ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ، نیب کی کامیابی کا عملی اعتراف

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ، نیب کی کامیابی کا عملی اعتراف
 ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ، نیب کی کامیابی کا عملی اعتراف

  

پاکستان کے لئے انتہائی عزت اور فخر کی بات ہے کہ ٹرانسپیر نسی انٹرنیشنل نے اپنی 2016 ؁ء کی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کے کرپشن پرسپشن انڈیکس (CPI) میں9 درجہ بہتری آئی ہے اس کے علاوہ سارک ممالک کے علاوہ جنوب مشرقی ایشاء میں پاکستان واحد ملک ہے جس کے کرپشن پرسپشن انڈیکس (CPI) ریٹنگ میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی گزشتہ سال کی رپورٹ میں بھی پاکستان کی ریٹنگ 175 ممالک میں سے 117 تک نیچے آگئی تھی۔ یہ امر جہاں پاکستان کے لئے خوشی اور اطمینان کا باعث ہے وہاں ان عوامل کو بھی مدنظر رکھنا انتہائی ضروری ہے جن کی بدولت پاکستان کی کرپشن پرسپشن انڈیکس میں گزشتہ 3 سالوں میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ اگر ہم حالات اور حقائق کا جائزہ لیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ قومی احتساب بیورو کے موجودہ چےئرمین قمرزمان چوہدری نے گزشتہ تقریباً3 سالوں سے قومی احتساب بیورو کے چےئرمین کاجب سے منصب سنبھالاہے اس وقت سے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رینکنگ میں نہ صرف کمی واقع ہو رہی ہے بلکہ پلڈاٹ کی رپورٹ کے مطابق عوام کا نیب پر اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے جو کہ42 فی صد ہے جو کہ پولیس سے بہتر ہے۔

قومی احتساب بیورو (NAB) کے موجودہ چئیرمین قمر زمان چوہدری اس لحاظ سے پاکستان کی تاریخ کے واحد چیئرمین ہیں جن کو حکومت اور اپوزیشن نے ان کی ایمانداری ، تجربہ، شاندار اور بے داغ ماضی کی بدولت متفقہ طور پر قومی احتساب بیورو کا چئیرمین نامزد کیا تھا۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمرزمان چوہدری کے لئے اس عہدے پر تعیناتی نہ صرف ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لیئے ایک بہت بڑا چیلنج تھا ۔انہوں نے اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے جہاں شبانہ روز سخت محنت کی وہا ں انہوں نے ملک سے بدعنوانی کی خاتمہ کے لئے بہترین حکمت عملی(Strategy) ترتیب دی جس پربلا تفریق عمل کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو نے بدعنوان عناصر کے خلاف شواہد کی بنیا د پر قانون کے مطابق کارروائی کی اور 285 ارب روپے کی لوٹی ہوئی رقم بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائی جو کہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے ۔

