"ریلوے ٹریک پر پھاٹک بنانا صوبائی حکومتوں کا کام ہے" روہڑی حادثے کے بعد شیخ رشید لاتعلق ہوگئے، ملبہ صوبائی حکومت پر ڈال دیا

"ریلوے ٹریک پر پھاٹک بنانا صوبائی حکومتوں کا کام ہے" روہڑی حادثے کے بعد شیخ ...

  



لاہور(ویب ڈیسک) وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ ریلوے ٹریک پر پھاٹک بنانا صوبائی حکومتوں کا کام ہے۔لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران شیخ رشید احمد نے کہا کہ روہڑی حادثے کا شدید افسوس ہے، ریلوے ٹریک پر پھاٹک بنانا صوبائی حکومتوں کا کام ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سے درخواست ہے کہ بغیر گارڈ کے پھاٹک ختم کریں۔ 10 مئی کو ایم ایل ون کا فیصلہ آ جائے گا، ایم ایل ون شروع ہو گیا تو مسائل ختم ہو جائیں گے، مئی سےکراچی تا پشاور تمام ریلوے پھاٹک ختم کر دیئے جائیں گے، ریلوے ٹریک کے دونوں طرف باڑ لگ جائے گی ریلوے کراسنگ ختم ہونے سےٹرینوں کی رفتار 160 کلو میٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ میرا وعدہ ہے کہ پانچ سال میں ریلوے نفع بخش ادارہ بن جائے گا، 9 مارچ سے 2 ماہ کے لیے اے سی بزنس اور اے سی اسٹینڈرڈ کرایہ 10 فیصد کم ہو گا۔ یہ رعایت 15رمضان المبارک تک دی گئی ہے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میری بچوں کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں ہے، وزیراعظم عمران خان الیکٹڈ ہیں، زیادہ تر سیاستدان جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر 4 کی پیداوار ہیں، ذوالفقارعلی بھٹو سلیکٹڈ وزیراعظم تھے، چیلنج ہے اس پر مباحثہ کرلیں، وہ ایوب خان کو ڈیڈی کہتے تھے اور اپنی اس بات پر قائم ہوں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نواز شریف کے علاج پر پنجاب حکومت سیاست نہیں کر رہی جو مرضی کرلیں نوازشریف واپس نہیں آئیں گے اور مریم نواز باہر نہیں جائیں گی۔ مریم چلی گئیں تو پورا ٹبر ہی باہر چلا جائے گا ، شہباز شریف نے مارچ میں پاکستان آنے کا کہا تھا، اب کوئی باہر سے آیا تو کورونا وائرس کی وجہ سے اسے 14 دن کیلئے الگ رکھنا پڑے گا۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور