"صحیفہ ‘‘ مکاتیب نمبر ایک نظر میں

"صحیفہ ‘‘ مکاتیب نمبر ایک نظر میں

  

مجلس ترقی ادب لاہور کی طرف سے شائع ہونے والے 580 صفحات پر مشتمل شش ماہی جریدے ’’صحیفہ‘‘ کا مکاتیب نمبر (جلد دوم) منظرعا م پرآگیاہے ۔یہ قیمتی علمی دستاویز580 صفحات پر مشتمل ہے ۔مجلس ادارت تین معروف علمی ہستیوں پر مبنی ہے : ڈاکٹر تحسین فراقی (صدر) افضل حق قرشی (مدیر) اور ظہیربدر (معاون مدیر)۔ پیشکش کامعیار اتنااعلیٰ ہے کہ شاید ہی کوئی غلطی ملے۔

فاضل مرتبین کو داد دیجیے کہ خطوط کا متن درست رکھنے کے لئے انہوں نے اتنی محنت کی ہے کہ اسے محقق بڑے اعتماد کے ساتھ اپنے کسی تحقیقی کام میں استعمال (Quote) کر سکتا ہے خاص طور پر اس عہد میں ان نزاکتوں پر توجہ مرکوز رکھنا بہت بڑی بات ہے کیونکہ ہمارے گردوپیش میں ٹوٹ پھوٹ کاعمل پوری طاقت کے ساتھ جاری ہے اور طبائع کی سلامتی ہمہ وقت معرضِ خطرمیں رہتی ہیں۔

صحیفہ کی زیرنظر خصوصی اشاعت میں مدیر صاحب کے بقول چارسو سے زاید مکاتیب شامل ہیں۔ مکتوب نگاروں میں امیر مینائی ، وحید الدین سلیم ،فانی بدایونی ،رضاعلی وحشت ،یگانہ چنگیزی، سیدسلیمان ندوی ، اصغرگونڈوی ، تاجورنجیب آبادی، نصراللہ خان عزیز، عطیہ فیضی، جگن ناتھ آزاد، ملک غلام علی ، ڈاکٹر وزیرآغا،کرنل محمد خاں، مشتاق احمد یوسفی ، میرزا ادیب ، ڈاکٹر جاوید اقبال، عبدالمجید قریشی ، مولانا حامد علی خان ،مظفر علی سید، ضیاجالندھری ،عبدالعزیز خالد، آصف فرخی ، احمد ندیم قاسمی ، اورسہیل احمد خان ، ایسے مشاہیر ادب وفن کے اسمائے گرامی شامل ہیں ۔

ان خطوط میں جہاں علمائے ادب وفن اپنی علمی دلچسپیوں کا ذکر کرتے ہیں ، وہاں اپنی ذاتی زندگی کے بھی احوال و معاملات پر روشنی ڈالتے ہیں ۔ یہ خطوط شعروادب کے تمام قارئین کی بھی دلچسپی کی چیزہیں لیکن محقق اور نقاد حضرات کے لئے ان کی اہمیت وافادیت بہت زیادہ ہے ۔

خاص طور پر جن تخلیق کاروں نے افسانہ ،ناول ،ڈراما، سوانحِ ، شاعری اور تنقید میں نئے نئے تجربات کیے اور ادبی دنیا کو نئے رحجانات سے مالامال کیا ۔ میرے نزدیک یہ خطوط ہماری تہذیبی زندگی کی بہترین نمائندگی کرتے ہیں ۔

یہی دیکھ لیجئے کہ مکتوب نگار اپنے مکتوب الیہان کوکتنے احترام ، محبت ،عقیدت، بے تکلفی اور لاڈ بھرے الفاظ کے ساتھ مخاطب ہوتے ہیں ۔ کتنا مبارک عہد تھا جس میں حفظ مراتب کا اتنا خیال رکھاجاتاتھا۔ چند مثالیں قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کرتا ہوں۔

برادرمکرم زاد لطفہ ،محترمی ومکرمی زید الطافکم ، سلام ورحمت ،محب مکرم،مکرم تسلیم ،عزیز مکرم ، عزیزگرامی قدر ، مخدوم ومحترم ،تسلیم صدتعظیم ،مکرمی محترمی احسن اللہ تعالی ٰالیکم والینا، زادکم اللہ سعدا اور برادرعزیز و محبوب۔ سیدضمیر جعفری کے آٹھ مکاتیب بشریٰ رحمان کے نام ہیں۔ وہ انہیں کہیں بشریٰ جی ،کہیں محترمہ بشریٰ رحمان کہیں چولستان کی سروجنی اور کہیں روہی کی سروجنی کہہ کرمخاطب ہوتے ہیں ۔

ضمیرمرحوم جیسے اپنی زندگی میں شگفتہ طبع تھے ، ویسے ہی خطوط میں بھی نظرآتے ہیں ۔بشریٰ ہی کے نام خط کاآغاز ملا حظہ فرما لیجئے:’’ آپ مصروفیات کے بھنور میں ہوں گی ۔

مگر آپ تو ابھی ماشااللہ جواں سال ہیں ۔ میرا بھی بوڑھا ہونے کا توکوئی ارادہ نہیں اور بڑھاپا آتاہی ارادے سے ہے مگر اہلیہ کی علالت لمبی ہوتی جارہی ہے ۔

