اعلیٰ تعلیم کے ساتھ امریکہ جانے اور مزید سیاحت کا موقع مل رہا تھا، سفری دستاویز مکمل کیں واپڈا سے استعفٰی دے کر لاہور آگیا اور امریکہ کا ویزہ لگوا لیا 

اعلیٰ تعلیم کے ساتھ امریکہ جانے اور مزید سیاحت کا موقع مل رہا تھا، سفری ...
اعلیٰ تعلیم کے ساتھ امریکہ جانے اور مزید سیاحت کا موقع مل رہا تھا، سفری دستاویز مکمل کیں واپڈا سے استعفٰی دے کر لاہور آگیا اور امریکہ کا ویزہ لگوا لیا 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:27
مجھے یہاں ایک واقعے سے اپنے دیہاتوں میں اپنائے گئے سماجی تانے بانے دیکھنے اور سمجھنے کا اتفاق ہوا۔ ہم لوگ اس ڈیرے پر ایک چارپائی کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے جس پر احمد خان کے چچا تشریف رکھے ہوئے تھے۔ چلیں ہم اُنھیں چوہدری صاحب کہہ لیتے ہیں۔ وہ ایک بہت ہی عبادت گزار اور پرہیز گار شخص تھے جو پنج وقتہ نمازی تھے اور انھوں نے شریعت کے مطابق داڑھی بھی رکھی ہوئی تھی۔ قسمت کا مارا ایک میراثی، جس کو دیہاتی معاشرے میں بہت نچلے درجے کا فرد سمجھا جاتا ہے، چوہدری صاحب کی چارپائی کے ایک کونے پر بیٹھ گیا۔ چوہدری صاحب یہ دیکھ کر آگ بگولا ہوگئے اور چیخ کر کہا کہ”تمہاری ہمت کیسے ہوئی کہ تم میرے ساتھ اس چارپائی پر بیٹھو“۔ وہ گھبرا کر جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور چوہدری صاحب سے اپنی اس حرکت کی معافی چاہی۔ لیکن ان کا غصہ کسی طور کم نہ ہوا۔ میں بڑی دیر تک یہ سوچتا رہا کہ اگر ایک مذہبی اور دین آشنا انسان کا رویہ ایسا ہے تو دوسرے عام لوگ ان غریبوں کے ساتھ کیا کچھ نہ کرتے ہوں گے بہر حال وہ  میراثی سر جھکائے ہوئے وہاں سے چلا گیا وہ اپنی اس غلطی پر بہت شرمندگی محسوس کر رہا تھا۔ 
یہ ذات برادری کی بناء پر استحصال کی ایک جھلک تھی جو ابھی تک ہمارے معاشرے میں جڑیں پکڑے بیٹھی ہے حالانکہ اسلام نے اسی روئیے کو 1400 سال پہلے مسترد کر دیا تھا اور سب انسانوں کو برابر کا رتبہ دینے کی بات کی تھی۔ ایسی صورت حال سندھ اور بلوچستان میں اور شدت سے پائی جاتی ہے کیونکہ نام نہاد نچلے طبقے کے لوگ وہاں کے وڈیروں اور زمینداروں کے چنگل میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔ اور ان کے رحم و کرم پر جیتے ہیں۔ دنیوی اور دینی تعلیم سے اس نظام کو کسی حد تک درست کیا جا سکتا ہے مگر اس طرف کسی کا دھیان ہی نہیں جاتا۔  
احمد خان اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ ایک پر لطف اور یاد گار وقت گزرا۔ وہاں سے گھر واپسی کا سفر بھی ویسا ہی تکلیف دہ تھا جیسا کہ جاتے وقت  تھا۔ اس کے بعد بھی میرا کئی دفعہ وہاں آنا جانا رہا لیکن میں وہاں ٹھہرتا نہیں تھااور اسی دن واپس آجاتا تھا۔  
 مجھے لگتا تھا کہ اب میں خود کمانے کھانے کے قابل ہو گیا ہوں اس لیے سوچا کہ میاں جی کو اب اس بڑی ذمہ داری سے نجات دلا دوں۔ میں نے اس سلسلے میں مختلف ترجیحات پر غور شروع کر دیا۔
مشی گن اسٹیٹ  یونیورسٹی (امریکہ)
جب انٹرویو اور ٹیسٹ کے ایک طویل سلسلے کے بعد مجھے فورڈ فاؤنڈیشن کی طرف سے اربن پلاننگ میں پوسٹ گریجویشن کے لیے وظیفہ ملا تو میں ان دنوں شورکوٹ روڈ میں ایک نہری منصوبے پر اسسٹنٹ انجنیئر کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔ ہر چند کہ مجھے اس کام کا ذرا سا بھی علم نہ تھا اور نہ ہی کوئی دلچسپی، پھر بھی میں نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا سوچا،اس لیے بھی کہ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ مجھے امریکہ جانے اور یوں مزید سیاحت کا موقع بھی مل رہا تھا جو بچپن ہی سے میرا ایک خواب تھا۔ میں نے سفری دستاویز مکمل کیں اور واپڈا سے استعفٰی دے کر لاہور آگیا جہاں سے میں نے اپنی زندگی کا پہلا پاسپورٹ حاصل کیا اور اس پر امریکہ کا ویزہ لگوا لیا۔ میں نے اس سلسلے میں کچھ ڈالر حاصل کرنے کے لیے حکومت کو درخواست دی، کیونکہ آج کل کی طرح تب کھلی مارکیٹ میں غیر ملکی کرنسی نہیں ملا کرتی تھی۔ ایک طویل اور تھکا دینے والے عمل کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان اسلم مغل پر مہربان ہو گیا اور اسے امریکہ جانے کے لیے ایک نہ دو، پورے 5ڈالر کی خطیر رقم دینے کی منظوری دے دی۔ اب آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ 1960کی دہائی میں پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی کیا حالت ہوگی۔ گو ہم ترقی کا ایک طویل سفر کر آئے ہیں لیکن آج تک کسی حکومت نے بھی سنجیدگی سے زر مبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کی کوشش ہی نہیں کی۔
 (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -