پی ایس ایل‘ ملتان میں جعلی ٹکٹیں فروخت ہونیکا انکشاف

پی ایس ایل‘ ملتان میں جعلی ٹکٹیں فروخت ہونیکا انکشاف

  



ملتان (سپیشل رپورٹر‘ نمائندہ خصوصی) ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں پی ایس ایل کے ملتان سلطان اور کراچی کنگز کے درمیان کھیلے جانے والے گزشتہ روز میچ کے دوران ضلعی انتظامیہ نے اسٹیڈیم جیم پیک ہونے کے پیش نظر انتظامات مزید موثر کردیئے تھے۔ڈپٹی کمشنر عامر خٹک کی سفارش پر محکمہ داخلہ پنجاب نے ٹاس کو لائیو دکھانے کے لیے پی سی بی کو ڈراون اڑانے کی اجازات دے دی تھی۔ویسٹ منیجمنٹ کمپنی نے "کلین ملتان پلان" پر عمل درآمد کے لیے دو شفٹوں میں سینٹری ورکرز کو تعینات کیا تھا۔کمپنی کی ورک فورس نے پورے اسٹیڈیم کی صفائی کرکے اسے پھر سے چمکا دیاتھا۔اسٹیڈیم کے تمام انکلوژرز میں مختلف جگہوں پر ویسٹ باسکٹ نصب کر دی گئی تھیں۔اسٹیڈیم کے ہر انکلوژرز میں پانچ پانچ سینٹری ورکرز ویسٹ بیگ کے ساتھ تعینات کر دئے گئے تھے اسٹیڈیم کے باہر لائم لانگ اور اسٹیڈیم آنے والے تمام روٹس کی خصوصی صفائی اورپانی کا چھڑکاؤ کیا گیا۔اسٹیڈیم کے اندر اور باہر پولیس کی مدد کے لیے 210 سول ڈیفنس اہلکار تعینات کئے گئے جبکہ ڈسٹرکٹ سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے نوجوانوں کی 20 رکنی ٹیم سکوربورڈ اور بال پکرز کے طور پر خدمات سرانجام دیئے۔ریسکیو1122 نے ایمبولینسز اور ریسکیور کے ہمراہ اسٹیڈیم کے احاطے میں کیمپ لگائے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی طرف سے روٹس اور جنرل پارکنگ پر سٹریٹ لائٹس کا نظام بھی مکمل فعال رکھا گیا۔ تمام محکموں کے فوکل پرسنز ڈی سی آفس میں قائم کنٹرول روم میں موجود رہے اور روٹ کی مانیٹرنگ جاری ہر لمحہ جاری رہے۔پولیس اہلکار اور ٹریفک وارڈنز بھی اپنی اپنی ڈیوٹی پر چوکس رہے۔عارضی ہسپتال اور میڈیکل کیمپس پر ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف نے بڑی مستعدی کے ساتھ اپنی ڈیوٹی سرانجام دی۔شٹل سروس کی مربوط مانیٹرنگ کے لیے ویڈا بس سروس کے منیجرز اور سپروائزر تعینات بھی کئے گئے۔ ڈپٹی کمشنر نے پی ایس ایل کے پہلے میچ میں بہترین انتظامات پر تمام اداروں کے افسران کو زبردست داد وتحسین پیش کی ہے۔ ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں دوسرے میچ میں بھی شائقین کرکٹ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا شائقین جگہ جگہ سکیورٹی ناکوں کے باعث بے حال ہوگئے۔میچ اگرچہ 3 بجے شروع ہونا تھا لیکن تماشائیوں کی سٹیڈیم کی طرف آمد دوپہر12بجے ہی شروع ہوگئی۔وہاڑی چوک اور بدھلہ روڈ کی جانب سے آنیوالے تماشائیوں کو وہاڑی روڈ کی جانب سے گاڑیوں کی پارکنگ سٹیڈیم سے کم و بیش 3کلومیٹر اور بدھلہ روڈ کی طرف سے ایک کلو میٹر کے فاصلہ پر دی گئی۔سٹیڈیم کے بیرونی داخلی گیٹ پر پہنچ کر بھی تماشائیوں ڈیڑھ دو گھنٹے تک لائن میں کھڑا رہنا پڑا یہ لائن بڑھتے ہوئے سٹیڈیم سے وہاڑی روڈ تک پہنچ گئی۔ تماشائیوں کو سٹیڈیم کی حدود میں اپنے انکلوڑر تک پہنچتے ہوئے دو تین مرتبہ جامہ تلاشی اور شخصی شناخت کے مراحل طے کرنا پڑے۔ تماشائیوں کو سٹیڈیم کے اندر کھانے پینے کی اشیاء ساتھ لانے کی اجازت نہ تھی۔کھانے پینے کے عارضی سٹالز پر اشیائے خوردونوش کے منہ مانگے دام وصول کیے گئے۔دریں اثناء میچ کے دوران ہر جاندار شاٹ اور وکٹ گرنے پر تماشائی دل کھول کر داد دیتے رہے۔ دونوں ٹیموں نے اپنے سکواڈ میں ایک ایک تبدیلی کی، پہلے فیلڈنگ کرنے والی کراچی کنگز نے اپنی ٹیم میں لیفٹ آرم آف سپنر عمر خان کو بھی شامل کیا لیکن انھیں حیران کن طور پر ایک بھی اوور نہیں دیا گیا۔تاہم ملتان نے اپنی ٹیم میں انگلش آل راؤنڈر روی بوپارا کو شامل کیا اور انہیں 5ویں نمبر پربیٹنگ کے لئے بھیجا۔ پی سی بی نے پی ایس ایل کے میچوں کو کامیاب بنانے پرملتان کے شہریوں کاشکریہ ادا کیا،گزشتہ روز سٹیڈم پیک ہوگیاتل دھرنے کی جگہ نہیں تھی جس پر سکرین پرہاوس فل کی سلائیڈ چلتی رہی۔ ملتان سلطان نے دعوت ملنے پر نئی جوڑی میدان میں اتاری اور اننگز کااختتام 6وکٹوں کے نقصان 186رنز پرکیا، ذیشان اشرف کو اس میچ میں پہلی مرتبہ اوپننگ کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا اور انھوں نے اس فیصلے پر زیادہ مایوس نہیں کیا اور تین چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 23 رنز بنائے۔ وہ افتخار احمد کی بولنگ پر بابر اعظم کو مڈوکٹ باؤنڈری پر ایک آسان کیچ دے بیٹھے۔معین علی کی اننگز کا خاتمہ 102 کے مجموعی سکور پر ہوا وہ چار چھکے اور چار چوکے کی مدد سے 65 رنز بنا کر کیمران ڈیلپورٹ کاشکار بنے،کپتان شان مسعود کے بلے نے بھی رنزاگلے وہ سات چوکوں اورایک چھکے کی مددسے 61 رنز بناکرجارڈن کی یارکرگیندپر بولڈ ہوئے،خوش دل شاہ 10،روی بھوپارا9اور روسو نے8رنزبنائے،محمد ا?صف اور جارڈن نے دو دو جبکہ عمید اورآصف نے ایک ایک آوٹ کیا۔ پی ایس ایل2020ء کے 10 ویں میچ میں جعلی ٹکٹوں کی خریدوفروخت ہوتی رہی،متاثرین کادعویٰ ہے کہ انہوں نے یہ ٹیکٹس مقررہ فرنچائزسیخریدکی ہیں،جس پرسیکورٹی حکام نیاس کمپنی کے نمائندہ کوبلایاتو اس نے تصدیق کی کہ ٹکٹس جعلی ہیں تاہم ان کے سنٹر سیفروخت نہیں کی گئی،جبکہ متاثرہ فیمیلیز کا کہنا تھا کہ آدھے افراد سٹیڈیم میں چلے گئے ہیں جبکہ آدھے باہرہیں ایک ہی جگہ سے خریدی گئیں ٹکٹس آدھی جعلی اورآدھی اصل تھیں،دوسری طرف انتظامیہ ٹکٹس کی بلیک میں فروخت کاسلسلہ نہ روک سکی،مافیا پولیس اہلکاروں کے سامنے ٹکٹس فروخت کرتا رہا، 5سو اور ایک ہزار والی ٹکٹس تین اور 5ہزارمیں فروخت ہوتی رہی۔ پاکستان شپرلیگ فائیو2020ء کے دوسرے میچ میں بھی شائیقین کرکٹ مشکلات سے دوچاررہے مہنگے اوربلیک میں ٹکٹ خریدنے کے باوجودنہ صرف اپنے انکوڑرتک رسائی حاصل نہ کرسکے بلکہ اپنے فیورٹ ملکی غیرملکی کھلاڑیوں کی ایک جھلک بھی نہ دیکھ سکے میچ شروع ہونے سے کئی گھنٹے قبل ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں پہنچنے والے شائقین کوکئی گھنٹے سخت سکیورٹی میں کلیئرنس کے نام پرگزارنے پڑے۔مختلف دوردرازکے اضلاع اورشہروں ڈیرہ غازی خان،لیہ،بھکر،کوٹ ادو،تونسہ،جتوئی جام پور،راجن پور،حاصل پور،رحیم یارخان،خانیوال،میاں چنوں،بہالپوردیگرعلاقوں سے آنے والے ہزاروں شائقین پہلے سٹیڈیم کے باہربعدازاں اپنے انکلوڑر کے باہرسکیورٹی کے نام پرخوارہوتے رہے۔دن 9بجے سٹیڈیم کارخ کرنے والے شائیقین سپہر3بجے کے قریب کئی سکیورٹی پوائنٹس عبورکرکے اپنے انکوڑرتک پہنچ پائے۔ اس کے بعدآنے والے شائقین میچ کے کچھ آوورزگزرجانے کے بعداوراس کے بعدآنے والے میچ ختم ہونے تک اپنے انکلوڑرتک نہ پہنچ سکے ٹکٹ ہونے کے باوجودسکیورٹی کیباعث میچ دیکھنے سے محروم رہنے والے ہزاروں شائقین نے شدیداحتجاج کیا۔ عامر یامین بہترین ال راونڈر مگر تاحال کراچی کنگز کے سکواڈ کا حصہ نہ بن سکے،رائٹ ہین ڈ بلے باز اورمڈیم پیسر عامر یامین پی ایس ایل کاحصہ تو ہیں مگرتاحال کسی میچ میں پلینگ سائیڈ کا حصہ نہ بن سکے کنگز کے کپتان عماد وسیم بھی انکی صلاحتیوں کے معترف ہیں انکا کہنا ہے کہ عامر یامین کی صلاحتیوں پر اعتبار ہے وہ کسی بھی جگہ اپنی کارکردگی دکھاسکتا ہے،وہ ایسا ا?ل راونڈر ہے جس کی بالنگ اور بیٹنگ ٹیم کے کام آتی ہے مگر ابھی اس کوموقع نہیں دیاجاسکتا،ٹیم میں بڑیبڑے نام موجود ہیں جوپرفارم بھی کررہے ہیں ان کی جگہ بننا مشکل ہے،تاہم کسی بھی تبدیلی کی صورت میں ان کوچانس دیاجاسکتا ہے۔ پی ایس ایل 2020میں کیچ ایک کروڑکا کی سکیم سے محروم رہیں گے، جس کی وجہ طویل باونڈری کاہونا ہے،ملتان سیٹیڈم ایک بڑا سٹیڈیم جس کی وکٹ اورباونڈری کاتماشائیوں سے فاصلہ60فٹ یا 20 گزکا ہے جس کہ وجہ سے گیندکا تماشائیوں تک پہنچانہ ممکن ہے،اس طرح ملتان کے تما شائی کروڑ کے کیچ سے محروم رہیں گے۔

