مہنگائی کا زور اور مافیاز کو سزا دینے کے وعدے

مہنگائی کا زور اور مافیاز کو سزا دینے کے وعدے

  



وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کابینہ اجلاس میں کئی وزراء کے چہرے اُترے نظر آتے ہیں، وہ گھبرائے ہوتے ہیں کہ لوگ مہنگائی پر رو رہے ہیں، میں اپنی ٹیم کو بھی کہتا ہوں گھبرایا نہ کرو، اصلاحات کے عمل میں وقت لگتا ہے اور رکاوٹیں بھی پیش آتی ہیں، مہنگائی کے ذمہ دار مافیاز کو چن چن کر پکڑیں گے، کوئی بچ نہیں سکے گا، جس مشکل سے گزررہے ہیں یہ پچھلی حکومتوں کی بدانتظامی اور کرپشن کا نتیجہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے دورہ کراچی کے دوران تاجروں سے ملاقات اور کامیاب جوان پروگرام کے نوجوانوں میں چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومتی معاشی ٹیم دن رات محنت کررہی ہے تاکہ سرمایہ کاری میں آسانیاں پیدا کی جاسکیں۔ ایف بی آر اگر ماحول پیدا کرے تو کوئی وجہ نہیں ہم اپنے لوگوں پر خرچ کرنے کے لیے پیسہ اکٹھا نہ کرسکیں۔ وزیراعظم کے حالیہ دورہ کراچی کی منفرد بات یہ تھی کہ ماضی کے برعکس پہلی مرتبہ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اسد عمر کو ہدایت دیں گے کہ سندھ حکومت کی سکیمز پر تیز رفتاری سے کام کیا جائے۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ وزیراعظم نے اپنی حکومت کو درپیش مشکلات کا ذمہ دار مافیا کو قرار دیا ہے اور تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو سخت سزا دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس وقت ایک عام آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ بے قابو مہنگائی ہے، وزیراعظم کو اس کا ادراک ہے، یہ بات حوصلہ افزاء ہے۔ تاہم اس کا تدارک تب ہی ممکن ہے جب اس کے اسباب کی نشاندہی درست انداز میں کی جائے۔ پاکستانی عوام کو اس وقت دو اقسام کی مہنگائی کا سامنا ہے۔ پہلی قسم کی مہنگائی وہ ہے جو واقعی مافیاز فوری منافع کمانے کے لیے حکومتی ذمہ داران کی ملی بھگت یا ذخیرہ اندوزی کے ذریعے کرتے ہیں۔ موجودہ حکومت میں ہمیں اس کی بہت سی مثالیں دیکھنے کو ملیں۔ سب سے پہلے تحریک انصاف کے اقتدار سنبھالتے ہی ڈالر ناپید ہوگیا، اس کی ایک وجہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا تو دوسری جانب وہ سرمایہ کار بھی اس کی وجہ بنے جو ڈالر کی قیمت میں اضافے کی توقع کرتے ہوئے دھڑا دھڑ اسے خرید کر اپنے پا س محفوظ کرنے لگے۔ پھر چند ماہ بعد بہت سی دوائیوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔ دوا ساز کمپنیوں کو کھلی چھوٹ دینے کا ذمہ دار وزیراعظم کے اس وقت کے معاون خصوصی برائے صحت عامر کیانی کو قرار دیا گیا اور انہیں عہدے سے برطرف کردیا گیا تاہم پھر تھوڑے دن بعد انہیں حیران کن طور پر تحریک انصاف کا سیکرٹری جنرل بنادیا گیا۔ اس کے بعد ٹماٹروں کی باری آگئی، بھارت سے سپلائی بند ہوئی تو مقامی ذخیرہ اندوزوں نے بھی اپنے گودام بھرنا شروع کردئیے، نتیجتاً چند روز میں ہی ٹماٹروں کی قیمتیں آسمان پر جا پہنچیں، یہ معاملہ حل ہوا تو گندم اور چینی کا بحران،حکومتی ذمہ داروں نے گندم برآمد کردی تو پاکستانی مارکیٹ میں قلت پیدا ہوگئی، اب گندم درآمد کرنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔ اسی طرح چینی گوداموں میں ذخیرہ کر کے اس کے ریٹ بھی چند روز میں ہی 5 سے 6 روپے فی کلو تک بڑھادئیے گئے جبکہ ایک سال کے دوران اس کی قیمت میں قریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ آئے دن بنیادی اشیاء کے بحران نے پاکستانی عوام کی جیبوں پر گہرا اثر ڈالا ہے، معیشت کی زبان میں ان جھٹکوں کو پرائس شاکس کہا جاتا ہے، یہ بڑی وجہ ہے کہ وزیراعظم کو اپنے بیشتر وزیروں کے چہرے اترے نظر آتے ہیں تاہم ان بحرانوں کی زیادہ تر ذمہ داری حکومتی بدانتظامی پر عائد ہوتی ہے۔ حکومت ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی بحران پید اکرکے اپنی جیبیں بھرنے والے مافیا کے خلاف بے بس نظر آتی ہے، باعث اطمینان بات یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو اس بات کا احساس ہے لیکن وزیراعظم کے لیے غور طلب بات یہ ہے کہ حکومتی تعاون کے بغیر مافیا یہ کرتب نہیں دکھاسکتے۔ جن مافیاز کی طرف اشارہ وزیراعظم نے کیا ہے وہ ان کی اپنی حکومت کے اندر ہی کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی سطح پر موجود ہیں، عوام کو انتظار ہے کہ کب وزیراعظم ان کے خلاف حتمی آپریشن کریں گے۔

