بھارت میں فسادات کے دوران مسلمان پڑوسیوں نے ہندو دلہن کی شادی رکنے سے بچالی

بھارت میں فسادات کے دوران مسلمان پڑوسیوں نے ہندو دلہن کی شادی رکنے سے بچالی
بھارت میں فسادات کے دوران مسلمان پڑوسیوں نے ہندو دلہن کی شادی رکنے سے بچالی

  



نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے فسادات کے دوران مسلمان پڑوسیوں نے ہندو دلہن کی شادی رکنے سے بچالی اور با حفاظت دلہن کو رخصت کروا دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق، دہلی کے مسلم اکثریت والے ضلع چاند باغ میں ساویتری پرساد نامی ہندو لڑکی کی شادی ہونی تھی لیکن دہلی میں جاری فسادا ت کی وجہ سے یہ شادی ہونا ناممکن نظر آرہا تھا۔بھارتی میڈیا کے مطابق 23 سالہ ساویتری پرساد نے بتایا کہ شادی سے ایک دن پہلے تک اس کے علاقے میں حملہ آوروں کی طرف سے جلاﺅ گھیراﺅ ہو رہا تھا جس کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ اس کی شادی نہیں ہو سکے گی۔

ساویتری نے بتایا کہ شادی سے ایک دن پہلے اس نے اپنے ہاتھوں پر اِس امید سے مہندی لگائی کہ شاید کل حالات بہتر ہوجائیں گے اور اس کی شادی خیریت سے ہوجائے گی۔ہندو دلہن نے بتایا کہ جب رات تک حالات بہتر نہ ہوئے تو اس کے والد نے دولہے والوں سے کہا کہ یہاں بہت خطرہ ہے اِس لیے منگل کو شادی نہیں ہوسکے گی۔ہندو دلہن نے بتایا کہ یہ سن کر وہ بہت روئی کہ اس کی شادی دہلی فسادات کی نذر ہوگئی ہے۔

ساویتری نے بتایا کہ جب اس کے مسلمان پڑوسیوں کو یہ معلوم ہوا تو انہوں نے میرے والد سے کہا کہ آپ شادی منسوخ نہیں کریں، ہم اپنی بہن کی حفاظت کریں گے اور شادی منگل کو ہی ہوگی۔ساویتری نے بتایا کہ میرے مسلمان بھائیوں نے میری حفاظت کی اور میری شادی منگل کے دن ہی کروائی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق جس وقت پھیرے ہو رہے تھے، دلہن کے مسلمان پڑوسی گھر کے باہر پہرا دیئے کھڑے رہے اور دلہا دلہن اور اس کے گھر والوں کی حفاظت کرتے رہے۔

دلہن کے والد نے میڈیا کو بتایا کہ اس کی بیٹی کی شادی میں اس کے رشتے دار تو شریک نہیں ہو سکے لیکن اس کے مسلمان پڑوسی بھائیوں نے شرکت کرکے ان کی کمی پوری کردی۔ساویتری کے والد نے بتایا کہ اس کے علاقے میں ہندو اور مسلمان سب ایک کنبے کی طرح رہتے ہیں اور ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے فسادات کی وجہ سے نظامِ زندگی درہم برہم ہوگیا ہے اور ایک شخص خوف میں مبتلا ہے، دہلی فسادات میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 42 ہوگئی ہے جبکہ 350 سے زائد افراد زخمی ہیں۔

مزید : بین الاقوامی