اور خواہ تیمارداروں کی پلٹن ہی کیوں نہ موجود ہو، اس عفیفہ کوہمارے ہاتھوں کے لمس کے بغیر چین نہیں آتا۔ سوہم ان کے لئے جوانی میں بھی اتنے وقف نہیں رہے جتنے اب ہیں۔ روزانہ کی ایک ڈرل یہ ہے ۔

فوجی ہسپتال میں ریڈ یائی علاج کے لئے جانا پڑتاہے ۔ فوج والے مارشل لا لگانے میں دیر کر دیتے ہیں، مگر مریضوں کے علاج کے لئے مطلقًا دیر نہیں کرتے‘‘۔ ( ص 300:)

ڈاکٹر جاوید اقبال کے خطوط بنام مولاناغلام رسول مہر،مولانا کے فرزند ارجمند امجد سلیم علوی نے مرتب کیے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ خطوط انگلستان سے لکھے جب وہ اپنا پی ایچ ڈی مقالہ لکھ رہے تھے اور انہیں موضوع سے متعلق بعض معاملات کی وضاحت چائیے تھی ان کا موضوع تھا; ’’ہندو پاکستان میں اسلامی فلسفہ سیاست کا ارتقا‘‘ ایسے تحقیقی کاموں میں محققین کی طبائع پرکیاگزرتی ہے ‘ اس حوالے سے ان کاایک بلیغ فقرہ ہے ’’تحقیق خواہ کسی موضوع پرہو،نہایت جانفشانی کاکام ہے اور میں قدرتابے صبرواقع ہوا ہوں بعض اوقات گھبراجاتاہوں ’’(ص 387) ڈاکٹرصاحب کے دوسرے خط میں پاکستان کی نظر یاتی اور تہذیبی اساس کے حوالے سے چند نہایت قابل غورباتیں ہیں جومیں بطور خاص قارئین کی خدمت میں پیش کرناچاہتا ہوں ۔

ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں محسوس کرتاہوں کہ قرون وسطیٰ کے ہندوستان میں نقشبندی ( یامجدوی ) سلسلہ جوسب سے آخرمیں ہندوستان میں قائم ہوا نے مسلمانوں کی منفرد حیثیت برقرارکھی ۔

انیسویں صدی عیسوی میں وہابی تحریک اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھی (میرا مطلب ہند ی وہابیت سے ہے ) اس تحریک نے ہندوستان دارالاسلام ہے یا دارالحرب کامسئلہ چھیڑکرمسلمانو ں پر بڑااحسان کیا یعنی انھیں ان کی سیاسی حیثیت سے آگاہ کیا۔

سرسید احمدخان اور ان کے پیروکار(یعنی اقبال تک ) سب وہابیت سے متاثر ہوئے تھے (اقبال کا فلسفہ عمل اور جدوجہد اسی تحریک کا ایک پہلو ہے ) تحریک خلافت ۔ پین اسلام ازم وغیرہ ہندوستان میں سب نقشبندی مجددی سلسلہ اور وہابی تحریک کااعجاز ہیں ۔

یعنی یہ سلسلہ اور یہ تحریک حقیقی معنوں میں حصول پاکستان سے وابستہ ہیں یا پاکستان کا معرض وجود میں آنا ان دوسلسلوں کا منطقی نتیجہ ہے جس سے انکار کرنامشکل ہے ۔

وہابیت کے زریں عہد میں مشرقی بنگال نے شمال مغربی ہندوستانی صوبوں کے مسلمانوں کی سکھ بربریت کے خلاف مددکی ۔ بنگالی مسلمان ہزاروں میل کا سفر طے کرکے سرحد پہنچے تھے ۔گویا کہ پاکستان ایک لحاظ سے انیسویں صدی ہی میں قائم تھا(ص: 390)

زیرنظر خصوصی اشاعت کابڑاحصہ (135 صفحات ) سیرت کمیٹی کے سربراہ عبدالمجید قریشی مرحوم ومغفورکے 133 اور سیرت کمیٹی کے آفس سیکرٹریوں کے 16 خطوط پرمشتمل ہے ۔ انہیں معروف اسکالرجناب ڈاکٹر محمد ارشد نے مرتب کیاہے ۔

سیرت کمیٹی کی اشاعتی سرگرمیاں دراصل شدھی اور سنگھٹن کی تحریکوں کے جواب میں برپاہوئی تھیں ۔ عبدالمجید قریشی کے خطوط کے کئی اہم پہلوہیں جن کومیں اپنے کسی اگلے کالم کاموضوع بناوں گا ۔صحیفہ کے اس نمبر کا ایک قابل تحسین پہلو یہ ہے کہ مرتبین نے مکتوب نگاروں کے بہت جامع سوانحی نوٹ اور حاشیے بھی تحریرکیے ہیں ۔

جن سے خطوط کے مندرجات کوسمجھنے میں بہت مدد ملتی ہے آخرمیں ہم صحیفہ کی مجلس ادارت کواتنے اہم علمی کارنامے پرمبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ صحیفہ کا سرسید احمد خاں نمبر بھی اسی طرح لائق ستائش ہوگا۔

مزید :

رائے -کالم -