اشارے نہیں، سیاسی بصیرت اہم ہے

اشارے نہیں، سیاسی بصیرت اہم ہے
اشارے نہیں، سیاسی بصیرت اہم ہے

  

چند روز قبل اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ عمران خان کنفیوز ہیں کہ خیبر پختون خوا اسمبلی توڑنی چاہئے یا نہیں، خان صاحب کی پارٹی پی ٹی آئی اس مسئلہ پر منقسم تھی جن میں بہت سے سینئیر پارٹی لیڈر اس حق میں تھے کہ اسمبلی توڑ کر سیاسی بحران کو تقویت دی جائے جبکہ بہت سے ممبران صوبائی اسمبلی اس رائے کے خلاف تھے کیونکہ وہ اسمبلی رکنیت کے فوائد سے محروم نہیں ہونا چاہتے تھے۔

اسی گو مگو میں خان صاحب نے اپنی پیرنی صاحبہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے اسمبلی تحلیل کرنے سے منع کرتے ہوئے انہیں کہا کہ ایسا آپ اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک وہ انہیں اس کا نہیں کہتیں۔

پچھلے دو تین سال سے عمران خان اپنی پیرنی صاحبہ کے مشوروں پر چل رہے ہیں چنانچہ انہوں نے استعفوں کا فیصلہ اس وقت تک موخر کر دیا جب تک انہیں اجازت نہیں مل جاتی۔

بشری ریاض وٹو تقریباً اٹھائیس سال تک کسٹم گروپ کے سی ایس پی افسر خاور فرید مانیکا کی زوجہ ہونے کی وجہ سے بشری مانیکا تھیں، اب دوبارہ سے بشری وٹو بن چکی ہیں اور بشری خان بننے کے مراحل میں ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ انہیں ’اشارہ‘ ہوتا ہے۔

عمران خان کی سیاست کئی سال سے ’اشاروں‘ پر چل رہی ہے، پہلے کئی سال وہ امپائروں کے اشارے کے منتظر رہتے تھے لیکن اب وہ نجومیوں اور پیرنی صاحبہ کے’ اشاروں‘ پر چلتے ہیں۔

لاکھوں کی تعداد میں وہ نوجوان جو عمران خان کی سیاسی طاقت کے طور پر سامنے آئے تھے، اب ’اشاروں‘ کی بلا چون و چرا تعمیل کی وجہ سے کہیں بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور خان صاحب کو ان کی پرواہ بھی نہیں ہے کہ وہ کیا سوچتے ہیں۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر عمران خان وزیر اعظم بن جاتے ہیں تو اہم ترین قومی معاملات میں وہ کیا فیصلے کریں گے؟ کیا وہ قومی سلامتی کے معاملات پر قومی مفادات کے مطابق فیصلے کریں گے یا ’اشاروں‘ پر چلیں گے۔

پاکستان اس وقت انتہائی سنگین حالات سے گذر رہا ہے اور اس کی مشرقی اور مغربی دونوں سرحدیں بہت حساس ہیں۔ بھارت میں نریندر مودی جیسا جنونی بیٹھا ہوا ہے بعید نہیں کہ پاکستان کے خلاف کب کیا کارروائی کر گذرے اور دوسری طرف افغانستان کے حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں۔

وہاں آئے دن ہونے والے دھماکوں نے پورے خطے کی سیکورٹی کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور اب کابل میں بھارتی سفارت خانہ کے قریب ہونے والے دھماکہ نے جس میں ہلاکتوں کی تعداد ایک سو سے تجاوز کر چکی ہے، خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں کیونکہ افغان حکومت کو بھارت ، امریکہ اور اسرائیل کی آشیرباد حاصل ہے۔

ان سنگین حالات میں فیصلے تدّبر کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے، کِسی کے اشارے پر نہیں، وزیر اعظم پاکستان ایک ایٹمی ملک کا چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں ایٹمی بٹن ہونے کی وجہ سے کسی بھی ایسے شخص پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا جو اپنے فیصلوں کے لئے پیروں اور نجومیوں کے مشوروں اور ’اشاروں‘ کا محتاج ہو۔

دوسری طرف میاں نواز شریف اس وقت پاکستان کے وہ واحد تجربہ کار سٹیٹسمین ہیں جن کی موجودہ حالات میں قوم کو جتنی ضرورت ہے پچھلے تیس پینتیس سال میں نہیں تھی۔

