دہلی فسادات میں پولیس کے خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے پر بھارتی صحافی بھی برس پڑے

دہلی فسادات میں پولیس کے خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے پر بھارتی صحافی بھی ...
دہلی فسادات میں پولیس کے خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے پر بھارتی صحافی بھی برس پڑے

  



دہلی (ویب ڈیسک) سکھوں کے خلاف 1984 کے فسادات کے دوران رپورٹنگ کرنے والے بھارتی صحافیوں نے دلی کے حالیہ مسلم مخالف فسادات میں پولیس کے کردار پر سوال اٹھادئیے۔

فسادیوں کی پشت پناہی اور اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے والے تشدد کو نظر انداز کرنے کے رویے کو ایک جیسا قراردیا اور کہا کہ تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا مطلب انہیں تحفظ فراہم کرنا ہے۔صحافی سنجے سوری نے کہا کہ حکومت کے پاس اتنی طاقت ہوتی ہے کہ اگر وہ واقعی تشدد روکنا چاہے تو روک سکتی ہے۔ اگر فسادات کو قابو سے باہر نکلنے دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ شاید حکومت فسادات روکنا ہی نہیں چاہتی۔

صحافی راہول بیدی نے کہا کہ پولیس کا تشدد کرنے والوں خلاف کارروائی نہ کرنے کا مطلب فسادیوں کو شہ دینا ہے۔صحافی پرکاش پاترا نے پولیس کے ا±س وقت اور دلی فسادات کے دوران رویے کو ایک جیسا قراردیا، ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے والے تشدد کو نظر انداز کرنے کی روش اپنائی۔واضح رہے کہ بھارتی دارالحکومت نئی دلی میں جاری مسلم کش فسادات کے تین زخمی آج دم توڑ گئے، جس کے بعد ان فسادات میں ہلاکتوں کی تعداد 42 تک جاپہنچی ہے۔

مزید : بین الاقوامی