سپین میں ٹریفک حادثے میں 5 پاکستانی جاں بحق لیکن دراصل یہ کون تھے؟ پورے علاقے میں کہرام مچ گیا

سپین میں ٹریفک حادثے میں 5 پاکستانی جاں بحق لیکن دراصل یہ کون تھے؟ پورے علاقے ...
سپین میں ٹریفک حادثے میں 5 پاکستانی جاں بحق لیکن دراصل یہ کون تھے؟ پورے علاقے میں کہرام مچ گیا

  



میڈرڈ (ویب ڈیسک) اسپین کے شہر ثارا غوثا کے نواحی علاقے کاس پے میں ہونے والے ٹریفک حادثے میں پانچ پاکستانی جاں بحق ہوگئے۔ حادثے کا شکار ہونے والوں میں وین ڈرائیور بھی شامل ہے۔وین کے ڈرائیور زین بٹ کی عمر 19 سال تھی اور وہ کاس پے کا رہائشی تھا۔ دیگر جاں بحق افراد میں شوکت علی، ظفر اقبال، محمد ارشد رانجھا اور پرویز احمد شامل ہیں۔

8 پاکستانی محنت کش اسپین کے شہر ثارا غوثا کے قریب منی وین میں سوار ہو کر کام پر جا رہے تھے کہ وین سامنے سے آنے والے بڑے ٹریکٹر سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں 3 افراد موقع پر جان کی بازی ہار گئے جبکہ حادثے سے اگلے دن ارشد رانجھا اور زین بٹ بھی جانبر نہ ہو سکے، مرحومین کا تعلق زراعت کے شعبے سے تھا اور وہ آڑو کے باغات میں کام کرتے تھے۔

ان تمام افراد کا تعلق ضلع منڈی بہاﺅالدین کے مختلف دیہات سےتھا۔ حادثے کی وجہ کے حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ یا تو ڈرائیور پر نیند کا غلبہ ہوگیا تھا یا پھر سامنے سے طلوع ہوتے ہوئے سورج کی کرنیں اس کی آنکھوں میں پڑیں جس سے ٹریکٹر دکھائی نہ دیا اور وین اس ٹریکٹر سے ایک دھماکے کے ساتھ جا ٹکرائی۔

ہسپانوی ادارے اس حوالے سے تفتیش کر رہے ہیں تاکہ ایکسیڈنٹ کے محرکات کا پتا لگایا جا سکے۔ وین میں سوار دیگر 3 زخمی پاکستانی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیرعلاج ہیں۔ واضح رہے کہ کاس پے بارسلونا سے تقریباً 3سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

جنازے میں شرکت کے لیے پاکستان کے بارسلونا میں قونصل جنرل عمران علی چوہدری اور دوسرے سیاسی و سماجی کارکنان بارسلونا اور دوسرے شہروں سے کاس پے پہنچے تھے۔ مقامی بلدیہ کے ہسپانوی نمائندے اور حکام بھی نماز جنازہ میں اظہار افسوس کے لئے موجود تھے۔قونصل جنرل عمران علی چوہدری نے مرحومین کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا اور میتوں کو فوری طور پر پاکستان بھجوانے کے انتظامات کو یقینی بنایا، اس موقع پر پاکستانیوں کی تدفین کمیٹی کے انچارج حاجی نوید وڑائچ بھی قونصل جنرل بارسلونا کے ہمراہ تھے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق قونصل جنرل بارسلونا کا کہنا تھا کہ حادثے کا سن کر بہت دکھ ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستانی دیارغیر میں محنت مزدوری کے لئے آتے ہیں اور جب یہاں ا±ن کی میت کو پاکستان واپس بھیجا جاتا ہے تو قیامت کا منظر ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں موجود پاکستانی کمیونٹی اپنی لائف انشورنس ضرور کرائے تاکہ وفات کی صورت میں میت کو بر وقت پاکستان بھجوایا جاسکے اور مقامی اداروں کے واجبات ادا ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپ سے پاکستان میت بھجوانے پر تقریباً چار سے پانچ ہزار یورو خرچ ہوتے ہیں جو یہاں میت کو کلیئر کرنے والے اداروں کو دینے پڑتے ہیں۔

سفیر پاکستان میڈرڈ خیام اکبر، ہیڈ آف چانسلری دانش محمود بزنس قونصلر عرفان علی اور سفارت خانہ پاکستان میں تعینات تمام عملے نے پاکستانیوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔مسلم لیگ ن اسپین کے صدر حاجی اسد حسین، آرگنائزر چوہدری محمد ادریس، چیئر مین میاں محمد اظہر سمیت سماجی اور سیاسی افراد نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار افسوس کرتے ہوئے مرحومین کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی۔

مزید : بین الاقوامی