بنی گالہ کے مکینوں کا عمران کے گھر کے باہر دھرنا دینے کا فیصلہ

بنی گالہ کے مکینوں کا عمران کے گھر کے باہر دھرنا دینے کا فیصلہ

  

اسلام آباد(صباح نیوز)بنی گالہ کے عوام نے عمران خان کے گھر کے باہر دھرنا دینے کا پروگرام بنا لیا۔ سپریم کورٹ کے حکم کی اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے حکام کی جانب سے غلط تشریح کی وجہ سے بنی گالہ میں چھوٹے گھروں کی تعمیر کرنے والے غریب شہری اذیت میں مبتلا ہو گئے۔ بلند و بالا عمارتوں کی تعمیرات کا کام اندرونِ خانہ جاری، چھوٹے گھروں کی تعمیر پر پابندی عائد کر دی گئی۔ عدالت عظمی نے 24 اپریل 2017 کوعمران خان کی درخواست پربنی گالہ، بوٹینکل گارڈن اور نیشنل پارک کے علاقوں میں درختوں کی کٹائی پر پابندی عائد کرتے ہوئے واپڈا اور سوئی نادرن گیس کو ہدایت کی تھی کہ خلاف قانون بننے والی عمارتوں کو کنکشن فراہم نہ کئے جائیں۔مقامی لوگوں کے مطابق سی ڈی اے اور آئی سی ٹی انتظامیہ نے عدالتی فیصلے کی غلط تشریح کرتے ہوئے رشوت کے لئے دروازے کھول لئے ہیں۔مٹھی گرم ہونے پر تعمیرات کی اجازت دی جا رہی ہے جبکہ عام غریب شہری جو پانچ یا اس سے کم مرلے زمین پر گھر بنانا چاہتا ہے اس کے لئے اجازت لینا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔معززین کا کہنا ہے گذشتہ دس ماہ سے عدالتی حکم کی وجہ سے مقامی متوسط اور غریب طبقے کے لئے انتظامیہ کی جانب سے مشکلات کھڑی کر دی گئی ہیں جبکہ عمران خان کے وکیل کی عدالت عظمی میں عدم پیشی کے باعث ایک سال سے معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ مقامی لوگ عمران خان کے گھر کے باہر دھرنا دینے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔

مزید :

علاقائی -