ماتحت عدلیہ میں بھرتی اور تعلیمی معیار کی کمی کا مسئلہ

ماتحت عدلیہ میں بھرتی اور تعلیمی معیار کی کمی کا مسئلہ

  

سول ججوں اور جوڈیشل مجسٹریٹوں کی بھرتی میں تعلیمی معیار کی کمی کا مسئلہ سنگین صورت میں سامنے آیا ہے۔ صوبے میں خالی اسامیوں پر بھرتی کے لئے درخواستیں طلب کی گئی تھیں۔ پندرہ سو خواتین سمیت 6500 امیدواروں نے درخواستیں دیں، جنہیں مقابلے کے امتحان میں شریک کر لیا گیا۔ ان امیدواروں کے پرچوں کی چیکنگ کے لئے پچاس ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ سنٹرل مارکنگ سسٹم کے تحت یہ سارا کام ہُوا۔ مقابلے کے اس امتحان کے نتائج کا اعلان کیا گیا تو یہ افسوس ناک اور حیران کن حقیقت سامنے آئی کہ ساڑھے چھ ہزار امیدواروں میں سے صرف 21 امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔ سول ججوں اور جوڈیشل مجسٹریٹوں کی بھرتی کے بارے میں اس سنگین صورت حال کا انکشاف چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ نے کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدلیہ میں قابل اور لائق لوگوں کو آگے لانے کے لئے سول سروسز کی طرز پر مقابلے کا امتحان بہت ضروری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں، عدلیہ ہو یا کوئی دوسرا ادارہ، کسی بھی جگہ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے، عدلیہ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ سول جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ ترقی پا کر عدلیہ کے لئے بنیادی خدمات انجام دیتے ہیں۔ ان کا تعلیمی معیار اور تجربہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ترقی پا کر وہ سیشن جج اور پھر ہائی کورٹ کے جج بھی بنتے ہیں، جنہیں عمرقید اور سزائے موت کا حکم سنانے کا اختیار بھی ہوتا ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے ان اسامیوں پر بھرتی کے لئے معیار اور میرٹ کو ضروری قرار دیتے ہوئے لائق اور باصلاحیت امیدواروں کے انتخاب پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔ اتنی بڑی تعداد میں سے صرف اکیس امیدوار ہی میرٹ پر پورا اُترنے کی وجہ سے کسی حد تک مایوسی ہو سکتی ہے لیکن اس معاملے میں حوصلہ افزا پہلو یہ ہے کہ میرٹ اور معیار کی شرط کو پورا کرتے ہوئے بھرتیاں ہونے سے عدلیہ میں صرف اہل اور باصلاحیت لوگ ہی شامل ہو سکیں گے۔ سفارش کلچر اور رشوت کے ذریعے اگر بھرتی کر لی جائے تو بنیادی مقصد فوت ہونے سے نچلی سطح پر لوگوں کو بروقت اور بھرپور طریقے سے انصاف مہیا کرنے میں دشواری ہوگی۔ میرٹ اور معیار کے مطابق پہلی بار بھرتی ہونے سے یہ فائدہ ہوگا کہ جو لوگ رشوت، سفارش کلچر اور دیگر ذرائع استعمال کرکے بھرتی ہونے کے بارے میں سوچتے ہیں، وہ مقابلے کے امتحان کو مذاق نہیں سمجھیں گے اور سول سروسز کے لئے اچھی طرح تیاری کرکے امتحان میں شریک ہوا کریں گے۔ کسی بھی مشکل کام کے لئے پہلا قدم اٹھانا ہی دشوار ہوتا ہے۔ سول ججوں اور جوڈیشل مجسٹریٹوں کی میرٹ پر بھرتی کے لئے پہلا اور مشکل قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔ اگر آگے چل کر کسی مرحلے پر بھرتی کے معاملے میں سمجھوتہ نہ کیا گیا تو یقینی طور پر شاندار نتائج برآمد ہوں گے، اہل اور میرٹ پر پورا اترنے والوں کو بھرتی کرنے کا مقصد بھی حاصل ہو سکے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -