اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 122

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 122

  

ایک بار صبح صبح وہ ہرن کے شکارکو چلا۔ میں بھی اس کے ساتھ تھا۔ اس زمانے میں دلی شہر کے باہر جنگل شروع ہوجاتا تھا۔ یہ جنگل آگے جاکر جمنا پار بڑا گھنا ہوجاتا تھا۔ اس جنگل میں ہرن کا شکار بہت تھا۔مگر اس روز نہ جانے کیا بات ہوئی کہ ہم تیر کمان لئے دوپہر تک جنگل میں پھرتے رہے، ہمیں ایک بھی ہرن دکھائی نہ دیا۔ میرے بزرگ شکاری دوست بابک کاشغری نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ جنگل میں کوئی ندرندہ آن گھسا ہے جس کی بو پاکر ہرن شمال کی طرف پہاڑیوں میں چلے گئے ہیں۔ ہم تناور درختوں کے نیچے جنگلی جھاڑیوں اور خشک نالوں میں سے گزرتے آگے بڑھ رہے تھے ، ایک جگہ بیٹھ کر ہم نے روٹی کھائی۔

بابک کاشغری کو میرے بارے میں سوائے اس کے کچھ علم نہیں تھا کہ میں ایک مصری سیاح ہوں اور ہندوستان کی سیاحت کرنے آیا ہوں۔ وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ میں بھوک پیاس اور موت سے بے نیاز ہوں۔ میں نے بھی اسے اپنی خفیہ طاقت کے بارے میں کچھ بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ چنانچہ میں نے اس کے ساتھ بیٹھ کر روٹی کھائی۔ ندی سے پانی لاکر پیا پھر ایک جگہ گھاس پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ بابک کاشغری نے کہا کہ وہ شکار ساتھ لئے بغیر ہرگز واپس نہیں جائے گا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 121 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اتنے میں جنگل ایک خوفناک دھاڑ سے گونج اٹھا۔ یہ دھاڑ شیر کی تھی بابک کاشغری ایک دم سے اچھل پڑا۔ اس نے ترکش کاندھے پر ڈالا اور بولا’’عبداللہ تلوار سنبھالو، شیر ادھر ہی آرہا ہے۔‘‘

کمان میں تیر جوڑ کر وہ جھاڑیوں کی اوٹ میں ہوا۔ جدھر سے آواز آئی ادھر بڑھنے لگا۔ میں تلوار ہاتھ میں لئے اس کے پیچھے تھا۔ اب شیر کی دوسری دھاڑ گونجی تو اس کے ساتھ ہی ایک انسان کی آواز بھی تھی جو فارسی زبان میں مدد کے لئے پکاررہا تھا۔ بابک اس جانب دوڑا۔ میں بھی پیچھے لپکا۔ سامنے قد آدم جنگلی جھاڑیوں کی دیوار سی بنی ہوئی تھی۔ اس میں سے گزرے تو دیکھا کہ آگے تھوڑی سی ڈھلان تھی جس کے درمیان سرکنڈے لگائے ہوئے تھے وہاں ایک خوش پوش نوجوان تلوار ہاتھ میں پکڑے پینترا جمائے چوکس کھڑا تھا۔ اس کے سامنے پندرہ بیس قدموں کے فاصلے پر ایک خونخوار شیر دانت نکالے اس کی طرف گھورتے ہوئے غرارہا تھا اور حملہ کرنے کے لئے پرتول رہا تھا۔ بابک کاشغری نے اس منظر کو دیکھتے ہی شیر پر تیر چلادیا۔ خدا جانے یہ گھبراہٹ کا اثر تھا کہ میرے دوست کا نشانہ چوک گیا۔ تیر شیر کی گردن کے بال اڑاتا نکل گیا۔ شیر نے گردن ہماری طرف گھما کر ہماری طرف دیکھا اور بجائے اس کے کہ وہ ہم پر حملہ کرے اس نے اپنے مد مقابل خوش شکل نوجوان پر جست لگادی۔ وہ نوجوان اچھل کر دوسری طرف ہٹ گیا اور شیر پر تلوار کا وار کیا۔ تلوار شیر کے داہنے پنجے پر لگی اور اس کا پنجہ شدید زخمی ہوگیا۔

بابک نے دوسر اتیر چلایا۔ یہ بھی خطا گیا۔ اب جو میں نے دیکھا تو شیر خوش پوش نوجوان کی طرف قیامت خیز دھاڑ کے ساتھ بڑھا اور قریب تھا کہ اسے چیر پھاڑ کر رکھ دے کہ میں نے ڈحلان پر سے اچھل کر شیر کے اوپر چھلانگ لگادی۔

شیر اس بلائے ناگہانی سے گھبراگیا۔ اس کی اپنے شکار کی طرف سے توجہ ہٹ گئی اور اس نے میری گردن پر اپنا بایاں پنجہ اتنی زور سے مارا کہ اگر میری جگہ بابک کاشغری ہوتا تو اس کا سرگردن سے الگ ہوکر دور جانا پڑتا لیکن مجھ پر شیر کے پنجے کی ضرب کا کوئی اثر نہ ہوا۔ میں نے دیکھا کہ خوش پوش نوجوان زمین پر گرا ہوا تھا اور اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی تلوار سے شیر پر حملہ کرنے کی فکر میں تھا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میری خفیہ طاقت ان دونوں پر ظاہر ہو۔ میں شیر کے ساتھ لپٹ گیا اور اسے اپنی طاقت کے بال پر لڑھکاتا ہوا درختوں کے پیچھے اونچی اونچی گھاس کے اندر لے گیا۔ شیر بے حد طاقتور اور غضبناک تھا مگر وہ میری طاقت کے آگے بے بس تھا۔ میں نے اپنی کمر کے ساتھ لگا خنجر نکالا اور شیرکے پیٹ کو پھاڑ ڈالا۔ شیر گھس پر چت پڑا آخری سانس لے رہا تھا۔

اتنے میں وہ خوش پوش نوجوان اور میرا دوست بابک کاشغری بھی وہاں میری مدد کو پہنچ گئے۔ انہوں نے شیر کو آخری سانس لیتے دیکھا تو میری بہادری کی تعریف کرتے ہوئے آگے بڑھے اور مجھے شیر کی دم توڑتی لاش سے کھیچ کر پیچھے لے گئے۔

’’عبداللہ! تم زخمی تو نہیں ہوئے؟‘‘ بابک نے پوچھا۔ میں نے خنجر نیام میں ڈالتے ہوئے کہا

’’خدا کا شکر ہے میں زخمی ہونے سے بچ گیا۔‘‘ اس خوش پوش نوجوان نے آگے بڑھ کر مجھے گلے سے لگالیا اور کہا

’’تم نے میری جان بچائی میں تمہارا احسانمند ہوں۔ تم کون ہو؟ کیا کرتے ہو؟‘‘

اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتا میرے دوست نے کمان زمین پر سے اٹھاکر کاندھے پر ڈالتے ہوئے کہا’’میاں! پہلے تم بتاؤ کہ تم کون ذات شریف ہو اور اکیلے اس جنگل میں کیا لینے آگئے تھے؟‘‘

اس نوجوان نے مسکراتے ہوئے کہا ’’میں اس شہر میں ایک مسافر ہوں جنگل سے گزررہا تھا کہ شیر نے حملہ کردیا۔ اگر یہ نوجوان جس کا نام تم نے عبداللہ لیا تھا میری مدد کو نہ آتا تو شیر نے مجھے پھاڑ دیا تھا۔‘‘

بابک کاشغری اس نوجوان کے لباس پر ایک نظر ڈال کر کہنے لگا

’’میاں! تم لباس سے تو کوئی امیر زادے لگتے ہو۔ تمہارا نام کیا ہے؟‘‘

اس سے پہلے کہ وہ نوجوان کوئی جواب دیتا جنگل میں ایک شور سا بلند ہوا۔ گھوڑوں کے ہنہنانے اور ان کی ٹاپوں کی آوازیں سنائی دیں اور پھر درختوں سے نکل کر کئی سوار ہمارے سامنے آگئے۔ ایک سوار جو تلوار اور تیر کمان لگائے تھا اور سر پر فولادی زنجیروں والا ٹوپ پہن رکھا تھا۔ گھوڑے سے اترا آگے بڑھ کر نوجوان کی تعظیم بجالایا اور بولا ’’شہزادے صاحب آپ ٹھیک ہیں نا؟‘‘

ہم چونکے۔ تو یہ نوجوان کوئی شہزادہ تھا۔ اس نے کہا

’’تم شیرکو مردہ پڑا دیکھ رہے ہو۔ میں بالکل ٹھیک ہوں لیکن اگر یہ نوجوان نہ ہوتا تو یہاں شیر کی بجائے تمہارے شہزادے کی لاش پڑی ہوتی۔‘‘

شہزادے کے لئے خالی گھوڑا لایا گیا۔ اس نے میری طرف دیکھ کر کہا

’’اگر تم محل میں آج شام کھانا میرے ساتھ کھاؤ تو مجھے خوشی ہوگی۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنی انگلی سے سرخ عقیق کی ایک انگوٹھی اتار کر مجھے دی اور کہا ’’یہ انگوٹھی تمہیں شاہی محل میں میرے پاس پہنچادے گی۔‘‘

میں نے انگوٹھی تھام لی۔ وہ مجھے اور میرے دوست بابک کاشغری کو سلام کرکے اپنے شاہی دستے کے ساتھ جنگل میں آگے بڑھ گیا۔ بابک کاشغری نے انگوٹھی کو غور سے دیکھا اور بولا’’میاں عبداللہ! تمہاری تو قسمت کھل گئی۔ یہ تو شاہی محل کا شہزادہ تھا۔ اب تم رات کو اس کی دعوت پر ضرور جانا۔ وہ تمہیں انعام و اکرام سے مالا مال کردے گا۔‘‘

میں نے کہا کہ مجھے انعام و اکرام کا لالچ نہیں ہے لیکن میں شہزادے سے ملنے شاہی محل ضرور جاؤں گا۔ اس طرح سے مجھے دہلی کا شاہی محل دیکھنے کا موقع مل جائے گا۔(جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 123 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار