کُتا۔۔۔ پرانی یادیں

کُتا۔۔۔ پرانی یادیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کافی عرصہ پرانے ایک واقعہ کی یاد آنے لگی ہے۔ میری تعیناتی محکمہ تعلقات عامہ میں بطور سربراہ تھی کہ بھکر سے ایک صحافی دوست کا فون آیا کہ براہ کرم ایک خبر رکوا دیں۔ تفصیل معلوم کی تو انہوں نے کہا کہ ضلع بھکر کے ڈپٹی کمشنر خواجہ صدیق اکبر نے آج ایک پریس کانفرنس کے دوران خود کو پنجاب کے وزیراعلیٰ (اس وقت) میاں نوازشریف سے اظہار عقیدت کے طور پر کہہ دیا کہ ’’مَیں نوازشریف کا کتا ہوں، لیکن اگر یہ خبر شائع ہو گئی تو شاید ان کی سی ایس پی (یا شاید سی ایس ایس) ایسوسی ایشن ان کو اپنی تنظیم سے نکال دے، لہٰذا اس خبر کو رکوا دیں تو زیادہ بہتر رہے گا۔ مَیں نے عرض کیا کہ حضور آپ یہ کوشش وہاں اپنے اخباری نمائندوں یعنی ضلع کے رپورٹروں سے کریں تو زیادہ بہتر ہے۔ وہ یہ خبر وہاں سے اپنے اپنے اخبارات کو نہ بھجوائیں ۔ اب اگر مَیں نے لاہور سے کسی بھی شائع ہونے والے اخبار کے ڈیسک پر نیوز ایڈیٹر کو فون کیا تو پھر ایسا نہ ہو کہ مَیں ہی ان کو خبر دینے والا بن جاؤں اور اس کے پاس خبر موجود ہی نہ ہو۔ پھر تو وہ اپنے نمائندہ ضلع بھکر کو فوراً فون کرکے اسے ڈانٹ ڈپٹ کرے گا اور اس سے خبر کی تفصیل معلوم کرے گا اور یوں ضلع بھکر کے نمائندہ کی بجائے ہر اخبار کو خبر دینے والا خود ڈی جی پی آر بن جائے گا۔
مَیں نے کہیں پر فون نہ کیا ویسے بھی اس وقت ڈاک ایڈیشن شائع ہو کر بسوں اور ٹرین پر لاہور سے باہر کے شہروں میں روانہ ہو چکے تھے اور اگر کوئی میری درخواست مان کر یہ خبر شائع نہ بھی کرتا تو لاہور شہرکی حد تک یہ ممکن تھا۔ چنانچہ اگلے روز کے اخبارات میں یہ خبر ایک خصوصی خبر کے طور پر شائع کر دی گئی اور پڑھنے والوں نے اس خبر کے کافی ’’چسکے‘‘ لئے اور کئی برسوں تک اس کا چرچا بھی رہا۔
میاں نوازشریف سی ایس پی افسران کے ساتھ اپنے چیف منسٹری کے دور میں 1985ء۔1990 بہت پیار اور شفقت کرتے تھے۔ الیکشن کے کام ہوں، ٹکٹ دینے کے کام ہوں، پارٹی کے فنڈز کی ضرورت ہو، وہ ان سے مشورہ لیتے رہتے تھے اور ان کے ذمہ کافی ٹارگٹ بھی رکھے جاتے تھے۔ ان کے ٹارگٹ پورے کرنے والوں سے تو انہیں خصوصی پیار تھا، ان میں شاہد رفیع، سعید مہدی، امین اللہ چودھری، انور زاہد، صدیق چودھری، رانا مقبول، سردار محمد چودھری اور درجنوں دوسرے سی ایس پی کیڈر کے افسران شامل تھے اور ان کی کیفیت ایسی تھی کہ وہ خود کو سرکاری اہلکار یا گورنمنٹ سرونٹ سمجھنے کی بجائے عوام کے لئے تو خود کو آقا یاحاکم خیال کرتے تھے، لیکن میاں نوازشریف کے لئے وہ ان کے ملازم کی سی حیثیت رکھتے تھے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح میاں صاحب کے اپنے پرائیویٹ سیکرٹری قمر الزمان تھے۔( بعد میں وہ ڈی جی ایل ڈی بھی رہے)۔
مَیں نے علی عارف کا نام اس فہرست میں اس لئے نہیں لکھا کہ ویسے تو وہ سعید مہدی کے بھائی ہیں، لیکن وہ اس وقت میاں شہبازشریف ایم این اے کے کام کرتے تھے، جب میاں نوازشریف چیف منسٹر تھے اور جب غلام حیدر وائیں پہلے نگران وزیراعلیٰ پنجاب بن گئے اور بعد میں اسمبلی سے ووٹ لے کر باقاعدہ وزیراعلیٰ تو اس وقت علی عارف میاں شہبازشریف کے احکامات کی براہ راست پیروی کرتے تھے اور عام طور پر یہ سارا عمل بیورو کریسی مکمل خاموشی کے ساتھ پورا بھی کرتی تھی۔ یعنی خواجہ صدیق اکبر نے پریس کانفرنس میں سو فیصدی اپنی محبت میاں نوازشریف سے جتلانے کے لئے خود کو ’’کتا‘‘ کہہ دیا تھا۔ دوسرے الفاظ میں بہت سے دوسرے افسران غالباً مجبوری میں بھی ایسی ہی کیفیت میں مبتلا دکھائی دیئے، ورنہ علی عارف کے حکم وزیراعلیٰ کے یعنی غلام حیدر وائیں کے پرنسپل سیکرٹری کے حکم نامے کے برابر ہر گز حیثیت نہیں رکھتے تھے۔
آج میڈیا 30-25برس آگے آ گیا ہے اور آج ٹیلی ویژن چینلوں پر الزامات کے ساتھ ایسے بہت سے نام خصوصاً شجاعت عظیم، عارف حمید اور درجنوں ایسے افسران کے نام لئے جا رہے ہیں جن کے بارے میں حکومت پر لازم ہے کہ وہ ہر ایک کے بارے میں تمام کوائف کے ساتھ اپنا موقف بیان کرے، ان دنوں کوئی میڈیا میاں نوازشریف کے سیف الرحمن یا آصف علی زرداری کے آخری دنوں کے پرنسپل سیکرٹری سلمان فاروقی کی بیٹی شرمیلا کی وہ تصاویر پردے پر نہیں لا رہا کہ جس بیٹی کے بینک لا کر سے کروڑوں کے ڈالر، سونا اور زمینوں کے کاغذات ملے تھے اور جس کے خلاف مقدمات زیر سماعت ہونے کے بعد سلمان فاروقی نے نیب کو رقوم جمع کروا کر افہام و تفہیم کی تھی، یعنی یہ مان لیا تھا کہ وہ پیسہ کرپشن کا تھا۔ نیب کا قانون تو اب ایسا ہے کہ آپ کرپشن کریں۔پکڑے جائیں تو حکومت سے سودا کریں۔ کچھ حصہ جمع کرا دیں اور سزا سے بچ جائیں۔ آج اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میڈیا کے زور دار ہونے کی بدولت اب سی ایس پی کیڈر میں کوئی کسی حکمران یا وزیر کا ’’کتا‘‘ نہیں اور نہ ہی کسی پریس کانفرنس میں ایسا کوئی شوشہ سامنے آیا ہے۔رہا گلو بٹ وغیرہ جیسے خوشامدیوں کا معاملہ تو ان سے میڈیا خود نپٹ لے گا۔
رہ گیا معاملہ صدیق اکبر خواجہ کا تو اس خبر کے بعد ان کی کافی دُرگت بنی۔ اپنی کلاس کے لوگوں نے بھی اسے بُرا بھلا کہا اور پھر کئی برس ایسا وقت بھی آیا کہ وہ کھڈے لائن لگا رہا۔ پروموشن بھی پانچ سات برس رکی رہی اور اس کے جونیئر افسران اس کے ’’باس‘‘ بن گئے۔ پھر 1997-1999ء کے بھاری مینڈیٹ کے زمانہ میں وہ پنجاب کے اینٹی کرپشن کا سربراہ بنا تو ہمارے ہی محکمہ یعنی تعلقات عامہ نے بڑے بڑے تمام اخبارات میں تھانہ ریس کورس لاہور کی حوالات میں ننگے فرش پر بیٹھے ہوئے اسی سی ایس پی افسر کی تصویر شائع کرائی، جس میں تحریر تھا کہ اس کے قبضہ سے شراب کی بوتلیں برآمد ہوئیں اور یہ کہ اس نے پولیس کے عملہ سے لڑائی بھی کی ہے۔ اللہ کو معلوم ہے کہ اس مقدمہ کا کیا نتیجہ نکلا، لیکن اللہ پاک نے کرم کیا اور پھر خواجہ صدیق اکبر پیپلزپارٹی کے صدر آصف علی زرداری دور میں وفاقی سیکرٹری داخلہ بھی تعینات رہے اور 2013ء میں نگران وزیراعظم جنہوں نے ملک کے آخری انتخابات (یعنی موجودہ) کرائے ان دنوں میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کا عہدہ بھی ان کے پاس تھا اور وہ وہاں سے ہی ریٹائر ہوئے، تاہم آج بھی وہ ’’بھکر‘‘ کی اپنی 25سال سے زیادہ پرانی پریس کانفرنس نہیں بھولتے، لیکن اب اس پر کوئی تبصرہ کرنے پر ہر گز تیار نہیں، جس میاں نوازشریف سے محبت اور عقیدت کی بدولت انہوں نے خود کو ان کا کتا کہا تھا ان کے ہی بھائی میاں شہبازشریف کے حکم پر انہیں لاہور کی پولیس نے گرفتار کیا تھا اور اخبارات میں ان کی تصاویر شائع کرائی تھیں۔
ویسے تو اخبارات کی پندرہ سالہ اور سرکار کی تیس برس سے زائد کی نوکری کے دوران میں ایسی سینکڑوں عبرتناک پرانی یادیں مختلف واقعات کی شکل میں موجود ہیں، لیکن خواجہ صدیق اکبر کا یہ واقعہ قارئین تک پہنچانے سے زیادہ مجھے اس واقعہ کو سول سروس اکیڈیمی کے سربراہ تک اور وہاں پر تربیت دینے والوں تک پہنچانا مقصود ہے۔ یہ اکیڈیمی مقابلہ کے امتحان میں کامیاب ہو کر آنے والے ان افسران کی تربیت کرتی ہے، جنہیں اپنی باقی ساری زندگی حکومتی مشینری کی صورت میں ملک کا نظم و نسق چلانا ہوتا ہے، انہیں ہمیشہ یہ یاد دلایا جانا چاہیے کہ وہ پبلک سرونٹ یعنی عوام کے خادم ہیں۔ ان کے حاکم ہرگز نہیں، نہ ہی وہ ووٹ لے کر یا مارشل لاء نافذ کرکے اقتدار میں کچھ کچھ عرصہ کے لئے آنے والے طبقہ کے وفادار ’’کتے‘‘ ہیں ۔ جب جب وہ خواجہ صدیق اکبر کا روپ دھاریں گے اپنے ہی سروس کیڈر کی بدنامی کا باعث بنیں گے، لہٰذا انہیں ایک فاصلے کے ساتھ جہاں عوام کے ساتھ محبت اور شفقت کا سلسلہ روا رکھنا چاہیے، وہیں اپنے حاکموں کے ساتھ ادب و احترام کے ساتھ وقت گزارنا ہی اپنا شیوہ بنانا چاہیے۔ وہ ہرگز ان کے ذاتی غلام نہیں اور نہ ہی ان کی سروس انہیں ذاتی مفاد یا لالچ کی اجازت دیتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ موصوف خواجہ صدیق اکبر کو 1998ء میں جب وہ وزیراعظم نوازشریف کے پرسنل سٹاف آفیسر PSO تھے کابینہ کے اجلاس میں برملا کی گئی شکایات کی بناء پر وہاں سے تبدیل کر دیا گیا۔ شکایات کا لب لباب یہی تھا کہ وہ خود کو سرکاری ملازم نہیں، بلکہ ذاتی ’’نورا‘‘ ٹائپ گھریلو ملازم سمجھتے ہیں۔

مزید :

کالم -