آج ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ پورے ملک کی آواز بن چکا ہے ۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمرزمان چوہدری نے اپنے عہدے کا منصب سنبھالنے کے بعد ادارے میں جہا ں بہت سی نئی اصلاحات متعارف کروائی ہیں ۔ وہاں انہوں نے قومی احتساب بیورو کا دائرہ کار ملک کے کونے کونے تک پھیلانے کا عزم کیا ۔ قومی احتساب بیورو کا صدر مقام اسلاآبادجبکہ اس کے 5 علاقائی دفاتر پہلے سے کراچی ، لاہور ، کوئٹہ ، اور پشاور میں کام کررہے تھے۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین نے دو نئے علاقائی دفاتر سکھر اور ملتان میں کھولے جس کو سکھر اور ملتان کیام نے بے حد سراہا کیونکہ اس سے پہلے بدعنوانی سے متعلقہ شکایا ت کے لئے سکھر کے لوگوں کو کراچی اورملتان کے لوگوں کو لاہور جانا پڑتا تھا۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمرزمان چوہدری نے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے بھی ذاتی دلچسپی اور اپنی بہترین صلاحیتوں اور تجربہ کا استعمال کرتے ہوئے نیب کو ایک متحرک ادارہ بنا دیا ہے جو ہمہ وقت بدعنوان عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائی کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی دباؤ اور پریشر کو خاطر میں نہیں لاتے بلکہ میرٹ ، شواہد اور قانون کے مطابق بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمر زمان چوہدری کی زیر صدارت گزشتہ سال نیب کے ڈائریکٹر جنرلز کی بیسویں سالانہ کانفرنس منعقدہوئی تھی۔ قومی احتساب بیورو کے ڈائریکٹر جنرلز کی سالانہ کانفرنس منعقد کرنے کا بینادی مقصد ایک طرف نیب کے تما م علاقائی دفاتر کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا وہاں دوسری طرف چیئرمین نیب کی طرف سے نیب کو مزید مؤثر اور فعال ادارہ بنانے کے لئے کئے گئے اقدامات سے آگاہ کرنے کے علاوہ ان پر عمل درآمدکی رفتارکو مزید تیز کرنا تھاتاکہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے کرپشن پرسپشن انڈیکس (CPI) کو نیچے لانے میں مدد مل سکے۔ اگر دیکھا جائے تو سال 2014ء نیب کی بحالی کا سال تھا اور موجودہ چےئرمین قمر زمان چوہدری نیب کو واپس اپنے کام پر لانے کے لئے کوشاں تھے انہوں نے مسائل اور مشکلات کے جامع تجزیہ کے بعد ادارہ کے کام کرنے کے طریقہ کار اور ڈھانچہ میں اصلاحات کا ایک پروگرام شروع کیا جس سے ادارہ میں نہ صرف نئی روح پیدا ہوئی بلکہ اس میں مقاصد کے حصول، پروفیشنل ازم، شفافیت جیسے کردار بھی پیدا ہوئے جو ادارہ کے مختلف شعبوں میں نتائج کے حصول کیلئے بنیادی اہمیت کے حامل تھے۔ نیب کے موجودہ چےئرمین قمرزمان چوہدری کی ہدایت پر کئے جانے والے اقدامات کے تحت سی آئی ٹی، ایس او پیز کو موجودہ حالات کے مطابق ڈھالا گیا جن میں شکایت سے انکوائری او رانکوائری سے تحقیقات تک 10 ماہ کا وقت مقرر کیا گیا۔ جبکہ عملہ کی استعداد کار میں بہتری کیلئے تربیت بھی فراہم کی گئی جس کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ دو سال کی کاوشوں اور سخت محنت کے بعد نیب ایک بہترین انسداد رشوت ستانی کے ادارہ کی صورت میں سامنے آیا ہے جو اپنی موجودہ افرادی قوت کی استعداد کار کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ 104 تحقیقاتی افسران کی بھرتی سے ایک ماڈل ادارہ بن چکا ہے۔ نئے تحقیقاتی افسروں کو پولیس ٹریننگ کالج سہالہ میں تربیت دی گئی جہاں ان کو کرپشن اور وائٹ کالر جرائم جسے جرائم سے متعلق جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کے بارے میںآگاہی فراہم کی گئی یہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیور و کا مجموعی طور پر 1999 سے اب تک Conviction Rate تقریباً75 فیصد ہے۔مجھے یاد ہے کہ قومی احتساب بیورو نے راولپنڈی احتساب بیورو میں ایک تقریب منعقد کی جس کی صدارت وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ نے کی۔ تقریب میں انہوں نے قومی احتساب بیورو کی کاوشوں کی بدولت مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیزکی طرف سے عوام سے لوٹی ہوئی رقوم اصل متاثرین کو واپس کئے تو متاثرین نے قومی احتساب بیورو کے چےئرمین قمرزمان چوہدری کے لئے بہت دعائیں کیں اور کہا کہ ان کی کا وشوں کی بدولت نیب نے ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی واپس دلائی۔ اس موقع پر وفاقی وزیرریاض پیرزادہ نے کہ کہ نیب کے موجودہ چےئرمین قمر زمان چوہدری نے ان کے ساتھ دو سال کام کیا ہے میں ان کو داتی طور پر جانتا ہوں آپ انتہائی ایماندار قابل اور ذہین افسر ہیں ۔ ان کی بہترین صلاحیتوں اور قابلیت کو دیکھتے ہوئے ان کو چےئرمین نیب تعینات کیا گیا۔ انہوں نے مختصروقت میں جوبے مثال کار کردگی دکھائی ہے وہ قابل رشک ہے۔

قومی احتساب بیورو کے چےئرمین قمرزمان چوہدری کی قیادت میں نیب اب پہلے سے زیادہ بہتر پوزیشن میں اپنا کام کرنے کا اہل ہے، ٹی سی ایس اور ایم اے کیوز پر نظرثانی سے افسران کے کیرئیر پر بھی خوشگوار اثر پڑا ہے نیب کے افسران کی محنت سے گزشتہ 3سال کے دوران شفافیت میرٹ اور پروفیشنل ازم بڑھا ہے آج کا نیب ایک نیا نیب ہے۔ نیب نے چےئرمین نیب کی ہدایت پر نیامانیٹرنگ اینڈ ایویلوایشن سسٹم بنایا ہے جس سے اعداد و شمار کو محفوظ طریقہ سے مرتب کرنے بشمول شکایت کا اندراج ، شکایت کی تصدیق، انکوائری، تحقیق اور قانونی کارروائی کے حوالہ سے سسٹم سے استفادہ کرنے میں مدد کے ساتھ ساتھ نئے نظام کے تحت ریجنل بورڈز کے اجلاسوں اور ایگزیکٹو بورڈز کے اجلاسوں سمیت کیسوں کی بریفنگ، ان پر ہونے والے فیصلوں اور اجلاس میں شرکاء کی تعداد، وقت اور تاریخ سمیت مختلف دستیاب سہولیات میسر ہونگی۔ قومی احتساب بیورو کے چےئرمین کی ہدایت پر نیب کے علاقائی بیورز کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایاگیا ہے۔نیب نے تمام علاقائی دفاتر کی جانچ پڑتال کے لئے گریڈنگ سسٹم بھی متعارف کروایا اس کے تحت تمام علاقائی دفاتر کی گزشتہ سال بھی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے جبکہ اس سال جنوری اور فروری میں بھی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیا جارہا ہے جس کی بدولت تمام علاقائی بیوروز کی خوبیوں اور خامیوں کا پتہ چلتا ہے اور خامیوں پر قابو پانے کے لئے اقدامات بھی اٹھائے جاتے ہیں۔ چیئرمین نیب قمرزمان چوہدری نے ادارے کے اندر بھی احتساب کا عمل شروع کیا اس عمل کے تحت بد دیانت اور غفلت برتنے والے 23 افسران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی گئی۔

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمرزمان چوہدری کی تجویز پر پاکستان میں سارک انٹی کرپشن سیمینار منعقد ہوا جس میں بھارت سمیت سارک ممالک نے پاکستان کی انسداد بدعنوانی کی کاوشوں کو سراہا اور قومی احتساب بیورو کی تجویز پر سارک انٹی کرپشن فورم کے قیام پر متفق ہو گئے جو کہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی تھی۔بدعنوانی تمام ترقی پذیر ملکوں بالخصوص شرح نمو اور معاشی استحکام برقرار رکھنے کیلئے کوشاں ایشیائی ملکوں کیلئے بڑی لعنت ہے جس سے معاشی ترقی کو نقصان پہنچتا ہے، گذشتہ دو عشروں کے دوران بدعنوانی کے عالمی معیشت پر برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔پاکستان اور چین کے درمیان بدعنوانی کے خاتمہ سے متعلق امور میں تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط سے چین اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے تناظر کے علاوہ دونوں ملکوں کی حکومتوں کو شفاف اور بد عنوانی سے پاک ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی اور اس سے دونوں ممالک بدعنوانی کے خاتمہ میں ایک دوسرے کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھائیں گے اور اس سے دونوں دوست ملکوں کے درمیان تعاون میں مزید اضافہ ہو گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان بدعنوانی کی روک تھام کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط اہم پیشرفت ہے۔ بدعنوانی سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی ،ملکی ترقی میں رکاوٹ اور عدم اعتماد جیسے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں بدعنوانی کی وجہ سے درآمدات اور برآمدات کے اخراجات میں اضافہ سے تجارتی خسارہ بڑھتا ہے،تاہم بدعنوانی پر قابو پاکر تجارتی خسارہ پر قابو پایا جا سکتا ہے اور ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

چیئرمین نیب کی ہدایت پر لوگوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگا ہی فراہم کرنے کیلئے آگاہی اور تدارک کی ’’کرپشن سے انکار‘‘ کی بھرپور مہم شروع کی گئی ۔ نیب نے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے یونیورسٹیوں اور کالجز کے طلباء، مختلف سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کو شامل کیا ۔ کرپشن کے خاتمے کیلئے نیب نے متعدد اقدامات کئے جن میں بدعنوانی کے برے اثرات سے لوگوں کو آگا ہی فراہم کرنے کیلئے ملک بھر کے تمام شیڈول بینکوں کی تمام اے ٹی ایم مشینوں پر نیب کا پیغام ’’کرپشن سے انکار‘‘ کا پیغام درج کیا گیا ۔ نیب نے انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر ایوان صدر اسلام آباد میں ایک سیمینار منعقد کیا۔ صدر پاکستان ممنون حسین نے اس سیمینار کی صدارت کی۔ نیب نے ایوان صدر میں ایک واک کا اہتمام کیا جس کی قیادت صدر پاکستان نے کی اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے نیب کی ’’بدعنوانی سے انکار‘‘ کی مہم میں شرکت کی۔ نیب اور اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے مختلف یونیورسٹیوں کے طالب علموں میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے اس تعاون کی وجہ سے ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں کردار سازی کی 42 ہزار انجمنیں قائم کی گئی ہیں۔ نیب نے ر اولپنڈی بیورو میں فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک، دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیئے کی جدید سہولیات میسر ہیں۔ فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام کا مقصد معاشرے سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نیب کو جدید آلات سے لیس کرنا تھا قومی احتساب بیورو (نیب) اپنے موجودہ چےئرمین قمرزمان چوہدری کی قیادت میں پاکستان سے کر پشن کے مکمل خاتمہ کے لئے پر عزم ہے۔ نیب کے افسران میرٹ اور شواہد کی بنیاد پر بلاتفریق بدعنوان عناصر کے خلاف اپنی کاوشیں جاری ر کھے ہوئے ہیں۔ بلا شبہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی 2016 ؁ء کی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کے کرپشن پرسپشن انڈیکس کمی قومی احتساب بیورو کی کاوشوں کا نہ صرف نتیجہ ہے بلکہ ایک واضح اعتراف ہے۔ قومی احتساب بیورو نے اپنے قیا م سے لیکر اب تک کے سفر میں جو نمایاں کامیابیا ں حاصل کیں ہیں وہ نیب افسران کی انتھک محنت اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین قمرزمان چوہدری بھی ٹیم ورک پر یقین رکھتے ہیں وہ اپنے فرائض کو ہمیشہ میرٹ اور ایمانداری کے ساتھ سرانجام دیتے ہیں اور اس کا درس وہ اپنے تمام افسران اور اہلکاروں کو بھی دیتے ہیں۔

مزید :

کالم -