احمد حسین ڈیہڑ کے اندرون و بیرون ممالک اثاثوں کی تلاش بھی شروع

احمد حسین ڈیہڑ کے اندرون و بیرون ممالک اثاثوں کی تلاش بھی شروع

  

ملتان(نمائندہ خصوصی) چیئرمین نیب پاکستان جسٹس ر جاوید اقبال نے کروڑوں روپے مالیت کے سرکاری وسائل کے غیر قانونی استعمال میں ملوث سابق ایم پی اے ملک احمد حسین ڈیہڑ کے بارے میں رپورٹ طلب کرلی ہے ڈی جی نیب ملتان کو رواں ہفتہ کے دوران ملک احمد حسین کیخلاف موصول ہونے والی شکایات اور ان پر کی گئی کارروائی کی رپورٹ نیب ہیڈ کوارٹر بھجوانے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں نیب ملتان کو ملک احمد حسین ڈیہڑ کے اندرون ملک اور بیرون ممالک میں بھی اثاثہ جات کی تلاش کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے بتایا گیا ہے چیئرمین نیب پاکستان کی سربراہی میں 23 جنوری کو نیب حکام کی اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوئی اس میٹنگ میں چیئرمین نیب نے جہاں دیگر میگا سکینڈلز کیخلاف کارروائی کے احکامات جاری کیے وہیں پیپلز پارٹی دور کے ایم پی اے ملک احمد حسین ڈیہڑ کیخلاف 75 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے سرکاری فنڈز کے غیر قانونی استعمال کی شکایت کا نوٹس بھی لیا چیئرمین نیب نے ڈی جی نیب ملتان کو فوری طور پر سابق ایم پی اے کیخلاف موصول شکایات کی چھان بین کا حکم دیا جس پر ڈی جی نیب ملتان نے ایک آفیسر کو ذمہ داری سونپ دی معلوم ہوا ہے اب تک کی کارروائی میں ملک احمد حسین ڈیہڑ کیخلاف سرکاری وسائل کے غیر قانونی استعمال کے ٹھوس شواہد سامنے آئے ہیں جبکہ اس پر مزید کام جاری ہے معلوم ہوا ہے ابتدائی چھان بین کے دوران اس نکتہ پر فوری توجہ دی گئی ہے کہ جن اراضی پر آبادی کا دباؤ شو کرکے 75 کروڑ روپے سے زائد سرکاری وسائل خرچ کیے گئے وہاں کا سکول اپ گریڈ کیوں نہیں کیا گیا وہ تاحال متعلقہ حکام کے نام ٹرانسفر کیوں نہیں ہو سکی اسی طرح واسا کی جانب سے ملک احمد حسین ڈیہڑ کی اراضی کے گرد بچھائی گئی سیوریج لائنز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ کروڑوں روپے کی مالیت سے تیار ہونیوالی سڑکیں اور بجلی تنصیبات کا ریکارڈ بھی اکٹھا کیا جا رہا ہے معلوم ہوا ہے چیئرمین نیب پاکستان کے سخت احکامات کی وجہ سے ملک احمد حسین ڈیہڑ کے کیس پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے دوسری جانب پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم کو انجوائے کرکے پاکستان تحریک انصاف کو جوائن کرنے والے ملک احمد حسین ڈیہڑ بھی اپنے تعلقات کو استعمال کررہے ہیں تاکہ کروڑوں روپے مالیت کے کیس کو ابتدائی سٹیج پر ہی کنٹرول کیا جا سکے ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -