ہماری تو زبانیں ہی گنگ تھیں جو اپنی آنتوں کی ویرانی کا گِلہ شکوہ زبان پر لائیں، سب خواتین اپنی ”ساسوں اور نندوں“ پر ریسرچ کرنے لگیں 

 ہماری تو زبانیں ہی گنگ تھیں جو اپنی آنتوں کی ویرانی کا گِلہ شکوہ زبان پر ...
 ہماری تو زبانیں ہی گنگ تھیں جو اپنی آنتوں کی ویرانی کا گِلہ شکوہ زبان پر لائیں، سب خواتین اپنی ”ساسوں اور نندوں“ پر ریسرچ کرنے لگیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ع۔ غ۔ جانباز 
 قسط:60
ہمارے وزٹ کا ایک اور مقصد یہ بھی تھا کہ گریماں کے میاں وویک سے تبادلہ خیال کیا جائے کہ یکم نومبر 2015ء کو ایک تو میں اپنا 85 واں برتھ ڈے مناؤں گا اور دُوسرا اپنے ناول ”پریتی“ کی رونمائی کی تقریب بھی یہاں منعقد کرنے کا پروگرام ہے۔ اُس کا چونکہ دائرہ کار وسیع ہے لہٰذا اُس سے تفصیلی بات چیت ہوئی اور اِس سلسلے میں کچھ رابطے کرنے کے متعلق پروگرام بنے۔
ساڑھے دس بج چکے تھے لہٰذا اہل خانہ سے اجازت چاہی اور واپسی ساڑھے گیارہ بجے ہوئی۔ چائے پی اور سو رہے۔ 
آسٹریلیا میں   "Holiday Road Alert"
جولائی 2015ء آپ خطرات میں نہ پڑیں۔ احتیاط سے آہستہ گاڑی چلائیں۔ جب تھکے ہوئے ہوں تو گاڑی نہ چلائیں، آرام کریں، یہ وارننگ NSW میں اِس ویک اینڈ پہ سکولوں میں جب چھٹیاں ہونے جا رہی ہیں تو جاری کی گئی۔ موسمی پیشین گوئی کے مطابق موسم خراب رہے گا۔ سڑکو ں پر پولیس کی نفری بڑھائی جا رہی ہے۔ اِس سال ہم نے 19000 لوگوں کو مقررّہ مقدار سے زیادہ شراب پی کر ڈرائیونگ کرتے پکڑ ا اور 6000 لوگوں کے خون میں منشیاّت کا سراغ مِلا۔ یہ پچھلے سال کی نسبت دگنی تعداد ہے۔ یہ سب کچھ Acting Assistant Commissioner،  David Drivex نے بتائیں۔
حارث کے ہاں دعوت 
پینٹ ٹی شرٹ میں ملبوس، یہی کوئی 35 کے پیٹے میں حارث، چُلبلا سا، بات بات پہ آنکھیں جھپکتا، پہلو بدلتا، اپنے نئے بڑے گھر رقبہ ایک کنال آٹھ مرلے، کی ایک ایک اینٹ کی داستان سنانے کے لیے بے تاب و بے قرار اور پھر داد کا طالب۔ آپ کا مُنہ تکے جائے کہ کچھ تو بولو؟ کسی ایک تو خامی پہ اُنگلی دھرو تو جانیں!
نئے گھر کی خُوشی میں ڈنر پہ بلایا تھا۔ شام کو جا پہنچے۔ گھر میں داخل ہو کر سامنے کوئی آٹھ دس فٹ چوڑی سیڑھیوں کی طرف لپکے کہ اُوپر کی منزل پر کھانے کا اہتمام تھا لیکن ٹھٹھک کر رہ گئے۔ اِن ڈاکٹروں کا بھلا ہو جو سیڑھیوں پر چڑھنے سے منع کرتے ہیں۔ لِفٹ کی بات چل نکلی۔ حارث بھائی کو جھٹکا سا لگا۔ کہنے لگے ہے ہے ہمارے Plan میں لفٹ لگے گی۔ چلو آئیے اِدھر سے سائیڈ گلی سے گھر کے پچھواڑے سٹنگ روم۔ حارث بھائی یہ بھی کمال کیا! لوگوں کی نقالی نہیں کی جو سٹنگ روم باہر ہی باہر سڑک سے مُتصل بنا ڈالتے ہیں۔ یہ دیکھو نا! پیچھے ایک وسیع گارڈن اور ساتھ سٹنگ روم، باتیں کرتے جائیں اور آنکھوں کو طراوت پہ طراوت پہنچاتے رہیں۔ یہ ہوا نا ایک منجھے ہوئے آرکیٹیکٹ کے تجربے کا نچوڑ۔ اُوپر کھانا لگ گیا۔ ہم حارث بھائی کی باتوں پہ پوری طرح دلجمعی سے کان دھرے ہوئے تھے لیکن اُوپر جو پلیٹوں اور چمچوں کا شور برپا تھا اُس کا کیا کریں؟ کان انگلیوں سے بند کریں تو حارث بھائی کی کنسٹرکشن کی تفصیلات سے بے بہرہ ہی رہ جائیں۔ ہم ٹنوں کے حساب سے اِس بلڈنگ میں پڑی ریت اور بجری کے بوجھ تلے دبے بول بھی نہیں سکتے تھے۔ اور مزید کنکریٹ کے ساتھ لوہا بھی تو چلتا ہے۔ اِس سارے بوجھ تلے دبے ہماری تو زبانیں ہی گنگ تھیں جو اپنی آنتوں کی ویرانی کا گِلہ شکوہ زبان پر لائیں۔ وہ تو اللہ بھلا کرے بیگم حارث کا جو اُس نے دیکھا کہ سب خواتین ڈنر سے فارغ ہو چکیں اور اب بقائمی ہوش و حواس اپنی ”ساسوں اور نندوں“ پر ریسرچ کرنے لگی ہیں۔ لیکن نیچے کوٹھی کے پچھواڑے گرے پڑے، سٹنگ روم سے کوئی آواز ہی نہ آئی۔ بس بیگم حارث کی آواز کیا تھی، ایک چپت ہی سمجھیں سبھی اُٹھ بھاگے۔ آٹھ دس فٹ چوڑی سیڑھیوں کی طرف جو سٹنگ روم سے اُوپر کو جاتی ہیں۔ سیڑھیاں چڑھتے اُترتے ڈنر کروانا بھی حارث صاحب کی ہی سالہا سال کی ریسرچ کا نتیجہ ہے۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -