باصلاحیت افراد کی کثیر تعداد زندگی کی دوڑ میں صرف ان لوگوں کے باعث پیچھے رہ جاتی ہے جو مسلسل یہ باور کراتے رہتے ہیں ”زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کرو“ 

 باصلاحیت افراد کی کثیر تعداد زندگی کی دوڑ میں صرف ان لوگوں کے باعث پیچھے رہ ...
 باصلاحیت افراد کی کثیر تعداد زندگی کی دوڑ میں صرف ان لوگوں کے باعث پیچھے رہ جاتی ہے جو مسلسل یہ باور کراتے رہتے ہیں ”زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کرو“ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:14
باصلاحیت افراد کی ایک کثیر تعداد، زندگی کی دوڑ میں صرف ان لوگوں کے باعث پیچھے رہ جاتی ہے۔ جو انہیں مسلسل یہ باور کراتے رہتے ہیں ”زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کرو۔“ میرے خیال میں یہ امر نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے کہ بہت سے کامیاب صحافی اور مصنف روایتی طور پر لکھنا نہیں جانتے تھے، مزیدبرآں تمام کامیاب مصور، مصوری نہیں جانتے تھے اور نہ ہی تمام کامیاب اداکاروں نے کالج میں اداکاری کی تعلیم حاصل کی۔
اس نصیحت اور مشورے کو قبول کرنے سے پہلے ایک نہیں بلکہ دو بار سوچیں۔اس پر غور کریں ”دوبارہ سکول داخل ہو جاؤ اور زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کرو۔“
آپ کے خواب چکنا چور کرنے والے افراد کی دوسری قسم: اس قسم کے لوگ آپ کو مسلسل یہ باور کراتے رہتے ہیں کہ آپ کے پاس اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے مناسب اور کافی سرمایہ نہیں ہے۔ بیسویں صدی کے اوائل تک کئی ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنے کے متعلق خواب تک نہیں دیکھا۔ اور اس سے پہلے کئی ایسے مالکان ہوں گے جن کے اپنا کاروبار شروع کرنے کے خواب لوگوں کے یہ کہنے کے باعث منتشر ہوگئے ”تمہارے پاس اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنے کے لیے مناسب سرمایہ نہیں ہے، لہٰذا اس خیال کو ترک کر دو۔“
اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنے کے لیے سرمایہ کی کمی یا عدم موجودگی کا بہانہ ان لوگوں نے تراشا ہے جو خواب دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور وہ اپنی تخیلی اور تصوراتی تخلیقی قوت کو استعمال کرنے کی صلاحیت و قوت سے محروم ہیں۔ 3 سال پہلے ایک نوجوان خاتون میرے پاس آئی اور مجھ سے مدد چاہی۔ اس کا خواب یہ تھا کہ اچھے نفیس قسم کے بلاؤز تیار کرے اور خود ہی انہیں فروخت بھی کرے۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس ضمن میں اس نے ایک اکاؤنٹنٹ کے علاوہ سمال بزنس ایڈمنسٹریشن (Small Business Administration) کے ایک نمائندہ کے ساتھ گفتگو اور مشورہ کیا ہے، جنہوں نے بتایا کہ اس قسم کے کاروبار کا آغاز کرنے کے لیے ابتدائی طور پر 150,000اور 200000 ڈالر کے درمیان سرمائے کی ضرورت ہے۔
اس نے مجھ سے پوچھا ”ڈاکٹر شیوارڈز، اس رقم کے حصول کی کچھ صورت ہو سکتی ہے؟“
میں نے اس خاتون سے پوچھا: ”تمہارے پاس کتنی رقم موجود ہے؟“
خاتون نے جواب دیا ”تقریباً 5 ہزار ڈالر میرے پاس موجود ہیں۔“
میں نے کہا:”بہت خوب، اگر تم اپنے تصور اور خواب کو واقعی حقیقت میں تبدیل کرنا چاہتی ہو ”تو تم اپنا کاروبار محض 5 ہزار ڈالر کے سرمائے کے ذریعے بھی شروع کر سکتی ہو۔“ میں نے پھر اسے بتلایا کہ وہ ایک بلاوز تیار کرنے والے ادارے کے پاس جائے، انہیں اپنے تیار کردہ بلاؤز کے نمونے دکھائے اور ان سے پوچھے کہ وہ ادارے کے سیلز ایجنٹوں کے ذریعے کس قدر کمیشن کی ادائیگی پر یہ بلاؤز فروخت کر سکتی ہے۔
اس حیرت انگیز اور شاندار داستان کو مختصر کرتے ہوئے میں آپ کو بتاتا چلوں کہ صرف تین سال کی مدت کے دوران اس خاتون نے اپنے تخیل اور خواب کو پانچ ملین ڈالر سالانہ کے کاروبار میں تبدیل کر دیا۔ اور پھر اس کے خواب اور تخیل کا دائرہ وسیع ہوتا چلاگیا۔ اب اس نے اپنے کاروبار کے متعلق یہ ہدف مقرر کیا ہے کہ3 برس کے اندر اندر 50 ملین ڈالرز سالانہ کے منافع پر مبنی کاروباری سرگرمیوں کا اجراء کیا جائے۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -