بلاول بھٹو پیپلز پارٹی کو پاؤں پر کھڑا کر سکیں گے؟

بلاول بھٹو پیپلز پارٹی کو پاؤں پر کھڑا کر سکیں گے؟

  



پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پر کم عمری میں ہی بہت بڑا بوجھ ان کے کندھوں پر آ گیا ہے وہ پیپلز پارٹی کے شہیدوں کے سیاسی وارث ہیں اور پیپلز پارٹی کے جیالوں کے دلوں کی دھڑکن ہیں تمام تر اختلافات کے باوجود پیپلز پارٹی ہی ایک قومی سیاسی جماعت ہے کہ جس کو اس کے سیاسی مخالفین بھی مانتے ہیں اور ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ اگر کسی سیاسی جماعت کی عوام کے اندر جڑیں ہیں تو وہ پیپلز پارٹی ہے جس نے ہمیشہ غریبوں کسانوں اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کے ساتھ اپنے تعلق اور رشتے کو کبھی بھی ٹوٹنے نہیں دیا اب بھی پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی یہ ہر وقت کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح سے اپنے کارکنوں کے ساتھ مکمل رابطے میں رہیں اور اسی سلسلے میں وہ لاہور آتے جاتے رہتے ہیں گزشتہ دنوں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے دورہ لاہور کے دوران مختلف سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور مرحلہ وار الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے لوگوں سے بھی تفصیل کے ساتھ تبادلہ خیال کیا وہ جب پارٹی کی مرکزی رہنما بیگم بیلم حسنین کے گھر گلبرگ میں ظہرانہ کے موقع پر ان کے گھر نادرا خاکوانی کے اس تاریخی گھر میں گئے جہاں پر کبھی محترمہ نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو بھی لاہور کے دورہ کے موقع پر وہاں قیام کیا کرتی تھیں تو اس موقع پر پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے چیئرمین پیپلز پارٹی کو اس گھر کے بارے میں انہیں تاریخی حقائق بتانا شروع کئے

او ر کہا کہ جب محترمہ بینظیر بھٹو شہید 10 اپریل 1986 کو لاہور تشریف لائی تھیں تو اس وقت ان کے تاریخی استقبالِ کی وجہ اس وقت لاہور کے صدر چوہدری اسلم گل تھے جب قمر زمان کائرہ نے چیئرمین سے یہ بات کہی تو اس وقت فوراً ہی وہاں پر موجود چیئرمین کے سینئر مشیر اور بھٹو خاندان کے فیملی ممبر بشیر ریاض نے مداخلت کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو کو بتایا کہ اس وقت چودھری اسلم گل نہیں بلکہ شیخ تاج دین لاہور کے صدر ہوا کرتے تھے جس پر اس موقع پر چیئرمین نے قمر زمان کائرہ کی طرف دیکھتے ہوئے خاموشی اختیار کرلی تاہم ٹھیک اسی دن سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک اور ٹویٹر پر بھی اس وقت کے جنرل سیکرٹری لاہور میاں منیر احمد نے بھی اپنا ایک وضاحتی بیان جاری کیا کہ اور کہا کہ جب شہید محترمہ بینظیر بھٹو 10 اپریل، 1986 کو لندن سے لاہور تشریف لائیں تھیں تو اس وقت اْنکا تاریخی استقبال ہوا اور اْس وقت پاکستان پیپلزپارٹی لاہور کے قائم مقام صدر شیخ تاج دین تھے اور میں اس وقت ان کے ساتھ ریگولر جنرل سیکرٹری لاہور کے کام کررہا تھا اور اْس وقت پاکستان پیپلزپارٹی لاہور کے 4 زون ہوا کرتے تھے۔

زون نمبر 4 کے قائم مقام صدر رانا عیش بہادر ایڈوکیٹ اور اسلم گل جنرل سیکرٹری تھے۔یہاں ضرروت اس امر کی ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری لاہور کے کونے کونے کا خود دورہ کریں اور اس دورے کے دوران وہ کسی بھی وجہ سے ناراض ہو کر گھروں میں بیٹھ جانے والے جیالوں کے پاس چلے جائیں تو وہ وقت دور نہیں کہ جب پھر سے پیپلز پارٹی اپنے پاؤں پر کھڑی ہونا شروع ہو جائے گی اس وقت پارٹی کے کارکنوں کی یہ شکایات رہتی ہیں کہ ابھی جن لوگوں کو چند دن ہی ہوئے ہیں پارٹی میں آئے ہوئے پنجاب کی قیادت ان لوگوں کی خوشی اور غم میں چیئرمین کو لیجاتے ہیں مگر پارٹی کے وہ جیالے جو نسل در نسل پارٹی کے ساتھ وفاداری نبھاتے آرہے ہیں ان کی طرف پنجاب کی قیادت چیئرمین کو آخر کس وجہ سے لیکر نہیں جارہی ہے ہونا تو یہ چاہئے کہ پارٹی کے سنئیر کارکنان جن میں واجد علی شاہ‘ بشارت صدیقی‘ عارف خان راؤ شجاعت علی‘ خالد بٹ‘ انجم بٹ اور مسرت صدیقی جیسے نامور جیالے شامل ہیں ان کے گھروں مین جانا چاہئے تاکہ ان جیالوں کا لہو گرمایا جا سکے۔

اسی طرح سے بلاول بھٹو کی نانی کے شانہ بشانہ کام کرنے والی پیپلز پارٹی کی سب سے بڑی جیالی بیگم شمیم خان نیازی جنہوں نے اپنی ساری زندگی پیپلز پارٹی کی خدمت کرتے ہوئے گذار دی ہیں اور وہ اس وقت شدید علیل ہیں بلاول بھٹو کو چاہئے کہ وہ بلا تاخیر ان کے گھر جا کر ان کی عیادت کریں اور ان کے پاس جا کر ان سے اپنی والدہ بے نظیر بھٹو اور اپنی نانی کے دور کی یادوں کو تازہ کریں تو یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ جس قدر بیگم شمیم خان نیازی پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان کی دیوانی ہیں وہ بلاول کو اپنے گھر دیکھ کر نہ صرف خوشی سے نہال ہو جائیں گی اور وہ اپنی بیماری کو بھی بھول جائیں گی اور چیئرمین کی جانب سے ایسا کرنے سے پارٹی کارکنوں کے اندر ایک نئی جان پڑ جائے گی اور ان کی پارٹی آہستہ آہستہ لاہور میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے میں ایک مرتبہ پھر کامیاب ہو جائے گی۔

مزید : رائے /کالم