اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کو 27.2 ارب روپے کا قبل از ٹیکس منافع

اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کو 27.2 ارب روپے کا قبل از ٹیکس منافع

  



کراچی(اکنامک رپورٹر) اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک (پاکستان) لمٹیڈ نے اپنے سالانہ نتائج برائے 2019ء کا اعلان کر دیا ہے۔ اِن نتائج کے مطابق بینک نے 27.2ارب روپے (قبل از ٹیکس)منافع حاصل کیا ہے جو اَب تک بینک کو حاصل ہونے والا سب سے زیادہ منافع ہے۔ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک پاکستان میں سب سے بڑا اور قدیم ترین بین الاقوامی بینک ہے۔بینک نے سنہ 2019ء کے دوران ریکارڈ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 27.2 بلین روپے (قبل از ٹیکس)منافع حاصل کیا جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 47 فیصد زیادہ ہے۔بعد از ٹیکس منافع میں بھی 43 فیصد اضافہ ہوا ہے جو تقریباً 16 ارب روپے ہے اور یہ شرح اِس کے قیام سے اب تک سب سے بلند شرح ہے۔مضبوط اور متنوع کاروباری کارکردگی کے باعث بینک کو 39.1 روپے کی آمدنی ہوئی ہے جو اَب تک کی سب سے زیادہ آمدنی ہے اور اِس میں سال با سال کے مقابلے میں 37 فیصد اضافہ ہوا ہے۔آپریٹنگ اخراجات پر قابو پانے کے باعث اِن میں، سال با سال کی بنیاد پر صرف 2 فیصد اضافہ ہوا جو ملک میں پائے جانے والے افراط زر کے مقابلے میں بہت کم ہے اور اِس کی وجہ سے آمدنی کے مقابلے میں اخراجات کا تناسب ہمیشہ کے مقابلے میں 30 فیصد کم ہے۔بینک کے تمام کاروباری شعبوں میں مثبت تحریک پائی گئی اورسال با سال کی بنیاد پرکلائنٹ سے ہونے والی آمدنی میں 31فیصد کا اضافہ ہوا جس کی وجہ بنیادی محرکات میں مضبوط ترقی تھی۔ایڈوانسز (خالص) میں بھی تحریک جاری رہی اور ایڈوانسز میں،سال کے آغاز کے مقابلے میں، 29 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اپنے برانڈ سے فائدہ اٹھانے، کلائنٹ کے ساتھ تعلقات اور منافع بخش و اعلیٰ معیار کے پورٹ فولیو کی تعمیر کے لیے مضبوط عالمی نیٹ ورک کے استعمال کے حوالے سے ہدف کے مطابق بنائی گئی حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔بینک نے کم اخراجات والے ڈپازٹس میں اپنا قائدانہ مقام برقرار رکھا اورسخت مسابقت کے باوجودکاCASA to Deposits کا تناسب 93فیصد رہا۔ مجموعی ڈپازٹس میں اضافہ 10 فیصد ہوا جب کہ سنہ 2019ء کے دوران(Current Account Savings Account) CASA میں 8فیصد اضافہ ہوا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر