انصاف کی فراہمی عبادت ہے ،نامزد چیف جسٹس ،اگر عدلیہ کرپشن فری نہیں ہوئی تو سمجھا جائے میں فیل ہوگیا: چیف جسٹس

انصاف کی فراہمی عبادت ہے ،نامزد چیف جسٹس ،اگر عدلیہ کرپشن فری نہیں ہوئی تو ...
انصاف کی فراہمی عبادت ہے ،نامزد چیف جسٹس ،اگر عدلیہ کرپشن فری نہیں ہوئی تو سمجھا جائے میں فیل ہوگیا: چیف جسٹس

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے نامزد چیف جسٹس محمد یاور علی نے کہا ہے کہ عدل کرنا اللہ تبارک وتعالیٰ کی ایک صفت ہے جو اس دنیا میں ایک جج کو تضویض ہوئی ہے.

وہ سپریم کورٹ کے لئے نامزد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ کے اعزاز میں ہونے والی الوداعی تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔نامزد چیف جسٹس محمد یاورعلی نے مزید کہا کہ انصاف کی فراہمی سے منسلک ہر شخص ایک عبادت میں مشغول ہے اور اس کے لئے وقف کردہ ہر لمحہ اجر عظیم شمار ہوگا اور اسی نیت کے ساتھ ہمیں اس کو جاری رکھنا ہے۔ایک جج اکیلا بیٹھ کر عدل نہیں کر سکتا اسے معاونت کی ضرورت ہوتی ہے جو وکلاءاور عدالتوں کے ملازمین فراہم کرتے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ نے کہا کہ ججز عدلیہ کا چہرہ ہیں ،عدالتی ملازمین اصل ہائی کورٹ ہیں ،اگر عدلیہ کرپشن فری نہیں ہوئی تو سمجھا جائے کہ میں فیل ہوگیا۔چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ نامزد چیف جسٹس محمد یاور علی ایک عظیم انسان ہیں اور وہ اس ادارے کو اسی انداز میں لے کر چلیں گے اور یہ ادارہ مزید مضبوط ہوگا۔ کسی کے جانے سے ادارہ رکتا نہیں ہے، افرادمعنی نہیں رکھتے بلکہ ادارہ ہی سب سے اہم ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ جتنا پیار مجھے میرے سٹاف نے دیا ،ایسا پیار کبھی کسی کو نہیں ملا ہوگا جس کے لئے میں سب کا بے حدممنون ہوں، میرے اقدامات میرے نہیں ہیں بلکہ یہ ایک پوری ٹیم کے مجموعی اقدامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جانب سے صرف یہ کوشش کی گئی ہے کہ ادارہ مضبوط ہو جس کے لئے یہاں کے سٹاف کا مضبوط اور پر اعتماد ہونا ضروری تھا، اسی سلسلہ میں سٹاف کی فلاح وبہبود اور استعداد کار میں اضافہ کے لئے چند کاوشیں کی گئیں کیونکہ یہاں کا سٹاف ہی اصل ہائی کورٹ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان تمام اقدامات کے نتائج بھی سامنے آنے چاہئیں،یہاں آنے والا ہر سائل محسوس کرے کہ ہائی کورٹ ایک ادارے کا نام ہے، یہاں کے پیار، ایمانداری، محنت و لگن کی مثالیں دی جانی چاہئیں، اس ادارے کو ماں سمجھ کر خدمت کریں۔ افسران اپنا سخت رویہ چھوڑ دیں، ماتحت عملہ کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آئیں۔ اس ادارے اور اس سے وابسطہ سٹیک ہولڈرز کو پیار دیں، یہ ادارہ عزت و پیار کا ادارہ ہے۔ انہوں نے رجسٹرار سید خورشید انور رضوی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مثبت سوچ کے حامل انسان ہیں جو ملازمین کی بہتری کےلئے ہر لمحہ کوشاں رہے۔ انہوں نے کہا میرے لئے باعث فخر ہے کہ میں تقریبا ڈیڑھ سال ایسے محنتی سٹاف کا چیف جسٹس رہا۔ انہوں نے سٹاف سے عہد لیا کہ وہ اپنی محنت و دیانت سے پاکستان کا سب سے مظبوط ادارہ بنائیں گے اور اس ادارے کو کرپشن فری کریں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رجسٹرار سید خورشید انور رضوی نے کہا کہ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کے ساتھ گزرے ایک سال 7مہینوں میں ان جیسا غریب پرور انسان نہیں دیکھا، اس دور میں لاہور ہائی کورٹ، ضلعی عدلیہ اور پنجاب جوڈیشل میں لائی جانے والی اصلاحات کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔ لاہور ہائی کورٹ اور ضلعی عدلیہ میں زیرالتواءمقدمات کا فزیکل آڈٹ، مقدمات سے متعلق آن لان انفارمیشن کی فراہمی، لاہور ہائی کورٹ موبائل ایپلیکیشن اور عدالت عالیہ میں انٹرپرائز آئی ٹی سسٹم کا نفاذ جیسے اقدامات اپنی مثال آپ ہیں۔ اس موقع پر چیئرمین کمیٹی آف مینجمنٹ سینیئر ایڈیشنل رجسٹرار ڈاکٹر عبدالناصر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کی جانب سے عدالت عالیہ کے ملازمین کی فلاح و بہبود اور استعداد کار میں اضافہ کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات اپنی مثال آپ ہیں۔ چیف جسٹس جہاں افسران و ملازمین کی عملی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے کوشاں رہے وہاں پورے سٹاف کی شخصی، خاندانی زندگی اور صحت کے لئے بھی بھرپور اقدامات کئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پورا سٹاف نامزد چیف جسٹس محمد یاور علی کی قیادت میں بھی اس ادارے کے وقار کی بلندی کے لئے شبانہ روز ایمانداری، محنت اور لگن کے ساتھ کوشاں رہیں گے۔ تقریب کے اختتام پر چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کو یادگاری سونیئر پیش کیا گیا اور نامزد چیف جسٹس محمد یاور علی کو خیرمقدمی تحفہ پیش کیا گیا۔

لائیو ٹی وی دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -