آیئے مسکرائیں

آیئے مسکرائیں

  



٭ایک سردار ٹرین چلا رہا تھا کہ اچانک ٹرین زبردست جھٹکے کھانے لگا۔لوگ ڈر کے مارے چیخنے لگے اور سردار سے پو چھنے لگے کہ کیا ہوا؟

سردار نے کہا کہ پٹڑی پر آدمی تھا،تو لوگوں نے کہا کہ ایک آدمی کو بچانے کے لئے تم ہم سب کو مارنا چاہتے تھے،سیدھا ٹرین اس پہ ہی چڑھا دیتے۔

سردار نے جواب دیا کہ میں اس کو مارنے والا تھا لیکن وہ پٹڑی سے اتر کر کھیتوں میں دوڑنے لگا۔

میں نے بھی ٹرین کھیتوں میں اس کے پیچھے دوڑائی مگر وہ بچ گیا۔

٭ایک لڑکی اپنے محبوب سے پوچھنے لگی کہ جب تم کو میری یاد آتی ہے تو تم کیا کرتے ہو؟

لڑکا بولا:میں تمہاری پسندیدہ چاکلیٹ کھا لیتا ہوں۔

لڑکا اور تم کیا کرتی ہو

لڑکی:میں گولڈ لیف کے دو سگریٹ پی لیتی ہوں

٭گھر کا مالک ڈاکو سے "اتنی ساری چیزیں لوٹ گئے ہو۔یہ جائے نماز تو رہنے دو اس پر میں نماز پڑھتا ہوں۔

چور: کیا میں مسلمان نہیں؟ صرف تم نماز پڑھتے ہو۔

٭ایک آدمی سبزی منڈی گیا۔۔تو سبزی والا سبزی پر پانی چھڑک رہا تھا۔

جب بہت دیر ہوئی تو آدمی نے کہا کہ جب یہ ٹماٹر ہوش میں آجائیں تو 2 کلو تول دینا۔

٭بیوی: میں نے گدھوں پر ریسرچ کی ہے۔وہ اپنی گدھی کے سوا کسی دوسری گدھی کو دیکھتا تک نہیں!

شوہر: اسی لئے تو اْسے گدھا کہتے ہیں۔

٭پٹھان نے ایک بچے کو اغوا کیا اور ایک چٹ پر لکھا کہ 50 لاکھ روپے کل صبح تک پل کے نیچے رکھ دو۔پھر یہ چٹ بچے پر چسپاں کر کے بچے کو گھر واپس بھیج دیا۔۔دوسرے روز پٹھان پل کے نیچے گیا تو وہاں 50 لاکھ روپے جود تھے اور ساتھ ہی ایک چٹ تھی جس پر لکھا تھا۔۔۔ام کو پیسہ کا افسوس نہیں افسوس توبس یہ ہے کہ ایک پٹھان نے پٹھان کو لوٹا۔

٭ایک بیوی کو ابنے شوہر پر بہت پیار آیا تو بیوی نے کہا کہ آپ لاکھوں میں ایک ہو۔

شوہر نے بیوی کو ایک زوردار تپھڑ مارا اور پوچھا کہ یہ باقی 999 کون ہیں؟

٭ایک خاتون نے آئینہ میں اپنا عکس دیکھ کر دھیرے سے کہا، میں سچ مچ بد صورت ہوں. مجھ میں کونسی چیز ایسی ہے جس کی میرے شوہر تعریف کرسکتے ہیں؟

اتفاق سے شوہر اسی وقت کمرہ میں داخل ہوا اور بیوی کی بات سن لی. اس نے کہا:بیگم تمہاری نظر بہت اچھی ہے۔

٭ایک دوست نے دوسرے سے کہا دیکھو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔مشکلیں تو ہر شخص پر آتی ہیں بس ایک ہی سال کی بات ہے پھر تمام پریشانیاں دور ہو جائیں گی۔

پریشان دوست نے پوچھا وہ کیسے؟

دوسرے دوست نے تسلی دیتے ہوئے بڑے اطمینان سے کہا پھر اس کے بعد تمہیں عادت پڑ جائے گی۔

٭لڑکی جب بھی میں تم کو فون کرتی ہوں تو تم shave کرتے ہو۔یہ تم دن میں کتنے شیو کرتے ہو؟

لڑکا 50/60

لڑکی کیا تم پاگل ہو؟

لڑکا:نہیں میں نائی ہوں۔

٭ایک شوہر اپنی جیب میں اپنی بیوی کی تصویر کیوں رکھتا ہے؟کیونکہ جب کبھی وہ کسی مصیبت میں ہوتا ہے،وہ اپنی بیوی کی تصویر کو دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہاگر میں اسکو فیس کرسکتا ہوں تو میں ہر مصیبت کو فیس کر سکتا ہوں۔

٭ڈاکٹر: موٹاپے کا ایک ہی علاج ہے کہ تم روزانہ صرف 2 ہی روٹیاں کھایا کرو۔

مریض: ٹھیک ہے لیکن یہ 2 روٹیاں کھانے سے پہلے کھانی ہیں یا کھانے کے بعد؟

٭اْردو کے ٹیچر نے کہا۔ "بتاؤ یہ کون سا زمانہ ہے؟ میں ناچ رہا ہوں، تم ناچ رہے ہو، ہم سب ناچ رہے ہیں۔"

طالب علم: "سر! یہ بے غیرتی کا زمانہ ہے۔

٭ایک مقدمے میں گواہوں کے بیانات سننے کے بعد جج نے ملزم کے وکیل سے کہا کہ کیس تمھارے موکل کے خلاف جارہا ہے تم چاہو تو ملزم کو مزید کارروائی سے قبل اس کو الگ لے جا کر مناسب مشورہ دے دو۔یہ سن کر وکیل ملزم کو لے کر الگ چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وکیل اکیلے واپس آیا تو جج نے دریافت کیا کہ ملزم کہاں ہے؟

وکیل نے جواب دیا وہ تو بھاگ گیا میرا اسے یہی مشورہ تھا۔

٭ایک اداکارہ نے اپنے لیے ہیروں کا ایک ہار منتخب کیا جس کے لیے اسے رقم درکار تھی۔ وہ ایک سیاستدان کے پاس گئی اور کہنے لگی۔ آپ مجھے دس لاکھ روپے دے دیں، مجھے بہت سخت ضرورت ہے۔ میں پرسوں آپ کو لوٹا دوں گی۔ یہ میرا وعدہ ہے۔

سیاستدان نے اْسے رقم دے دی جس سے اس نے اپنا من پسند ہار خرید لیا۔

تیسرے دن اداکارہ وہی ہار پہن کر اور ایک عدد لوٹا لے کر سیاستدان کے گھر گئی اور بولی، یہ لیجئے میں حسب وعدہ آپ کو لوٹا دے رہی ہوں۔ سیاستدان بہت جزبز ہوئے تو وہ بولی، میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ " پرسوں آپ کو لوٹا دوں گی۔" رکھ لیں، ویسے بھی یہ آپ کے لیے بہت کام کی چیز ہے۔

٭ایک شہری بابو ایک گاؤں کے آم کے باغات کے قریب سے گذر رہا تھا اس نے گاڑی سے اتر کر آم توڑے گاڑٰی میں بیٹھا اور مالی کو چھیڑنے کیلئے کہنے لگا؛بابا جی غصہ نہیں کرنا میں نے آپ کے آم توڑلئے ہیں۔

بیٹا غصہ ہونے کی کوئی بات نہیں جب تم آم توڑ رہے تھے تو میں نے تمہاری گاڑی سے سپیئر وھیل اور جیک نکال کر ایک ٹائر کی ہوا نکال دی ہے مالی نے حقہ پیتے ہوئے جواب دیا۔

٭ایک آدمی رنگ برنگی جوتیوں کی بوری بھر کر لایا تو بیوی نے اس سے پوچھا " یہ سب کہاں سے لائے ہیں آپ؟"

شوہر نے کہا " تمہیں نہیں پتہ آج میری پہلی تقریر تھی۔

٭ایک شخص دکان میں داخل ہوتے ہی بولا: "ڈاکٹر صاحب! مجھے چشمے کی ضرورت ہے۔

دکان دار: "واقعی! کیونکہ یہ حلوائی کی دکان ہے۔

٭ایک شخص نے مکان کرائے پر لینا تھا۔ مالک مکان نے کہا تمہارے پاس کوئی شور کرنے والی چیز جیسے ٹیپ، ٹی وی، بچے وغیرہ تو نہیں ہیں۔