پرائس شاکس کے علاوہ پاکستانی عوام کو روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں بتدریج اضافے یعنی افراطِ زر کا بھی سامنا ہے (گو کہ پرائس شاکس بھی افراطِ زر میں اضافے کا سبب بنتے ہیں)، بصد احترام عرض کرنا پڑے گا کہ پاکستان میں افراطِ زر زیادہ ہونے کی بنیادی وجہ کسی بھی مافیا سے زیادہ حکومت کی اپنی متصادم پالیسیاں ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ معاشی زبان میں اس وقت پاکستانی معیشت کو سٹیگ فلیشن(Stagflation) کے بھنور میں پھنسنے کا خطرہ درپیش ہے۔ سٹیگ فلیشن (Stagflation)کا مطلب ہے کہ قیمتوں میں مسلسل اضافے کے ساتھ بے روزگاری بڑھ رہی ہو جبکہ معیشت میں اشیاء کی طلب میں اضافہ نہ ہورہا ہو، آسان الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہو لیکن شرح نمو نہ بڑھ رہی ہو۔ پاکستان میں شرح سود 13.25 فیصد ہونے کے باوجود افراط زر نیچے آنے کا نام نہیں لے رہا۔ دسمبر میں افراطِ زر 12.6 فیصد تھا،جبکہ جنوری میں گندم بحران کی بدولت یہ 14 فیصد کے قریب پہنچنے کا خطرہ ہے۔ دوسری جانب معاشی ترقی کی رفتار 6 فیصد سے کم ہوتے ہوتے 2 فیصد کے قریب آپہنچی ہے۔ عموماً حکومتیں شرح سود معیشت میں ڈیمانڈ کم کرنے کے لیے بڑھاتی ہیں تاکہ طلب کا پریشر کم ہو اور افراط زر قابو کیا جاسکے۔ موجودہ دور حکومت میں سٹیٹ بینک کا مقصد یہ بھی ہے کہ شرح سود اوپر رکھ کر بیرونی سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا جا سکے۔ اس سے وقتی طور پر تو تھوڑا سا ریلیف میسر آسکتا ہے لیکن نقصان یہ ہے کہ مقامی کاروباریوں کو سستا سرمایہ دستیاب نہیں ہورہا، دوسری جانب آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانے کے بعد بجلی، پانی گیس سب مہنگا ہوچکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ نئے کارخانے لگ رہے ہیں نہ پاکستانیوں کو روزگار کے مواقع مل رہے ہیں اور نہ ہی مہنگائی نیچے آرہی ہے۔ ضروری ہے کہ ذمہ داری مافیاز یا پچھلی حکومتوں پر ڈالنے کی بجائے سنجیدگی سے صورتحال پر غور کیا جائے، ایسی پالیسیاں تشکیل دی جائیں جن سے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہو، انہیں نئے کارخانے لگانے کے لیے سستا سرمایہ ملے اور روزگار کے مواقع پید اکرنے میں کاروباری افراد کو مدد ملے۔ حکومت کو ڈیرھ برس کا عرصہ گزرچکا ہے، اپنی مشکلات کا ملبہ غیر معینہ مدت تک ماضی کی حکومتوں پر نہیں ڈالا جا سکتا۔وزیراعظم کے دورہ کراچی کے دوران اس مرتبہ انتہائی مثبت چیز ان کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات ہے۔ماضی میں وزیراعظم اس سے گریز کرتے رہے۔ سمجھنے کی بات ہے کہ اگر کاروبار مملکت چلانا ہے تو تمام صوبوں اور جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔ پیپلزپارٹی مخالف جماعت ہے، یہ بات درست ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سندھ میں اس کی حکومت قائم ہے۔ کراچی اور سندھ کے مسائل سے وفاقی حکومت نظریں چرا نہیں سکتی، اگر وہاں مسائل پیدا ہوں گے تو ملبہ تحریک انصاف پر بھی گرے گا۔ خوش آئند بات ہے کہ وزیراعظم نے اس بات کا ادراک کرلیا اور وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات میں ان کی شکایات دور کروانے کی یقین دہانی کروائی، اُمید ہے یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔

مزید : رائے /اداریہ