حصول و قیام پاکستان کے وقت قائداعظم کا دو قومی نظریہ بالکل صحیح تھا: عبدالقیوم اعوان

حصول و قیام پاکستان کے وقت قائداعظم کا دو قومی نظریہ بالکل صحیح تھا: ...
حصول و قیام پاکستان کے وقت قائداعظم کا دو قومی نظریہ بالکل صحیح تھا: عبدالقیوم اعوان

  



دبئی (طاہر منیر طاہر) موجودہ حکومت اتنی توجہ ملکی امور کی طرف نہیں دے رہی جس قدر توجہ اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لئے دے رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے حکومتی ارکان اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ اپنے سیاسی مخالفین کو ہر طریقے سے دبانا چاہتی ہے تاکہ ان پر کوئی تنقید کرنے والا نہ رہے اور وہ کھل کر کھیل کھیلیں، لیکن ایسا نہیں ہوگا بلکہ اپوزیشن تمام تر سختیوں کے باوجود اپنا مثبت کردار ادا کرتی رہے گی۔ ان خیالات کا اظہار سابق جنرل عبدالقیوم اعوان نے گزشتہ روز دبئی میں اپنے اعزاز میں دئیے گئے ایک عشائیہ کے دوران کیا۔

عبدالقیوم اعوان کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام پی ایم ایل این یو اے ای کے صدر چودھری محمد الطاف نے اپنی رہائش گاہ پر کیا تھا جس میں پی ایم ایل دبئی کے صدر چودھری ظفر اقبال، راس الخیمہ سے شیخ محمد عارف، رضا شاہد، راجہ ابوبکر آفندی، غلام محی الدین، رانا محمد یوسف، راجہ خالد محمود، محمد نعیم، عاشق سواتی، فضل حسین، راجہ طارق محمود، عارف عامر منہاس، زبیر گل، سردار آصف کریم اور پی پی پی کے چودھری انیس الرحمن نے شرکت کی۔ اس موقع پر شیخ محمد عارف، چودھری محمد الطاف، چودھری ظفر اقبال اور راجہ ابوبکر آفندی نے خطاب بھی کیا۔

شرکائے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبدالقیوم اعوان نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت بانی پاکستان قائداعطم محمد علی جناح نے جو دو قومی نظریہ پیش کیا تھا وہ آج سچ ثابت پہورہا ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں پر جس قدر مظالم ڈھائے جارہے ہیں وہ قابل مذمت ہیں۔ بھارتی سرکار کو تشدد بند کرنے کا نوٹس لینا چاہیے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے بالکل صحیح کہا تھا کہ مسلمانوں کے لئے علیحدہ ملک ضروری ہے جس میں وہ مذہبی آزادی کے ساتھ رہ سکیں۔ آج ہم خوش قسمت ہیں کہ قائداعظم کی کوششوں سے آج ہم پاکستان میں آزادانہ زندگی گزاررہے ہیں۔

پاکستان کل بھی مضبوط تھا، پاکستان آج بھی مضبوط ہے کیونکہ پاکستان دفاعی اعتبار سے مضبوط ہاتھوں میں ہے تاہم ہمیں بھی چاہیے کہ ہم پاکستان کی مضبوطی، سالمیت اور استحکام کے لیے اپنے حصہ کا فرض ادا کریں۔ ریٹائرڈ جنرل عبدالقیوم نے کہا کہ موجودہ حکومت پی ایم ایل این کی لیڈر شپ کے خلاف قائم کیے گئے مقدمات میں کوئی ثبوت و شواہد پیش نہیں کرسکی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت بوکھلاہٹ کا شکا رہے اور سیاسی مخالفین کو بلا جواز نشانہ بنارہی ہے۔

مزید : عرب دنیا /تارکین پاکستان