وہ بیچارا شاعر تھا اس نے کہا جب میں لکھتا ہوں تو رات کی خاموشی میں میرے قلم کے کاغذ پر چلنے سے ہلکی ہلکی سی آواز آتی ہے۔

مالک مکان نے کہا بس پھر وہ قلم چھوڑ کر آنا ہے تو آ جاؤ۔

٭ایک شخص دکان میں داخل ہوتے ہی بولا: "ڈاکٹر صاحب! مجھے چشمے کی ضرورت ہے۔

دکان دار: "واقعی! کیونکہ یہ حلوائی کی دکان ہے۔

٭بیٹا ماں سے: "امی جان آج میں نے دعوت میں اتنا کچھ کھایا ہے کہ دیوار کا سہارا لے کر گھر تک پہنچا ہوں۔"

ماں: "یہ تو کچھ بھی نہیں۔ تمہارے مرحوم ابا جب کسی دعوت میں جاتے تھے تو لوگ انہیں چارپائی پر اٹھا کر گھر چھوڑ جاتے تھے۔

٭اچانک بڑی شدت کا طوفان بادوباراں آگیا۔ درخت جڑوں سے اکھڑنے لگے، گاڑیاں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں، مکانوں کی چھتیں اڑنے لگیں۔

ایک غائب دماغ پروفیسر یہاں وہاں بھاگ کر لوگوں کو جمع کر رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے "ہمیں اب یہ سوچنا چاہئے کہ ایسی حالت میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟"

ایک صاحب ان کو پکڑ کر ایک طرف لے گئے اور بولے۔ "سب سے پہلے گھر جا کر پتلون پہننی چاہئے۔

٭بیٹا: (باپ سے)ابو جان آپ لمبے ہوتے جارہے ہیں۔

باپ: تمہیں کیسے پتا چلا؟

بیٹا: آپ کا سر بالوں سے نکلتا آ رہا ہے۔

٭ایک مقدمے میں جج نے ملزمہ سے پوچھا: تمہیں اپنے شوہر کو چائے میں زہر ملا کہ دیتے وقت ترس نہیں آیا؟

ملزمہ: آیا تھا۔۔ جب اس نے دوسری پیالی مانگی۔

٭ایک آدمی نے سڑک پر ایک پتھر پر لکھا ہوا دیکھا،پتھر اٹھائیے قسمت آزمائیے،اس نے پتھر اٹھایا تو لکھا تھا،کسی دوسرے بیوقوف کے لئے رکھ دیں۔

٭ایک خوبصورت لڑکی کے سر پہ صرف تین بال تھے۔ ایک دن وہ بیوٹی پارلر گئی بال سیٹ کروانے۔ پارلر میں موجود خاتون سے لڑکی نے کہا: ذرا میرے بال تو سیٹ کردیں۔

جب وہ بال سیٹ کرنے لگی تو ایک بال ٹوٹ گیا۔ اب دو بال رہ گئے۔

لڑکی نے کہا: اب چٹیا ہی کر دیں۔

جب وہ خاتون چٹیا کرنے لگیں تو دوسرا بال بھی ٹوٹ گیا۔ تو لڑکی نے کہا: "رہنے دیں میں کھلے بالوں میں ہی جاؤں گی۔

٭ایک پگڑی والے صاحب رات کے وقت موٹر سائیکل پہ جا رہے تھے سامنے ٹھنڈی ہوا چل پڑی تو رک کر اپنا کوٹ الٹا پہن لیا اور بٹن پیچھے کی طرف کر لئے اور موٹر سائیکل پر سوار ہوگئے۔ سردی سے بچنے کی اس ترکیب پر وہ اتنا خوش تھے کہ ڈھلوان پر موٹر سائیکل پھسل گئی اور وہ دھڑام سے نیچے آرہے۔ کچھ دیر بعد بہت سے لوگ وہاں پہ جمع ہو گئے دیکھا کہ صاحب مرے پڑے ہیں اور ایک آدمی ان کہ پاس کھڑا ہے۔

اس سے لوگوں نے پوچھا: "کیا ہوا ہے؟"

لڑکے نے جواب دیا: "جب میں پہنچا تو یہ کراہ رہے تھے میں نے جھک کر دیکھا تو پتا چلا کہ گردن مڑ گئی ہے میں نے زور لگا کر گردن سیدھی کی تب سے نہیں بولے۔

مزید : ایڈیشن 1