کچلے طبقات کے وسیع تر اتحاد تک مسائل حل نہیں ہونگے: چیئرمین سینیٹ

کچلے طبقات کے وسیع تر اتحاد تک مسائل حل نہیں ہونگے: چیئرمین سینیٹ

  

کراچی (این این آئی) چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے پاکستان اس وقت جس نہج پر کھڑا ہے، اس کو مسائل سے نکالنے کیلئے عملی جدوجہد کی اشد ضرورت ہے، جب تک کچلے طبقات کا وسیع تر اتحاد نہیں بنے گا، مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اشرافیہ کے اپنے مسائل جبکہ ریاست اور عوام کا اپنا ایجنڈا ہے، اس لئے مل کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ ریاستی ذہن عملی جدوجہد کے بغیر تبدیل نہیں ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹریڈ یونین، صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹیز آرگنائزیشن کے تحت ’’سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں تھرڈ پارٹی ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ‘‘ کے عنوان سے سیمینار سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جسٹس (ر) رشید اے رضوی، مزدور رہنما لیاقت علی ساہی، پائلر کے ڈائریکٹر کرامت علی، انیس ہارون اور کراچی پریس کلب کے صدر احمد ملک سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔ رضا ربانی نے کہا پاکستان کی اشرافیہ نے کافی ہاؤس جہاں سے سوچ جنم لیتی تھی اس کو ختم کردیا ہے۔ اگر جہالت کی نظم ’’میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا‘‘ نہ ہوتی تو تاریخ کچھ مختلف ہوتی۔ آج جان ایلیا، جالب کا متبادل کوئی نہیں۔ جب کافی ہاؤس کلچر پر پابندی لگی تو ہم سب خاموشی سے بیٹھ گئے ۔ اس میں، میں خود کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہوں۔ ملک میں مزدوروں کی ایک طاقت تھی لیکن ریاست نے ایک مقصد کے تحت ٹریڈ یونین کو ختم کیا جس کی وجہ سے پاکٹ یونین پیدا ہو ئی، اس کیساتھ ساتھ بین الاقوامی مالیات کے اداروں کا اثر پاکستان کی معیشت پر بڑھتا چلا گیا ۔ ہم سپر یم کورٹ کے فیصلے کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن میرا بنیادی سوال ہے اس فیصلے پر عملدرآمد کون کرائے گا۔ مزدوروں پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات بن رہے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے واقعات کو اگر دیکھ لیں تو ایک رجعت پسند طلباء تنظیم کے لوگوں نے بلوچی اور پختون طلباء پر حملہ کیا لیکن ریاست نے اس کا جواب کچھ یوں دیا کہ 180 بلوچی اور پختون طلباء اٹھا کر کوٹ لکھپت جیل میں ڈال دیئے اور ان پر انسداد دہشت گردی کے تحت مقدمے درج کردیئے۔ اب بات ریاستی ذہنیت کی ہے۔ ریاستی ذہن عملی جدوجہد کے بغیر تبدیل نہیں ہوگا۔ کہ پاکستان اب جس نہج پر کھڑا ہے اس میں عملی جدوجہد کی اشد ضرورت ہے۔ پاسینیٹ میں مزدوروں کے حوالے سے میں نے کمیٹی بنائی تھی لیکن اب ہمارا پارلیمانی سال ختم ہورہا ہے۔ اب کوئی نیا چیئرمین آئے گا۔ میں یہ یقین دلاتا ہوں کہ جو بھی نیا چیئرمین آئے گا، میں اس سے درخواست کروں گا کہ وہ اس کمیٹی کی تشکیل نو کرے۔ رشید اے رضوی نے کہا کہ محنت کشوں نے عدلیہ کی آزادی کی تحریک میں بہت ہی کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔

مزید :

علاقائی -