بیوٹی پارلر میں نوکری کے بہانے دبئی لے جاکرجسم فروشی پر مجبور کرنے والا گروہ بے نقاب ، وہاں کتنی لڑکیاں پھنسی ہوئی ہیں افسوسناک خبر سامنے آگئی

بیوٹی پارلر میں نوکری کے بہانے دبئی لے جاکرجسم فروشی پر مجبور کرنے والا گروہ ...
بیوٹی پارلر میں نوکری کے بہانے دبئی لے جاکرجسم فروشی پر مجبور کرنے والا گروہ بے نقاب ، وہاں کتنی لڑکیاں پھنسی ہوئی ہیں افسوسناک خبر سامنے آگئی

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی دولڑکیوں کی مدد سے نوکری کے بہانے دبئی لے جا کر لڑکیوںکوجسم فروشی پر مجبورکرنے والا ایک گروہ بے نقاب ہوا ہے۔مذکورہ لڑکیوں کا کہنا ہے کہ انہیں بیوٹی پارلر میں ملازمت کاجھانسہ دے کر دبئی لے جایا گیا جہاں انہیں جسم فروشی پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم موقع ملتے ہی وہ وہاں سے فرار ہوگئیں جبکہ دس لڑکیاں ابھی بھی وہاں پھنسی ہوئی ہیں۔

ایف آئی اے گوجرانوالہ کے مطابق دبئی سے واپس آنے والی دو لڑکیوں رخسانہ کوثر اور میمونہ تاثیر کی درخواست پر چار رکنی گروہ کے خلاف مقدمہ درج کر کے عدیل نامی ایک ملزم کو لاہور سے گرفتار کیا گیا۔گروہ میں گرفتار ملزم عدیل، اس کی بیوی نائلہ، عبیدالرحمان اور شمائلہ شامل ہیں۔

متاثرہ لڑکیوں کا کہنا ہے کہ ملزمان بیوٹی پارلر میں نوکری کا جھانسہ دے کر دبئی لے گئے جہاں انھیں قید کر کے جسم فروشی پر مجبور کیا گیا، موقع پاتے ہی ہم بھاگ کر پاکستانی سفارتخانے پہنچیں جہاں سے واپس ہمیں بھجوایا گیا۔ متاثرہ لڑکی میمونہ تاثیر کے مطابق دبئی میں جہاں انھیں رکھا گیا وہاں اور بھی 10 لڑکیاں قید تھیں۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، دوسرے ملزمان کو بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

مزید : عرب دنیا /علاقائی /پنجاب /گوجرانوالہ /لاہور