عدلیہ کا احترام، جمہوریت کا استحکامس

عدلیہ کا احترام، جمہوریت کا استحکامس
عدلیہ کا احترام، جمہوریت کا استحکامس

  

میرا خیال ہے جتنی حیرت عام لوگوں کو ہے کہ عدلیہ اور ججوں کے خلاف اتنی کھلی تنقید کے باوجود نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو سپریم کورٹ توہین عدالت کا نوٹس کیوں جاری نہیں کررہی، اتنی ہی حیرت خود نواز شریف کو بھی ہوگی کہ ان کی تمام تر کوشش کے باوجود سپریم کورٹ ان کی طرف متوجہ نہیں ہورہی۔ عمران خان، بلاول بھٹو زرداری، پرویز الٰہی، ڈاکٹر طاہر القادری، شیخ رشید اور باقی کئی لیڈر مسلسل یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف عدلیہ مخالف مہم پر کارروائی کی جائے، مگر جسٹس ثاقب نثار ہیں کہ اس طرف دیکھنا ہی گوارا نہیں کررہے، اب سمجھنے والوں کے لئے اس میں بہت سے اشارے موجود ہیں، خاص طور پر نواز شریف کو بھی یہ سمجھ آ جانی چاہئے کہ ان کی اس مہم کا کوئی اثر اس جگہ نہیں ہورہا، جہاں وہ پہنچانا چاہتے ہیں، وہ اپنے خطابات سے اپنے ہی تاثر کو منفی تر کررہے ہیں، جس سے حاصل کچھ نہیں ہونا، مریم نواز کو تو ویسے ہی چھوٹ حاصل ہے ان کی کسی بات کا تو نوٹس لیا ہی نہیں جائے گا، کیونکہ ان کی باتوں میں بچگانہ پن بھی ہے اور ایک خواہ مخواہ کا غصہ بھی۔۔۔ مثلاً جڑانوالہ کے جلسے میں وہ یہ سوال پوچھ گئیں کہ کیا آپ کو ایسا پاکستان چاہئے جس میں وزیراعظم کو عدالت میں طلب کیا جائے؟

۔۔۔ وہ یہ بات بھول گئیں کہ خود آئین میں وزیراعظم کو ایسی کوئی چھوٹ نہیں دی گئی کہ انہیں عدالت میں طلب نہیں کیا جاسکتا، جن عہدوں کو آئین نے مستثنیٰ قرار دینا تھا، انہیں دیا ہے، مگر ان میں وزیراعظم کا عہدہ شامل نہیں، اب مریم بی بی کیا آئین کی بنیادی روح کو بھی بدلنا چاہتی ہیں، ایسی غیر سنجیدہ بات کا کسی کو بھی نوٹس لینے کی کیا ضرورت ہے۔

عملاً تو صورت حال یہ ہے کہ پورا ملک سپریم کورٹ کی زیر نگرانی چل رہا ہے، لاہور میں زینب کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے یہ بھی کہہ دیا کہ میں افتخار محمد چودھری نہیں، ثاقب نثار ہوں، میں جانتا ہوں مجھے کیا کرنا ہے؟

