انہوں نے گورنر سندھ عمران اسماعیل سے اپیل کی کہ وہ صنعتی شعبہ اور تاجر برادری کے مسائل وزیر اعظم اور حکومت تک پہنچائیں۔ پاکستان پلاسٹک مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ زکریا عثمان نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گورنر سندھ نے ہمیشہ تاجر برادری اور کراچی میں ہونے والی سماجی و تجارتی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی انہوں نے کہا کہ حالات کی وجہ سے چین نے نمائش میں شرکت نہیں کی تاہم انڈسٹری نے کاروباری حالات کو بہتر بنانے کے لیے نمائش کو منسوخ نہیں کیا تاکہ پاکستانی صنعتوں کو یہ پیغام دیا جاسکے۔ انہوں نے کراچی اور سندھ میں صنعتی زونز کے قیام کو وقت کی ضرورت قرار دیا، زکریا عثما ن نے کہا کہ کراچی میں جرائم کم ہوئے جس کا کریڈٹ تحریک انصاف اور گورنر سندھ کو بھی جاتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ایس ایم ایز کو مضبوط بنانے پر زور دیا اور میڈ ان پاکستان کی برانڈنگ سمیت پلاسٹک کی طرح غیرروایتی مصنوعات کی صنعت میں ویلیوایڈیشن کا فروغ ناگزیر قرار دیا۔ چیئرمین پلاسٹک مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نبیل ہاشمی نے گورنر سندھ کو پنجاب کے صنعتی زونز کا دور ہ کرنے کی دعوت دی اور صنعتی ترقی کے لیے اکنامک زونز کے نئے تصورات اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی اسٹیٹ کا تصور پرانا ہوگیا ہے اب دنیا بھر میں انڈسٹریل پارکس اور کاٹج انڈسٹیرز زون قائم کیے جارہے ہیں جہاں ورکرز کی رہائش کی سہولت بھی دی جاتی ہے پلاسٹک کی صنعت ان اصولوں پر استوار کرکے تیزی سے ترقی کی منزل حاصل کرسکتی ہے۔

گورنر سندھ

مزید : ملتان صفحہ آخر