جعلی ٹکٹ

ملتان پی ایس ایل میچ کی (جھلکیاں ……واثق روف سے)

* * ملتان شہر اور اسٹیڈیم کو دوسرے میچ کے لئے بھی دلہن کی طرح سجایا گیا * ملتان کے چوکوں،مرکزی شاھراوں اور اسٹیڈیم کے ارد گرد صفائی اور چھڑکاؤ کا عمل مسلسل جاری رہا * پی سی بی کے میڈیا کوارڈینٹر کے ناروا رویے کے باعث میڈیا گلیری کا ماحول تناؤ کا شکار رہا * شائقین کی بڑی تعداد ملتان سلطان کی کٹیں پہن کر اسٹیڈیم پہنچے * نوجوانوں،بچوں اور خواتین نے چہروں پر پاکستانی،ملتان سلطان اور کراچی کنگز کے پرچم بنوا رکھے تھے * چاچا ٹی ٹونٹی اور ماما پاکستان اپنے مخصوص لباس،انداز اور نعروں سے شائقین کا لہو گرماتے رہے * شائقین کرکٹ دن کو 11 بجے ھی اسٹیڈیم پہنچنا شروع ہو گئے * منچلے نوجوانوں اور خواتین نے میچ کھیلنے والی ٹیموں کی شرٹس کے علاوہ چہروں پر پینٹنگز بنوا رکھی تھی۔ * اسٹیڈیم میں ٹیموں کی یونیفارم کٹ پہن کر آنے والے شائقین کے لحاظ سے ملتان سلطانز کے سپورٹرز کا پلڑا بھاری رہا اور تمام انکلوڑرز میں ملتان سلطانز کے سپورٹرز کی تعداد زیادہ دیکھنے میں آئی۔ * شائقین کی سہولت کے لئے 2 پارکنگ سٹینڈز قائم کیے گئے تھے۔ * شائقین کرکٹ کے لئے 6 مختلف مقامات پر صاف پانی کے پوائنٹس بھی قائم کیے گئے تھے۔ * پی سی بی کے میڈیا مینجر کے صحافیوں سے بد تمیزی, کارڈز سیل کرنے کی دھکمیاں * شائقین میچ کے دوران مسلسل توتیاں،باجیاور ڈفلیاں بجاتے اور شور مچاتے رہے * موسم ابر آلود کونے کی وجہ سے دن میں ہی فلڈ لائٹس جلا دی گئیں * ٹیموں کے روٹ اور اسٹیڈیم کی حفاظت کے لیے غیر حتمی معمولی اقدامات اٹھائے گئے تھے * اونچی عمارت پر سنائپرز بھی تعینات کئے گئے تھے * پارکنگ کا انتظام سٹیڈیم سے بہت دور فاطمہ جناح کالونی میں بنایا گیا تھا * شٹل سروس کے ناقص انتظامات کی وجہ سے شائقین کی بڑی تعداد پارکنگ سے پیدل اسٹیڈیم تک پہنچے * ٹکٹوں کی تین بار چیکنگ کی وجہ سے شائقین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اس پر احتجاج کرتے رھے * اسٹیڈیم کے باھربھی طویل قطاروں کی وجہ سے شائقین کو بہت زیادہ کوفت کا سامنا کرنا پڑا

ملتان سلطان اور کراچی کنگز کے سپورٹرز کی ٹولیوں کی صورت میں اسٹیڈیم آمد * مجموعی طور ملتان سلطان کے سپورٹرز کی تعداد بہت زیادہ تھی * اشیاء خوردونوش والوں نے دوگنا نرخوں پر چیزیں فروخت کر کے شائقین کو لوٹتے رہے * ملتان سلطان اور کراچی کنگز کے سپورٹرز آپس میں نعرہ بازی کے مقابلے بھی کرتے رہے* دونوں ٹیموں کو ٹھیک 1:00 بجے زبردست پروٹوکول کے ساتھ اسٹیڈیم لایا گیا * کھلاڑیوں کے گراؤنڈ میں آتے ھی شائقین نے تالیاں بجائیں اور نعرے لگاتے ہوئے بھرپور استقبال کیا * خواتین اور بچوں کی بھی بہت بڑی تعداد نے میچ دیکھا * ٹھیک 3 بجے کراچی کنگز کے باؤلر محمد عامر نے بال کراکے میچ کا آغاز کیا * فلڈ لائٹس آن ھوتے ھی اسٹیڈیم کی خوبصورتی میں چار چاند لگ گئے * ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں اسٹیڈیم کے باہر پھرتے رہے - * شاہد آفریدی کی بیٹنگ آتے ہی گراؤنڈ لالا کے نعروں سے گونج اٹھا -

مزید : صفحہ اول