اب انہوں نے ایک اور حکم جاری کردیا ہے کہ وزیراعظم یا وزرائے اعلیٰ کسی واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کے لئے نہ کہیں، یہ کام پولیس اور دیگر تفتیشی اداروں کا ہے، انہی کو کرنا چاہئے، اب ایسے اقدامات کی موجودگی میں یہ کیسے کہا جائے گا کہ عدلیہ انتظامیہ کے معاملات میں دخل دے رہی ہے، وہ اداروں کو مضبوط کرنے کے لئے ان پر انحصار کرنے کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہے، ذرا خدا لگتی کہئے کہ کراچی میں نقیب اللہ قتل کیس میں اگر سپریم کورٹ از خود نوٹس نہ لیتی تو سندھ حکومت یا پولیس کچھ کرتی، جسے مل جل کر غائب کردیا گیا ہے کیا اس کے خلاف کسی کو انصاف ملتا؟ 18 ویں گریڈ کا ایک پولیس افسر آئی جی اور ڈی آئی جی کو بھی دھمکیاں دے رہا ہے کہ وہ ان کے راز افشا کردے گا، ایسے آدمی کو کون لگام ڈال سکتا تھا، یہ تو سپریم کورٹ کا نوٹس ہے جس نے اسے بھاگنے پر مجبور کردیا ہے اور جے آئی ٹی کی رپورٹ بھی اس کے خلاف آگئی ہے، اب ایک ایسی عدلیہ کے بارے میں جو غیر جانبدار رہ کر عوامی مسائل کا حل بھی اداروں سے تلاش کروا رہی ہے، اور انہیں طاقتوروں کے خلاف انصاف بھی دے رہی ہے، نواز شریف کا بیانیہ بے وقت کی راگنی ہی نظر آتا ہے، یہ کیسی عجیب دہائی ہے کہ مجھے پارٹی صدارت سے کس طرح ہٹایا جاسکتا ہے، جب اس کا قانون پارلیمنٹ نے پاس کیا ہے، اگر مجھے ہٹانے کا فیصلہ دیا گیا تو عوام سڑکوں پر آجائیں گے، کیا پہلے کبھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت کسی کیس میں ایسا بیانیہ اختیار کیا گیا، بھٹو جیسا بڑا رہنما بھی قتل کیس میں خاموشی سے قانونی جنگ لڑتا رہا اور جنگ ہارنے پر زندگی ہار گیا، نواز شریف زیر سماعت مقدمے کے بارے میں ایسی بات کہہ کر جو براہ راست دھمکی دے رہے ہیں، وہ کس قسم کی روایات کو جنم دے گی؟ اگر خدا نخواستہ ہر ایک نے یہی وتیرہ اختیار کرلیا تو نچلی سطح پر عدالتوں میں بیٹھے ہوئے جج صاحبان مجرموں کی دھمکیوں سے کیسے محفوظ رہیں گے؟

نواز شریف جب جڑانوالہ کے جلسے میں اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہے تھے تو بہت اچھے لگ رہے تھے، سیاستدان کا یہی بیانیہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کی کمزوریوں کو اجاگر کرتا ہے، انہوں نے ڈاکٹر طاہر القادری کے پٹاخے سے ڈر جانے والے واقعے کی جو نقل اتاری وہ بھی خاصی محظوظ کرنے والی تھی، اس سے لگا کہ وہ ذہنی طور پر دباؤ سے نکل رہے ہیں، مگر جب انہوں نے ججوں کو نشانہ بنایا، عدلیہ پر وار کئے اور لوگوں کو اکسایا کہ وہ عدلیہ کا فیصلہ مسترد کردیں، تب ان کی شخصیت ایک ایسے شکست خوردہ انسان میں بدل گئی جو مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور ایک ایسی آسانی مانگتا ہے، جس کی قانون میں گنجائش ہی نہیں ہوتی، مثلاً کوئی بھی ریفرنڈم سپریم کورٹ کے فیصلے کو کیسے تبدیل کرسکتا ہے؟ بیس کروڑ عوام بھی نواز شریف کے حق میں فیصلہ دے دیں، آئین کے تحت سپریم کورٹ کا فیصلہ ایسے تبدیل نہیں ہوسکتا، ابھی دو ہفتے پہلے تمام دینی جماعتوں نے ایک چارٹر پر دستخط کئے ہیں جس میں ایک یہ شق بھی شامل ہے کہ جہاد کا اعلان صرف ریاست کرسکتی ہے، اور کسی کو اس کا حق نہیں، اسی طرح ریفرنڈم بھی ریاست کراتی ہے، ایسے جلسوں سے تو ریفرنڈم نہیں ہوجاتا، پھر نواز شریف وہ بات کیوں کررہے ہیں، جس کی آئین میں گنجائش ہی نہیں، عقل کے اندھے کو بھی پتہ ہے کہ نواز شریف یہ جلسے اپنے سیاسی مخالفین کے لئے نہیں کررہے بلکہ ان کا مقصد سپریم کورٹ کے ججوں کو دباؤ میں لانا ہے، مریم نواز اور دیگر وزراء کا یہ بیانیہ بھی قابل غور ہے کہ نواز شریف چوتھی مرتبہ بھی وزیراعظم بنیں گے، یہ کیا بالواسطہ پیغام ہے جو ججوں کو دیا جارہا ہے کہ وہ نواز شریف کے راستے کی رکاوٹیں ختم کریں تاکہ وہ وزیراعظم بن سکیں، نواز شریف تو پوائنٹ آف نور ٹرن کی طرف چلے گئے ہیں، وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ ججوں کو بالکل بے اختیار کردیا جائے، سپریم کورٹ منتخب وزیراعظم کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ سکے، ایک بار جسے عوام نے منتخب کرلیا وہ ہر قسم کے احتساب اور قانون سے بالا تر ہوگیا۔ ایسا کس مہذب ملک میں ہوتا ہے اور اسے کس جمہوریت میں قبول کیا جاتا ہے۔

دنیا کے ہر ملک میں حکمران کرپشن کی وجہ سے قانون کے شکنجے میں آتے ہیں اور فی الفور اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجاتے ہیں، عدالتوں سے سزائیں بھی پاتے ہیں اور جیل کی ہوا بھی کھاتے ہیں، یہ ڈرامہ تو کہیں بھی نہیں ہوتا کہ عوام نے منتخب کیا ہے تو اب احتساب بھی وہی کریں گے، کسی عدالت یا ادارے کو اس کا کوئی حق نہیں، یہ انوکھی منطق تو پاکستان ہی میں متعارف کرائی گئی ہے اور اس کا سارا کریڈٹ بھی نواز شریف کو ہی جاتا ہے، ستم ظریفی یہ ہے کہ اسے جمہوریت کی مضبوطی کا نام بھی دیا جا رہا ہے۔ نواز شریف جوشِ خطابت میں بہت سی باتیں بھول جاتے ہیں یا وہ عوام کو بے وقوف سمجھتے ہیں، مثلاً جلسے میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ان کی حکومت تھی تو امریکہ کو ڈرون حملے کرنے کی جرات نہیں ہوتی تھی، اول تو ان کے دور میں بھی مسلسل ڈرون حملے ہوئے دوسرا اب کس کی حکومت ہے، سارا ملک جانتا ہے کہ اب بھی نواز شریف کا سکہ ہی چل رہا ہے، خود وزیراعظم شاہد خاقان عباسی صبح و شام یہ ورد کرتے ہیں کہ ان کے وزیراعظم آج بھی نواز شریف ہیں، جب سب کچھ ان کے اشارہء ابرو پر چل رہا ہے تو وہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ حکومت کی پالیسی بدل گئی ہے؟

جو بیانیہ آج پاکستان نے امریکہ کے سامنے اختیار کیا ہوا ہے اور جس میں اسے ڈو مور کے لئے صاف انکار کردیا گیا ہے، ایسا تو نواز شریف کے دور میں کبھی اختیار نہیں کیا گیا، جلسوں میں حقائق کو توڑ مروڑ کر بیان کرنا آسان ہوتا ہے، تاہم میڈیا چینلوں کے ذریعے ماضی و حال کی تمام صورتیں سامنے آجاتی ہیں، ممکن ہے نواز شریف یہ سمجھتے ہوں کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں وہ پاکستان میں پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کے لئے ضروری ہے، مگر ان کا عدلیہ پر اس طرح حملہ آور ہونا پارلیمنٹ تو کیا جمہوریت کو بھی کمزور کررہا ہے، کیونکہ وہ سیاستدانوں کے لئے مادر پدر آزادی مانگ رہے ہیں، جو تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -