’نواز شریف بطور وزیر اعلیٰ کرکٹ کھیلنے آتے تو کمشنر لاہور امپائر اور ڈی آئی جی لیگ امپائر ہوتے، وہ آؤٹ ہوتے تو لیگ امپائر نو بال دے دیتا، آج وہی لیگ امپائر ن لیگ کے ٹکٹ پر سینیٹر ہے‘

’نواز شریف بطور وزیر اعلیٰ کرکٹ کھیلنے آتے تو کمشنر لاہور امپائر اور ڈی آئی ...
’نواز شریف بطور وزیر اعلیٰ کرکٹ کھیلنے آتے تو کمشنر لاہور امپائر اور ڈی آئی جی لیگ امپائر ہوتے، وہ آؤٹ ہوتے تو لیگ امپائر نو بال دے دیتا، آج وہی لیگ امپائر ن لیگ کے ٹکٹ پر سینیٹر ہے‘

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر صحافی اور  معروف  ٹی وی اینکر پرسن حامد میر  نے کہاہے کہ میں پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کھیل چکا ہوں، شہباز شریف کے کہنے پر ٹیم سے نکال دیا گیا تھا،نواز شریف جب وزیر اعلیٰ تھے تو میں نے اُن  کے  ساتھ کرکٹ کھیلی ہے، یہ بڑے عجیب میچ ہوتے تھے کیونکہ نوازشریف صرف بیٹنگ  کے لئے آتےتھے وہ  فیلڈنگ نہیں کرتے تھے جبکہ کمشنر اور ڈی آئی جی لاہور ایمپائرنگ کے فرائض سرانجام دیتے تھے اور نواز شریف کے آؤٹ ہونے پر سامنے کی بجائے  لیگ ایمپائر نو بال  دے دیتا تھا ،وہ  ڈی آئی جی ایمپائر آج کل ن لیگ کے ٹکٹ پر  سینیٹر ہے، شہباز شریف فرماں بردار بھائی ہیں جنہوں نے اپنے بڑے بھائی کے لئے 9 بار وزارت عظمیٰ کی آفر ٹھکرا دی تھی۔

  تفصیلات کے  مطابق  نجی ٹی وی ’’اےآر وائے نیوز‘‘ کے پروگرام میں ماضی کی  حسین یادوں کو  تازہ کرتے ہوئے سینئر  صحافی حامد میر نے دلچسپ انکشاف  کیا  اور کہا  کہ صحافت کے شعبہ میں قدم رکھنے سے قبل میں ایک اچھا کرکٹر تھا، مجھے کرکٹ کھیلنے کا بہت شوق تھا اور پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ بھی کھیل چکا ہوں، جب میں  جوان تھا تو لاہور کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلا کرتا تھا ، تب مجھے لاہور کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر شہباز شریف جو اُس وقت سیاست میں نہیں آئے تھے  نے پچ اکھاڑنے کے الزام میں مجھے ٹیم سے نکال دیا تھا،یہ واقعہ کچھ  ایسےتھا  کہ  ایک مرتبہ لاہور اور کراچی کے درمیان میچ سے قبل پچ اکھاڑ دی گئی تھی، جس کا الزام گراؤنڈ مین نے پاکستان کےسابق کرکٹر عامر سہیل پر لگایا اور مجھ  پر شک کا اظہار کیا گیا،اس واقعے کے بعد اس وقت ایل سی سی اے کے صدر شہباز شریف نے عامر سہیل پر ایک سال کی پابندی عائد کر دی تھی جبکہ مجھے ٹیم سے نکال دیا گیا تھا، بعد ازاں مجھ پر لگایا گیا الزام ثابت نہیں ہوا، تاہم پھر بھی مجھے ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا تھا،جب میرے والد صاحب کا انتقال ہوا، تو بڑا بھائی ہونے کی وجہ سے مجھ پر کافی ذمہ داریاں آن پڑی تھیں، اسی لیے میں نے پھر کرکٹ کو خیرباد کہہ دینے کا فیصلہ کیا اور شعبہ  صحافت میں عملی طور پر آ گیا ۔

حامد میر نے ماضی  کی ایک اور یاد تازہ  کرتے ہوئے کہا کہ میں نے مسلم  لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے ساتھ   بھی کرکٹ کھیلی ہے،جب میں گورنمنٹ کالج  لاہور کی  ٹیم میں  تھا تو ہماری  ٹیم کا  میچ لاہور  جمخانہ کلب سے ہوتا تھا ،میں ماڈل ٹاؤن کلب میں بھی تھا  لہذا کبھی لاہور جمخانہ کلب کا  میچ ماڈل  ٹاؤن کلب سے بھی ہوتا تھا  ،یہ بڑے عجیب میچ ہوتے تھے کیونکہ نوازشریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے اور وہ صرف بیٹنگ   کرتے تھے فیلڈنگ نہیں کرتے تھے ،جب وہ بیٹنگ کرنے آتے تھے تو سامنے والا ایمپائر کمشنر لاہور اور لیگ ایمپائر ڈی آئی جی لاہور ہوتے تھے،نواز  شریف آؤٹ ہوتے تو سامنے والے ایمپائر کی بجائے لیگ ایمپائر  نوبال دے دیتا تھا۔اُنہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ایک ایمپائر تھا جو  اُس وقت ڈی آئی جی تھےاور بعد میں آئی جی بنےجبکہ آج کل وہ ن لیگ کے ٹکٹ پرسینیٹر ہیں لیکن وہ اچھےآدمی ہیں۔

ایک اور سوال کےجواب میں اُنہوں نےکہاکہ شہبازشریف فرماں برداربھائی ہیں،شہبازشریف نے1992سےلےکر2018 تک اپنےبڑےبھائی نواز شریف کیلئے 9 بار وزارت عظمیٰ ٹھکرا دی،اگر شہباز شریف صاحب مان جاتے تو  وہ  2018 میں وزیر اعظم ہوتے، وہ نہیں بنے تو  پھرعمران خان وزیر اعظم  بن گئے۔

مزید : کھیل