ایبٹ آباد، کوئٹہ، کوٹ مومن اور ہری پور کے بعد جڑانوالہ کے عوام نے ان کا جتنا پر جوش اور فقید المثال استقبال کیا ہے، اس سے قوم کا موڈ بالکل واضح ہو چکا ہے۔

میں جڑانوالہ جلسہ کے مناظر دیکھ رہا تھا جب میاں صاحب اور مریم بی بی کی آمد میں ابھی کئی گھنٹے باقی تھے، وہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی اور لوگوں کا جوش آسمان کو چھو رہا تھا۔

سپریم کورٹ کا لارجر بنچ 30 جنوری کو نا اہلیت کی مدت کا تعین کرنے جا رہا ہے اور زیادہ گمان یہی ہے کہ یہ مدت ایک سال مقرر کی جائے گی جس کے بعد اس سال 28 جولائی کو ایک سال پورا ہونے کے بعد میاں نواز شریف چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بننے کے اہل ہو جائیں گے کیونکہ اس وقت پاکستان کو قانونی تقاضوں سے زیادہ قومی تقاضے پورے کرنے کی ضرورت ہے۔

کسی بھی شخص کی شادی اس کا ذاتی معاملہ ہوتاہے لیکن جب کوئی قومی اہمیت کی اس پوزیشن پر پہنچ جائے کہ وہ قوم کے مستقبل کے فیصلوں کا ذمہ دار اور امین ہو تو پھر ایسے شخص کی زندگی اس کی ذاتی نہیں بلکہ قومی پراپرٹی بن جاتی ہے۔

عمران خان 1971 ء سے 1992ء تک پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں کھیلتے رہے، ان اکیس سالوں میں ان کی زندگی پبلک پراپرٹی نہیں تھی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے شوکت خانم ہسپتال اور دوسرے رفاہی پراجیکٹ کئے ، اس دوران بھی ان کی زندگی ان کی اپنی ذاتی زندگی تھی ۔ انہوں نے 1995ء میں برطانیہ کے مشہور ارب پتی یہودی سرمایہ دار سر جیمز گولڈسمتھ کی صاحبزادی جمائما گولڈ سمتھ سے اپنی پہلی شادی تقریباً 44 سال کی عمر میں کی۔

ان دنوں عمران خان قومی معاملات کے اعتبار سے مکمل طور پر پرائیویٹ لائف گذار رہے تھے اس لئے یہ سو فیصد ان کی ذاتی زندگی کا معاملہ تھا، لیکن چونکہ وہ کرکٹ کے ایک سابق سپرسٹار تھے، اس لئے قوم نے ان کی شادی پر بہت خوشی کا اظہار اور دلی طور پر نیک تمناؤں کا نذرانہ پیش کیا۔

شادی کے اگلے سال 1996ء میں عمران خان پاکستان تحریک انصاف کے نام سے ایک سیاسی پارٹی بنا کر عملی سیاست میں کود پڑے لیکن اگلے پندرہ سال ان کی پارٹی قومی سیاست میں کوئی قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہ کر سکی۔

اس دوران تین بار قومی انتخابات ہوئے، 1997ء میں ان کی پارٹی ایک سیٹ بھی نہ جیت سکی، 2002ء میں پی ٹی آئی کو صرف ایک سیٹ عمران خان کی ہی مل پائی جبکہ 2008ء کے انتخابات کا انہوں نے بائیکاٹ کر دیا۔

پہلی دفعہ پی ٹی آئی قومی افق پر 2011ء میں لاہور میں ہونے والے ایک جلسہ میں نمایاں ہوئی اور اس کے بعد اس کی مقبولیت اور قبولیت دونوں میں اضافہ ہوا۔ 2013ء کے انتخابات میں مسلم لیگ نواز نے بھاری اکثریت سے جیت کر وفاق اور پنجاب میں حکومتیں بنائیں۔

پاکستان تحریک انصاف قومی اسمبلی میں تیسرے نمبر کی پارٹی کے طور پر آئی جبکہ پہلی دفعہ ایک صوبائی حکومت بھی بنانے میں کامیاب ہوئی۔ ان انتخابات کو اب تقریباً پونے پانچ سال ہو چکے ہیں اور کچھ ہی مہینوں میں اگلے عام انتخابات متوقع ہیں۔

اس وقت پی ٹی آئی ملک کی دوسری بڑی پارٹی کے دعوی میں حق بجانب ہے کیونکہ پچھلے ساڑھے چار سالوں میں ہونے والے اکثر ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ نواز کے بعد وہ دوسرے نمبر پر جبکہ پیپلز پارٹی آہستہ آہستہ غائب ہوتی رہی ہے۔

