بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نندن کی رہائی میں سعودی حکومت نے کردار ادا کیا تھا ؟ برطانوی میڈیا نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نندن کی رہائی میں سعودی حکومت نے کردار ادا کیا تھا ؟ ...
بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نندن کی رہائی میں سعودی حکومت نے کردار ادا کیا تھا ؟ برطانوی میڈیا نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

  



لندن(ویب ڈیسک) 27 فروری کو پاکستانی طیارہ گرانے کی کوشش میں اپنا طیارہ تباہ کروانے اور پھر پاکستان میں پکڑے جانیوالے بھارتی فضائیہ کے ونگ کمانڈر ابھی نندن کی واپسی کو تقریباً ایک سال مکمل ہوگیا ہے اور اب برطانوی میڈیا نے سوال اٹھایا ہےکہ کیا ابھی نندن کی رہائی میں سعودی عرب نے اہم کردار ادا کیا تھا کیونکہ ابھی نندن کی پاکستان موجودگی کے دوران ان کی اہلیہ سے جس نمبر سے رابطہ کروایا گیا تھا، وہ بظاہر سعودی عرب کا  تھا۔

بی بی سی اردو کے مطابق 28 فروری 2019 کو جب ابھینندن ورتمان کی اہلیہ تنوی ماروا کے موبائل فون پر سعودی عرب کے نمبر سے ایک کال آئی تو وہ حیران بھی ہوئیں اور پریشان بھی کیونکہ دوسری جانب سے لائن پر انھیں پاکستانی جیل میں قید ان کے شوہر ونگ کمانڈر ابھینندن کی آواز سنائی دی،آئی ایس آئی کی جانب سے یہ کال سعودی عرب سے روٹ کی گئی تھی۔

مبینہ طور پر ایک جانب پاکستانی اہلکار ابھینندن پر گھونسوں کی بوچھاڑ کر رہے تھے تو دوسری جانب ان کا ہی ایک آدمی ابھینندن کی اہلیہ سے فون پر ان کی بات کروا رہا تھا۔ جاسوسی کی دنیا میں اسے 'گڈ کاپ، بیڈ کاپ' تکنیک کہا جاتا ہے اور اس کا مقصد کسی شخص سے زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا ہوتا ہے۔پھر اسی روز عمران خان نے پاکستانی پارلیمان میں اعلان کیا کہ ان کا ابھینندن کو قید میں رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، وہ اسے چھوڑ رہے ہیں۔پاکستانی ارکانِ پارلیمان نے ویسے تو تالیاں بجا کر ان کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا لیکن کئی حلقوں میں سوال بھی اٹھے کہ کیا یہ سمجھداری کا فیصلہ ہے؟

رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں امریکہ کے علاوہ سعودی عرب نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ پلوامہ حملے کے بعد سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پہلے پاکستان کا دورہ کیا پھر انڈیا کا۔انڈیا کے دفاعی ماہرین کے خیال میں ان دوروں کے دوران شہزادہ سلمان نے سفارتی لحاظ سے ایک تنی ہوئی رسّی پر چلتے ہوئے پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں تعاون کی تعریف کی وہیں انڈیا میں انھوں نے وزیر اعظم مودی کی اس بات پر رضامندی کا اظہار کیا کہ دہشتگردی کو کسی بھی طرح جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

یہی نہیں سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اسلامی ممالک کے اجلاس میں اس دوران انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج سے بات کی لیکن انڈیا اور پاکستان کے درمیان اس معاملے کے حل میں سعودی عرب کی دلچسپی کی وجہ کیا تھی۔سعودی عرب میں انڈیا کے سفیر رہ چکے تلمیز احمد کا خیال ہے کہ 'سعودی عرب اپنے ایران مخالف اشتراک میں پاکستان کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی انڈیا کو ایران سے دور کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

کشیدگی کے دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ عادل الجبیر امن کا پیغام لے کر اسلام آباد گئے۔ اسی وقت انڈیا میں سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر سعود محمد نے وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی۔پلوامہ حملے سے قبل مودی حکومت نے سعودی حکومت کو بہت زیادہ توجہ دینی شروع کر دی تھی۔ شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ذاتی تعلقات مضبوط ہو چکے تھے۔ جب پلوامہ حملہ ہوا تھا تو سعودی حکومت نے پاکستان کا ساتھ دینے کے بجائے ایک سخت بیان جاری کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے کشیدگی کے بعد سیکیورٹی کونسل کے پانچ ممبران  ممالک سے رابطہ کیا  جنہوں نے بھارت سے بات چیت بھی کی، ان ممالک نے انڈیا سے پوچھا کہ کیا وہ طیارے کو گرائے جانے اور انڈین پائلٹ کو پاکستان میں قید کیے جانے کے خلاف کارروائی پر غور کر رہا ہے تو انڈیا نے جواب دیا کہ گیند اب پاکستان کے کورٹ میں ہے۔ اگر پاکستان چاہتا ہے کہ کشیدگی کم ہو تو اسے اس بارے میں اقدامات کرنے ہوں گے۔ انڈیا نے یہ بھی واضح کر دیا کہ اگر ابھینندن کو نقصان پہنچایا جاتا ہے تو پاکستان کو نتائج کا سامنا کرنا ہو گا۔ 

اسی دوران قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال نے امریکہ میں اپنے ہم منصب جان بولٹن اور وزیر خارجہ مائک پومپیو کو ہاٹ لائن پر بتایا کہ اگر ونگ کمانڈر ابھینندن کے ساتھ کوئی بھی بدسلوکی ہوتی ہے تو انڈیا کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔

مزید : بین الاقوامی