وزیر اعلٰی پرویز خٹک کی تیمر گرہ میڈیکل کالج جلد مکمل کرنے کی ہدایت

وزیر اعلٰی پرویز خٹک کی تیمر گرہ میڈیکل کالج جلد مکمل کرنے کی ہدایت

  

پشاور (سٹاف رپورٹر )وزیراعلیٰ خیبرپختونخواپرویز خٹک نے ضلع لوئر دیر کے صدر مقام تیمر گرہ میں میڈیکل کالج کے قیام کے اہم منصوبے کو جلد ازجلد مکمل کرنے اور اس مقصد کیلئے ضروری لوازمات پورا کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے منصوبے کیلئے درکار باقی ماندہ فنڈز کے فوری اجراء کی ہدایت بھی کی ۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں تیمرگرہ میڈیکل کالج کے حوالے سے پیشرفت اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں سینئر وزیر بلدیات عنایت اﷲ، صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ، دیرپائیں سے رکن صوبائی اسمبلی حاجی سعید گل، سیکرٹری خزانہ، اعلیٰ تعلیم، منصوبہ بندی و صحت، وی سی خیبرمیڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر حفیظ اﷲ، تیمر گرہ میڈیکل کالج کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔ وزیراعلیٰ نے کالج کی تعمیر اور عملے کی بھرتی کے پلان پر فوری عملی اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ منصوبہ علاقے کی تعلیمی و طبی ضروریات کے پیش نظر نا گزیر ہے۔ اُنہوں نے کالج کیلئے تدریسی و انتظامی عملے کی بھرتی اور آلات کی خریداری کیلئے دو الگ پی سی ون کی تیاری سے عدم اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ اس کی وجہ سے کاغذی کاروائی کا ایک طویل عمل دوبارہ شروع ہو جائے گا اسلئے پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق تمام اُمور برق رفتاری سے انجام دیئے جائیں۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ وقت آگیا ہے کہ ہم اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیم کی طرف توجہ دیں صوبے میں نئے سکولز ، کالجز اور یونیورسٹیاں قائم کی جارہی ہیں کیونکہ نئی یونیورسٹیوں کا قیام ہی قوم کی ترقی کا ضامن ہے ۔ موجودہ حکومت کی طرف سے تعلیمی اور طبی ایمرجنسی کا نفاذ اسی مقصد کے پیش نظر کیا گیا ہے اور اﷲ تعالیٰ کے فضل سے اس ضمن میں کافی پیشرفت کی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ معیاری تعلیم کی بہتری اور طبی سہولیات میں اضافے کیلئے صوبے کے ہر ضلع میںیونیورسٹی کیمپس اور فعال ہسپتال ہونے چاہئیں تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر ہی تعلیم اور صحت کے بہتر مواقع میسر آئیں ۔

پشاور (سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے شیخ ملتون ٹاؤن مردان میں انفراسٹرکچر کی بحالی کا کام 15 مارچ تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔اُنہوں نے ہدایت کی کہ کام سو فیصد مکمل کرکے آگے بڑھیں اور فنشنگ بھی ضروری ہے ۔توڑ پھوڑ کرکے آگے نکلتے جائیں گے تو عوام کیلئے مسائل پیدا ہوں گے ۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ صوبائی وزیر محمد عاطف خان، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، واٹر سپلائی اینڈ سنٹیشن کمپنی مردان ، مردا ن ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور نیشنل لاجسٹک سیل کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔اجلاس کو شیخ ملتون ٹاؤن مردان سمیت این ایل سی کے ذریعے زیر تعمیر ترقی و بحالی کی دیگر سکیموں پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ شیخ ملتون ٹاؤن میں 325.625 ملین روپے کی لاگت سے ا نفراسٹرکچر کی بحالی کے فیز I پر 12 جنوری 2017 سے کام شروع ہے ۔پراجیکٹ کی مدت 12 ماہ تھی ۔78 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے ۔وزیراعلیٰ نے 15 مارچ 2018 تک ہر صورت میں پراجیکٹ مکمل کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ منصوبے کا معیار یقینی بنایا جائے ۔ترقی نظر آنی چاہیئے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ زیر تعمیر پارکس بھی فروری میں مکمل ہوں گے ۔جواد چوک فلائی اوور مردان پر بھی کام شروع ہے ۔ اپریل تک فلائی اوور کاکام مکمل کرلیں گے ۔ چارسدہ چوک فلائی اوور مردان بھی اپریل میں مکمل ہو گا۔ میگا پارک مردان کی ترقی پر بھی کام ابھی شروع کیا ہے ۔ چھ ماہ میں مکمل ہو گا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر مردان میں کمرشل اور رہائشی پلاٹس کی فروخت پر بھی پیش رفت طلب کی اور ہدایت کی کہ 30 مارچ تک تمام پلاٹس فروخت ہونے چاہئیں ۔ پلاٹس کی فروخت میں شفافیت یقینی بنائی جائے ۔پبی کی بحالی اور خوبصورتی کیلئے جاری سکیم پر پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے اجلاس کو بتایا گیا کہ جی ٹی روڈ کے اطراف میں جنگلے زیادہ تر لگائے جا چکے ہیں تاحال سڑک پر جنریٹر کے ذریعے لائٹنگ بھی فعال کردی گئی ہے ، ٹرانسفارمرز پہنچ چکے ہیں مگر واپڈا کی طرف سے ڈیمانڈ نوٹس اور کنکشن باقی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ کام میں بلاوجہ تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ ٹھیکیداروں کو بروقت ادائیگی کریں اور تیز رفتار ی سے کام لیں۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -