کراچی ، پولیس مقابلے کے چاروں ہلاک شدہ گان بے گناہ ثابت : تحقیقاتی رپورٹ

کراچی ، پولیس مقابلے کے چاروں ہلاک شدہ گان بے گناہ ثابت : تحقیقاتی رپورٹ

  

کراچی (کرائم رپورٹر ) سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار پولیس مقابلے کے چاروں ہلاک شدگان بے گناہ ثابت، تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کے بعد 13پولیس افسروں کے ایئرپورٹ انٹری پاسز بھی منسوخ کردیئے گئے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جمع کی جانے والی نقیب اللہ قتل کیس کی تحقیقاتی رپورٹ میں مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقابلے میں مارے جانے والے چاروں افراد بے گناہ تھے،ان چاروں نوجوانوں کا کوئی کرمنل ریکارڈ نہیں ملا، رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ راؤ انوار نے جعلی مقابلے میں نقیب اللہ، نذر جان، محمد اسحاق اور محمد صابر کو قتل کیا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چاروں افراد کے خلاف کوئی کرمنل ریکارڈ نہیں ملا، بہاولپور کے رہائشی محمد اسحاق کے خلاف کہیں کوئی مقدمہ درج نہیں۔ اس کے علاوہ احمد پورکے محمد صابرکا بھی سندھ میں کوئی کرمنل ریکارڈ نہیں ہے، تحقیقات میں جنوبی وزیرستان کے نقیب اللہ اورنذرجان کا بھی کرمنل ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔ رپورٹ کے مطابق چاروں افراد کے کرمنل ریکارڈ کے لیے پنجاب، کے پی کے، بلوچستان، گلگت اوراسلام آباد کے ڈی آئی جیز کو خطوط لکھے گئے، کہیں سے کسی بھی ملزم کے خلاف کوئی کرمنل ریکارڈ موصول نہیں ہوا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ را انوار نے ان نوجوانوں پر کالعدم لشکر جھنگوی، تحریک طالبان کے کمانڈرز ہونے کا جھوٹا الزام عائد کیا تھا، را انوار نے مارے جانے والے چاروں افراد پردہشت گرد حملوں میں ملوث ہونے کا بھی دعوی کیا تھا جو غلط ثابت ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نقیب اللہ دہشت گرد نہیں بلکہ لبرل نوجوان تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا نقیب اللہ کو تین جنوری کو ابوالحسن اصفہانی روڈ پر چائے کے ہوٹل سے اٹھایا گیا تھا۔ دوسری جانب زرائع کا کہنا ہے کہ را انوار کیس میں تیرہ پولیس افسروں اور اہلکاروں کے ائرپورٹ انٹری پاسز بلاک کر دیئے گئے، سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا نقیب اللہ دہشت گرد نہیں بلکہ لبرل نوجوان تھا۔انکاؤنٹر سپیشلسٹ کے جوڑی دار بھی قانون کے ریڈار میں آگئے ہیں، بیرون ملک فرار کو روکنے کے لیے راؤ انوار کا ائیرپورٹ انٹری پاس منسوخ کر دیا گیا۔ سابق ڈی آئی جی ایسٹ عارف حنیف، سابق ایس پی ملیر نجیب خان، سابق ایس پی سہراب گوٹھ چوہدری سیف اللہ، ڈی ایس پی خالد محمود سمیت تیرہ اہلکاروں کے انٹری پاسز بھی منسوخ کر دیئے گئے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -