کراچی میں انتظار پر حملے کی ویڈیو منظر عام پر آگئی، مجھے ایسی تحقیقات پر بھروسہ نہیں: والد

کراچی میں انتظار پر حملے کی ویڈیو منظر عام پر آگئی، مجھے ایسی تحقیقات پر ...

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) مشکوک پولیس مقابلے میں ہلاک نوجوان انتظار قتل کیس میں اہم پیشرفت سامنے آگئی ہے۔ فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ ملزمان نے گھات لگا کر انتظار کو گھیر کر قتل کیا، فائرنگ سیاہ رنگ کی کار میں موجود شخص کے اشارہ کے بعد کی گئی۔فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سیاہ رنگ کی ایک کار نے انتظار کی گاڑی کا راستہ روکا، جس کے ساتھ ہی موٹرسائیکل سوار دو افراد اس طرح نمودار ہوئے جیسے وہ انتظار کی کار کا تعاقب کر رہے ہوں۔مقتول انتظار کے والد نے ایس ایس پی مقدس حیدر کو بیٹے کا قاتل قرار دے دیا۔یک ملزم کو پیدل کار کے پیچھے فائرنگ کرتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے، ملزمان کی جانب سے 18 گولیاں چلائی گئیں جن میں سے ایک گولی انتظار کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔انتظار کی کار روکنے والے کون تھے، بعد میں آنے والی کار میں کون سوار تھے، انتظار کی کار میں بھی ایک لڑکی سوار تھی جسے کلین چٹ دے دی گئی۔سی سی ٹی وی فوٹیج نے انتظار قتل کیس میں مزید سوالات پیدا کر دیے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قتل کا ماسٹر مائنڈ کوئی اور ہے اور پولیس اہلکاروں کو صرف استعمال کیا گیا ہے۔دوسری جانب مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ عدالت میں سماعت کے دوران غیر متعلقہ افراد موجود تھے، مجھے ایسی تحقیقات پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔میں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری سے رجوع کروں گا، مجھے جے آئی ٹی پر ہی تحفظات ہیں، تاہم مجھے تعاون کی امید ہے۔مقتول انتظار حسین کے اہلخانہ کے وکیل محمد آصف نے میڈیا کو بتایا کہ جے آئی ٹی نے جائے وقوع کے دورے کے وقت ان سے رابطہ نہیں کیا۔ مشکوک پولیس مقابلے میں ہلاک نوجوان انتظار قتل کیس میں اہم پیشرفت سامنے آگئی ہے۔ ایک نجی چینل نے مشکوک پولیس مقابلے میں جاں بحق انتظار احمد کے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی ہے۔فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ انتظار اپنی سفید گاڑی میں بیٹھا ہے۔ موٹر سائیکل پر سوار سادہ کپڑوں میں ملبوس بلال اور دانیال نامی اے سی ایل سی کے اہلکار مقتول انتظار کی گاڑی کو روکتے ہیں، پھر ایک کالے رنگ کی دوسری گاڑی آکر رکتی ہے جو موٹرسائیکل پر سوار پولیس اہلکاروں کے ساتھی ہی تھے۔موٹرسائیکل پر سوار دو اہلکار انتظار کی گاڑی کا پیچھا کرتے ہوئے گاڑی کے قریب رک جاتے ہیں۔دوسری جانب مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ عدالت میں سماعت کے دوران غیر متعلقہ افراد موجود تھے، مجھے ایسی تحقیقات پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔میں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری سے رجوع کروں گا، مجھے جے آئی ٹی پر ہی تحفظات ہیں، تاہم مجھے تعاون کی امید ہے۔مقتول انتظار حسین کے اہلخانہ کے وکیل محمد آصف نے میڈیا کو بتایا کہ جے آئی ٹی نے جائے وقوع کے دورے کے وقت ان سے رابطہ نہیں کیا۔

مزید :

صفحہ آخر -