فطرت اور فطرتی ادویہ کے خلاف نیا محاذ جنگ

فطرت اور فطرتی ادویہ کے خلاف نیا محاذ جنگ
فطرت اور فطرتی ادویہ کے خلاف نیا محاذ جنگ

  



ہمم مسلمانوں کا یہ اعتقاد ہے کہ مرض اور شفا ، دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں ۔ انسان جس بیماری میں مبتلا ہوتا ہے ، وہ ربّ کائنات کی طرف سے ہی نازل ہوئی ہوتی ہے اور جب وہ اس مرض سے چھٹکارا پاتا ہے تو بھی اللہ تعالیٰ کے اذن سے ۔ وہ کوئی تدبیر اختیار کرے ، کسی معالج کی طرف رجوع کرے، کوئی دوا استعمال میں لائے ، شفاء من جانب اللہ ہی ہوتی ہے۔

َ تاریخ انسانی شاہد ہے کہ امراض کے علاج کے لئے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ قدرتی ادویات ہی ہمیشہ شفا یابی کا ذریعہ بنتی رہی ہیں ۔ یہ قدرتی ادویہ نباتی بھی ہیں اور معدنی وحیوانی بھی ۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک عالم انسانیت نے انہی ادویہ ، خواہ وہ مفرد صورت میں ہوں یا مرکبات کی شکل میں ، پر انحصار کیا۔ انہی سے اپنے آلام وآزار سے نجات حاصل کی۔ ان ادویہ کی تیاری اور استعمالات کے تعین میں وحی الٰہی ، الہام اور انبیائے کرام کے علاوہ شعبۂ طب کے لئے اپنی زندگی کو وقف کردینے والے جلیل القدر اطباء کا اہم ترین کردار رہا ۔ آسمانی ہدایت کی روشنی میں فن طب اور دوا سازی کے بنیادی خدو خال تشکیل پائے اور مختلف ادوار کے نام ور اطباء ، ماہر عطارین اور علم صیدلہ ( دوا سازی)کی شہرہ آفاق شخصیات کی جہد مسلسل سے طب اور اس کے فن دوا سازی کو عروج نصیب ہوا۔

قدرتی وفطرتی اجزاء سے تیار کردہ ادویہ اپنی فلاسفی ، اپنے مزاج اور اپنے طریق تیاری کے اعتبار سے گزشتہ چند صدیوں کی پیداوار ایلو پیتھک ادویہ سے یکسر مختلف ہیں ۔ یہاں تک کہ ان کے بارے میں کی جانے والی تحقیق کے پیرا میٹرز اور میکا نزم بھی ایلو پیتھک ادویات کے لئے کی جانے والی ریسرچ سے میل نہیں کھاتے ۔ ان سب پر مستزاد یہ کہ قدرتی وفطرتی ادویہ کی ٹیسٹنگ کے معیارات تو کجا وہ لیبارٹریز بھی دستیاب نہیں ہیں جو یہ کام سرانجام دے سکیں ۔ ان ادویہ میں سے اکثر و بیشتر ادویہ دسیوں ، بیسیوں اجزاء پر مشتمل ہوتی ہیں ، بسا اوقات ان میں سے چند ادویہ ستر ، اسی اور کچھ تو سو سو مفردات سے مل کر بنتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہر مفرد جڑی بوٹی میں بیسیوں Componentsہوتے ہیں ، اور جب بیسیوں اجزاء کے سینکڑوں یا بسا اوقات ہزاروں Components جب یک جا ہوتے ہیں ، تو دنیا کی کون سی مشین ایسی ہے جو ان میں سے ہر ہر Component کو الگ سے شناخت کرسکے ، اس کے معیار اور مقدار کا تعین کرسکے۔ہر Componentکی شناخت اور معیار و مقدار تو دور کی بات ، کسی بھی دوا کے دس سے سو اجزاء کے بارے میں یہ سب کچھ جاننا اور جانچنا بھی کسی مشین اور کسی ماہر کے بس کی بات نہ ہوگی۔

بنابریں ان ادویات کی تیاری کی صنعت کو جس بھی قانون یا ضابطے کے تحت لایا جانا مطلوب ہو ، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ

فنِ طب اور اس کی دوا سازی پر مہارت رکھنے والوں کے ذریعے تشکیل پائے۔

اس قانون میں طبی صنعتِ دوا سازی کو طبی ماہرین ۔۔۔ حکماء و طبی دوا ساز حضرات ۔۔۔کے زیر نگرانی رکھا جائے۔

اس قانون کی رو سے طبی ادویات کی جانچ پڑتال کے لئے طبی معیارات کو ہی اساس بنایا جائے ۔ جدید معیارات ، طریقے اور مشینیں اگر کسی حد تک اس عمل میں طبی اساسات کے مطابق معاون کا کردار ادا کرسکیں تو ان سے ضرور استفادہ کیا جائے۔ محض اس لئے کہ کچھ مشینیں یا ٹیسٹ ایلو پیتھک دوا ساز صنعت میں مروج ہیں ، اس لئے انہیں طبی دوا سازی کی صنعت کے لئے لازمی قرار دینا غیر ضروری اور غیر منطقی عمل ہوگا۔

اس حقیقت کو بھی جان لینا چاہیے کہ ایلو پیتھک ادویہ کے بالکل برعکس طبی ادویات بالعموم جانبی اور مابعد اثرات سے پاک ہوتی ہیں ۔ ایلو پیتھک ادویہ عمومی طور پر کیمیکل اور سنتھیٹک اجزاء پر مشتمل ہوتی ہیں اور یہ اشیاء انسانی مزاج سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں ، جبکہ انسان جو خود قدرت کی خلاقیت کا شاہ کار ہے ، وہ قدرتی اور فطرتی اجزاء سے ہم آہنگ ہوتا ہے اور یہ اس کے جسم میں آسانی سے رچ بس ہی نہیں جاتے، اسے بالعموم نقصان پہنچائے بغیر امراض کے ازالے میں معاون ہوتے ہیں ۔ یہ قدرتی اجزاء قوت مدبرہ بدن کی مدد کرتے ہیں اور یوں اس کے لئے مرض پر غالب آنا ممکن ہوجاتا ہے ۔

اس امر سے بھی صرفِ نظر نہیں کرنا چاہیے کہ طبی ادویات کا خام مال اکثر وبیشتر جڑی بوٹیاں ہوتی ہیں جبکہ ایلو پیتھک ادویہ برطانوی یا امریکی فارما کوپیا کے متعین کردہ معیارات کے مطابق تیار کردہ نمکیات (Salts) سے بنائی جاتی ہیں ۔ یہ نمکیات بھی بالعموم درآمد کئے جاتے ہیں ، اس لئے مقامی فارما انڈسٹری Composerکا کردار ادا کرتے ہوئے انہیں جس ماحول میں تیاری کے مراحل سے گزارتی ہے ، اس میں صفائی اور ستھرائی کے بہترین معیارات کا اہتمام کرنا ممکن ہوتا ہے ، بلکہ بے حد ضروری بھی ، اس لئے کہ کسی ایک Saltکا کسی دوسری دوا کے Saltمیں معمولی مقدار میں بھی شامل ہوجانا خطرناک نتائج کا حامل بن سکتا ہے ،بن چکا ہے ، جبکہ قدرتی ادویات اور جڑی بوٹیوں سے ادویات کی تیاری کے دوران صفائی ستھرائی کا ایلو پیتھک نظام نہ تو ممکن ہوتا ہے اور نہ ہی مطلوب۔بنا بریں اس حوالے سے بھی طبی ادویات کی تیاری کے لئے الگ سے ہی قواعد وضوابط اور معیارات ہوں گے۔ قدرتی و فطرتی اجزاء سے تیار ہونے والی ادویہ میں سمیات کی تدبیر اور معدنیات کو کشتہ کرنے کا جتنا زبردست اور محفوظ نظام قدیم اطباء نے وضع کررکھا ہے وہ انتہائی شان دار ، اعلیٰ اور مثالی ہے۔ ان طریقوں کے ذریعے تیار کردہ ادویہ میں ان اجزاء کے مضرات کو ختم کرکے ان کی افادیت کو یقینی بنادیا جاتا ہے ۔

خالص طبی اصول و قواعد کے مطابق بنائی گئی ادویات کی بڑی بھاری تعداد جانبی و مابعد ضرر رساں نقصانات سے پاک ہوتی ہے ، اس لئے انہیں کسی طوربھی ایلو پیتھک ادویہ کے ہم پلہ Drugsقرار دے کر ان کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔

ایسے میں حکومت پنجاب کی جانب سے جعلی ادویہ کے خاتمے کی مہم کی آڑ میں طبی دوا ساز اداروں پر کریک ڈاؤن قطعی غیر منطقی و غیر منصفانہ بلکہ ظالمانہ ہے ۔ طبی ادویات ہزار ہا برسوں سے عالم بشریت کے آلازم و آزار اور امراض و عوارض کو اللہ تعالیٰ کے اذن سے زائل کرنے کا واحد وسیلہ رہی ہیں ، اس لئے ان پر جعلی کا لیبل چسپاں کرنا یا انہیں غیر معیاری قرار دینا ہزار ہاسالوں کی تابندہ تاریخ کو جھٹلانے کے مترادف ہے ۔ بدقسمتی سے ان ادویہ کو وہ لوگ جعلی اور غیر معیاری قرار دے رہے ہیں جو فن طب اور اس کے طریق دوا سازی سے یکسر نا آشنا ہیں ۔ وہ نہ تو ان ادویات کے اجزاء کے ناموں سے شناسائی رکھتے ہیں، نہ ہی ان کی Dosage formsسے اور نہ ہی ان کے طریق تیاری سے۔

اصلی اور حقیقی ادویہ کو جعلی کہنا ظلم عظیم ہے اور فطری ادویہ کے ساتھ ساتھ فطرت سے جنگ کے مترادف۔ ایسے میں جب کہ دنیا پھر سے قدرتی و فطرتی ادویہ کی طرف پلٹ رہی ہے ، ہم فطرت کے خلاف ایک نیا محاذ کھولنے میں مصروف عمل ہیں ۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