روس کی میزبانی میں شامی امن کانفرنس آج،اپوزیشن کا بائیکاٹ

روس کی میزبانی میں شامی امن کانفرنس آج،اپوزیشن کا بائیکاٹ

  

دمشق/ماسکو(این این آئی) سیرین نیشنل ڈائیلاگ کے عنوان سے منعقدہ دوروزہ امن کانفرنس آج(پیر سے)شروع ہوگی،ادھرروس نے باور کرایا ہے کہ سوچی میں شام کے حوالے سے منعقدہ ہونے والی امن کانفرنس اہم ضرور ہو گی مگر یہ کانفرنس شام کے بحران کے جامع سیاسی حل کے لیے کافی نہی ہو سکتی۔عرب ٹی وی کے مطابق روس کے سیاحتی مقام سوچی میں سیرین نیشنل ڈائیلاگ کے عنوان سے منعقدہ دوروزہ امن کانفرنس آج(پیر سے)شروع ہوگی،ادھر روسی حکومت کے ترجمان دیمتری بیسکوف نے ایک بیان میں کہاکہ صدر ولادی میر پوتین موجودہ حالات میں شام کی امن کانفرنس میں شرکت کے لیے پرعزم نہیں۔انہوں نے کہاکہ سیرین نیشنل ڈائیلاگ کے عنوان سے منعقدہ امن کانفرنس میں شام کی 1600 اہم شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے،اور29 اور 30 جنوری کو ہونے والی کانفرنس ک کامیاب بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے ہیں۔روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخاروفا نے کہا کہ سوچی میں ہونے والی شام ڈئیلاگ کانفرنس میں وزیرخارجہ سیرگی لافروف شرکر کریں گے۔درایں اثناء شام کے ایک اہم کرد عہدیدار نے بتایا کہ کرد قیادت کی طرف سے سوچی کانفرنس میں شرکت نہیں کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی کی جانب سے عفرین میں کارروائی جاری رہتے ہوئے کرد کسی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔دوسری جانب نصر الحریری کی زیرقیادت شامی اپوزیشن کی نمائندہ سپریم مذاکراتی کونسل نے سوچی کانفرنس میں مشروط شرکت پرآمادگی ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ سوچی کانفرنس کو ماضی کے مذاکراتی عمل کی طرح نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سوچی کانفرنس میں اسد رجیم کو اقوام متحدہ کی قرارداد 2254 پر عمل درآمد کی پابندی اور جنیوا میں ہونے والے امن مذاکرات میں کردہ شرائط پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا

مزید :

عالمی منظر -