فلسطینی شہری کے باغ میں اچانک سوراخ ہوگیا، پریشان ہوکر مٹی ہٹا کر دیکھا تو نیچے ایسی چیز نظرآگئی کہ دیکھتے ہی پیروں تلے زمین نکل گئی، یہ تو سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ۔۔۔

فلسطینی شہری کے باغ میں اچانک سوراخ ہوگیا، پریشان ہوکر مٹی ہٹا کر دیکھا تو ...
فلسطینی شہری کے باغ میں اچانک سوراخ ہوگیا، پریشان ہوکر مٹی ہٹا کر دیکھا تو نیچے ایسی چیز نظرآگئی کہ دیکھتے ہی پیروں تلے زمین نکل گئی، یہ تو سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ۔۔۔

  

یروشلم(نیوز ڈیسک) گزشتہ ہفتے کی شدید بارشوں کی وجہ سے فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی میں لوگوں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہی بارشوں کی وجہ سے ایک کسان کے باغ میں ایسی چیز دریافت ہو گئی کہ اب دنیا بھر کے ماہرین آثار قدیمہ اس باغ کا رخ کر رہے ہیں۔ عبدالکریم نامی اس شخص نے دیکھا کہ پانی کے تیز بہاؤ نے باغ میں ایک گڑھا پیدا کر دیا تھاجس کے اندر پانی گر رہا تھا۔ گڑھے کے اندر گرتے ہوئے پانی کو دیکھ کر وہ اس معاملے کی تحقیق کیلئے آگے بڑھے تو ایک ایسامنظر ان کی آنکھوں کے سامنے تھا جس کا تصور کبھی خواب میں بھی نہیں کیا تھا۔ 

اس گڑھے کے کیچڑ میں سے کچھ تعمیراتی آثار جھلک رہے تھے جن پر سے مٹی اور کیچڑ ہٹانے پر پتا چلا کہ یہ تو سیڑھیاں ہیں۔ وہ ان سیڑھیوں سے اترتے ہوئے تقریباً 12 فٹ کی گہرائی تک گئے تو ایک مقبرے میں داخل ہو چکے تھے۔ جب انہوں نے اپنے سامنے موجود ایک پتھر کو ہٹایا تو اندر سے آنے والی بدبو نے انہیں تقریباً بیہوش کردیا۔ عبدالکریم کا کہنا ہے کہ اس زیر زمین مقبرے میں 9 قبریں تھیں جن میں ہڈیوں کے ڈھیر موجود تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان قبروں میں ایک سے زائد افرا دکو دفن کیا گیا تھا۔ مقبروں میں قدیم دور کے برتن اور دیگر اشیاء بھی موجود تھیں۔

زیر زمین مقبرے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے علاقے میں پھیل گئی۔ آثار قدیمہ کے ماہر ایمن حسونہ نے اس مقبرے میں موجود ہڈیوں کا معائنہ کیا اور ان کا کہناہے کہ ہڈیوں کا تعلق رومی سلطنت کے دور سے ہے او ریہ کم از کم 2ہزار سال پرانی ہیں۔ یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کی پروفیسر جوڈی میگنس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کی سرزمین کو دور قدیم سے ہی مقدس خیال کیا جاتا ہے اور دور و نزدیک کے لوگ اپنے مردوں کو یہاں دفن کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کے خیال میں یہ کسی بڑے خاندان کا مقبرہ تھا جس میں اس خاندان کے متعدد افراد کو دفن کیا گیا تھا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -