ذاتی نہیں عوام کا فیصلہ چلے گا، شہباز شریف سنیئر رہنما ہیں مگر مشاورت کے بعد نامزد کریں گے: شاہدخاقان عباسی

ذاتی نہیں عوام کا فیصلہ چلے گا، شہباز شریف سنیئر رہنما ہیں مگر مشاورت کے بعد ...
ذاتی نہیں عوام کا فیصلہ چلے گا، شہباز شریف سنیئر رہنما ہیں مگر مشاورت کے بعد نامزد کریں گے: شاہدخاقان عباسی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وزارت عظمیٰ کے حوالے سے کوئی بھی بات کرنا قبل ازوقت ہے، آئندہ انتخابات میں اگر پارٹی واضح اکثریت حاصل کرتی ہے تو وزیراعظم کے امیدوارکافیصلہ کثرت رائے کے بعدکیاجائے گا، (ن)لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ امیدوارکافیصلہ کرے گی،شہباز شریف پارٹی کے سنیئر ترین رہنما ءہیں مگر ان کا نام وزارت عظمیٰ کے امیدوار کیلئے زیرغورآئے گا۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام "دنیاکامران خان کےساتھ"میں گفتگوکرتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جب سے اقتدار سنبھالا ہے میں نوازشریف کے شروع کیے گئے منصوبوں کاافتتاح کررہاہوں، ہر ہفتے منصوبے کا افتتاح کر رہا ہوں لیکن اس کے باوجود وقت کم ہے اور منصوبے زیادہ ہیں نوازشریف کے خلاف کیسزمیں اتنے شواہدنہیں کہ سزاہوسکے ، عوام نے نوازشریف پرلگائے گئے تمام الزامات کومسترد کردیا، عدلیہ" جوڈیشل ایکٹیوازم"کادائرہ کاربڑھارہی ہے، ججزسلیکشن پرپارلیمانی نگرانی ہونی چاہیے، عدلیہ اورانتظامیہ کوباہمی معاملات سمجھ کرچلنے کی ضرورت ہے،ملک میں اس وقت قبل از وقت انتخابات کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی ایسے کوئی امکانات نظر آرہے ہیں۔ ہمیں عوام نے منتخب کیا اور اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ایک بار پھر عوام کے پاس جائیں گے۔

وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ کوئی پارٹی جمہوریت مخالف نہیں، پیپلزپارٹی نے جمہوریت کے لیے ساتھ دیا۔کچھ لوگوں نے پارلیمنٹ پرلعنت بھیجی اور حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ ہم نے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے اپنی بھرپور کارکردگی دکھائی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن ہماری کارکردگی اورکام پرتنقیدنہیں کرسکی۔

شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں سول ملٹری تعلقات بہت اچھے ہیں اور سول ملٹری قیادت کی ملاقاتوں کے ہمیشہ مثبت نتائج ہوتے ہیں۔نواز شریف کے خلاف فیصلے کو عوام نے تسلیم نہیں کیا اور اب ان کا فیصلہ نیب کی عدالت میں نہیں بلکہ عوام کی عدالت میں ہوگا۔ ججزکوانتخاب سے قبل پارلیمانی کمیٹی کےسامنے پیش ہوناچاہیے،عوام کاحق ہے کہ ججوں کی اہلیت پرکوئی انگلی نہ اٹھاسکے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -