قصور: بچی دے بداخلاقی کی کوشش، عوام کا ملزم پر تشدد، پولیس کے بروقت نہ پہنچنے پر احتجاج

قصور: بچی دے بداخلاقی کی کوشش، عوام کا ملزم پر تشدد، پولیس کے بروقت نہ پہنچنے ...

  

قصور(بیورورپورٹ)8سالہ بچی سے بداخلاقی کی کوشش کرنیوالے ملزم کیخلاف کاروائی پر مجرمانہ غفلت کرنے پر پولیس تھانہ کوٹ راد ھاکشن کیخلاف احتجاج،روڈ بلاک کرکے پولیس کیخلاف نعرہ بازی ،ڈی پی او قصور نے اس واقعہ کی اطلاع پر دو پولیس اہلکاران کو نوکری سے معطل اور ملزم کیخلا ف مقدمہ درج کر وادیا۔تفصیلات کے مطابق کوٹ رادھاکشن کے علاقہ بگھیل سنگھ میں میں واقع شہباز نامی دکاندار سودا لینے کے لیے آنے والی 8سالہ بچی لائبہ کو بداخلاقی کا نشانہ بنانے کے لیے لے کر جارہا تھا کہ اس دوران اسے شک ہوا کہ مجھے کسی شخص نے دیکھ لیا ہے تو اس درندے نے لائبہ کو چھوڑ دیا۔ بچی کے اپنے گھر والوں کو تمام حالات بتانے پر اہل علاقہ سراپا احتجاج ہوکر شہباز نامی شخص پر تشدد کرکے ملزم کے خلاف کاروائی کے لیے پولیس کو اطلاع دی مگر پولیس کے نہ پہنچنے پر لوگوں نے روڈ بلاک کرکے احتجاج شروع کرنے پر آنے والے دو پولیس اہلکاروں کو مظاہرین نے یرغمال بنا کر پولیس گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا اور احتجاج جاری رکھا۔ ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت نے واقعہ کی اطلاع ملنے پر محرر چوکی پچر محمدحنیف اور کانسٹیبل طارق ندیم کو معطل کرکے ملزم شہباز کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا جبکہ اس دلخراش واقعہ کی اطلاع ملنے پر کوئی بھی پولیس افسر موقع پر نہیں پہنچ سکا ۔مگر پولیس افسران کو بچانے کے لیے دو پولیس اہلکاروں کو قربانی کا بکرا بنا کر معطل کر دیا گیا۔ایس ایچ او نصر اللہ بھٹی سے واقعہ کی تفصیلات لینے کے لیے ان کے موبائل پر رابطہ کیا گیا جس پر گھنٹیاں بجنے کے باوجودانہوں نے حسب روایت اٹینڈ نہیں کیا ۔معززین نے کہا کہ ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت اس وقعہ کی خود انکوائری کرکے پولیس اہلکاروں کی بجائے ذمہ داران کے خلاف قانونی کاروائی کریں ۔

مزید :

صفحہ آخر -