اس دوران عمران خان کی جمائما خان سے طلاق ہوئی لیکن اس وقت بھی عمران خان قومی معاملات کے اعتبار سے اہم پوزیشن پر نہیں تھے اور یہ ہنوز ان کا ذاتی معاملہ تھا۔

بعد ازاں ایک اور شادی ریحام خان سے ہوئی لیکن وہ صرف دس ماہ ہی چل سکی، یہ وہ دور تھا جب عمران خان قومی سیاست میں اتنی اہمیت حاصل کر چکے تھے کہ ان کی زندگی ذاتی کی بجائے پبلک پراپرٹی بن چکی تھی کیونکہ پاکستان کی دوسری بڑی پارٹی کے سربراہ کے طور پر اگلے الیکشن کے بعد وہ وزارت عظمی کے امیدوار بھی تھے اور پاکستان کے ایک انتہائی حساس صوبہ خیبر پختون خوا میں ان کی پارٹی کی حکومت ہونے کی وجہ سے وہ قومی سلامتی کے معاملات میں غیر متعلق نہیں تھے۔

ان کی پہلی دو بیگمات برطانوی تھیں، پہلی مکمل اور دوسری دہری شہریت کی حامل برطانوی، لیکن وہ شادیاں اور طلاقیں اس لئے ان کی ذاتی زندگی سمجھ کر نظر انداز کی گئیں کہ قومی معاملات کے اعتبار سے ابھی عمران خان کی اہمیت نہیں تھی۔

اب اگر اگلے الیکشن کے بعد ان کی پارٹی کی حکومت بنتی ہے تویہ بات بہت اہم ہو گی کہ ان کے کئے گئے فیصلے کون کرتا ہے۔عمران خان اب ایک ایسے کرکٹ کے کھلاڑی نہیں ہیں جو پلے بوائے ٹائپ زندگی گذارتے رہے اور ان کے معاشقوں کی حیثیت لوگوں کے لئے چسکے سے زیادہ نہیں تھی حالانکہ کرکٹ کیرئیر کے دوران ان کے معاشقے ٹیم کی کارکردگی پر اثر انداز بھی ہوئے، خاص طور پر 1979 میں پاکستان کی مظبوط ترین ٹیم جس نے صرف ایک سال قبل بھارت کو عبرت ناک شکست دی تھی، بھارت کے دورے میں بری طرح شکست کھا گئی کہ عمران خان پر ایک بھارتی اداکارہ سے معاشقہ چلتا رہا۔

بعد کے سالوں میں بھی کئی سال تک ایما سارجنٹ اور سیتا وائٹ سے معاشقے ان کی کرکٹ پرفارمنس پر اثر اندازہوتے رہے جس میں سیتا وائٹ سے مبینہ طور پر ایک بیٹی ٹیریان بھی پیدا ہوئی اور اس سلسلہ میں امریکہ کی کیلی فورنیا کی عدالت کی رولنگ بھی موجود ہے، خیر وہ زمانہ ملکی معاملات کے اعتبار سے اہم نہیں تھا، اس لئے قوم نے زیادہ اعتراض بھی نہیں کیا۔

وہ ایک ایسے سیاست دان بھی نہیں رہے جس کی صرف ایک آدھ سیٹ ہو اور قومی اہمیت کے معاملات میں وہ تین میں ہو اور نہ تیرہ میں، اس لئے برطانوی خواتین سے شادی پر بھی اعتراضات کی بجائے خوشیاں ہی منائی گئیں۔

لیکن..... اب اگرالیکشن کے بعد عمران خان کی کوئی پوزیشن ہوئی تو ان کی زندگی ذاتی نہیں بلکہ پبلک پراپرٹی ہو گی۔اس لئے جب وہ کہتے ہیں کہ فلاں معاملہ پر انہیں نجومیوں نے فلاں مشورہ دیا ہے یا جب اخبارات میں یہ خبریں شائع ہوتی ہیں کہ خان صاحب نے فلاں فلاں فیصلے اپنی پیرنی صاحبہ پر آنے والے ’اشاروں‘ کی وجہ سے کئے تو قوم میں تشویش پیدا ہونا لازمی ہے۔ پاکستان جیسے حساس ملک کے معاملات پیروں اور نجومیوں پر نہیں چھوڑے جا سکتے ۔

اس وقت پاکستان کو قانونی تقاضوں سے زیادہ قومی تقاضے پورے کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -