افغانستان میں امن: بیلٹ یا بُلٹ

افغانستان میں امن: بیلٹ یا بُلٹ
افغانستان میں امن: بیلٹ یا بُلٹ

  



سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے انعقاد کے وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک ملاقات میں افغان صدر اشرف غنی نے امریکی صدر کو بتایا کہ وہ 4 ہزار مزید امریکی سپاہ کی افغانستان سے واپسی کے لئے تیار ہیں۔ اشرف غنی کے ایک قریبی ساتھی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی صدر افغانستان میں جاری جنگ میں اٹھنے والے بھاری اخراجات کے بارے میں وقتاً فوقتاً اعتراض کرتے رہتے ہیں، اس لئے اشرف غنی نے ان کی طرف سے امریکی سپاہ کی تعداد میں مزید کمی کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس طرح افغان جنگ پر اٹھنے والے امریکی اخراجات میں کمی سے امریکی صدر کی تشویش میں کمی ہوگی۔

افغان صدر کے ساتھی نے مزید کہا کہ افغان صدر کی اس پیش کش کے جواب میں توقع کی جاتی ہے کہ امریکی صدر طالبان کے ساتھ سرعت کے ساتھ کئے جانے والے امن معاہدے کے نتائج بارے غور کریں گے،جس کے بعد کابل میں ان کی امریکہ دوست حکومت کو اکیلا چھوڑ دیا جانا ہے……افغان دراصل بڑے سمجھ دار اور معاملہ فہم واقع ہوئے ہیں، جیسا کہ اشرف غنی بھی ہیں، اشرف غنی ایک پڑھے لکھے زیرک سیاستدان ہیں، انہیں کابل پر حکمرانی کا تجربہ بھی ہے، انہیں افغانوں کی تاریخ سے بھی تھوڑی بہت نہیں، بلکہ کماحقہ آگہی بھی ہو گی، اسی لئے انہوں نے امریکی صدر سے درخواست کی ہے کہ طالبان سے معاہدے کے بعد ان کی حکومت کو تنہا چھوڑنے کے حوالے سے امریکی پالیسی پر دوبارہ غور کیا جائے، کیونکہ انہیں طالبان کی مزاحمتی قوت کے بارے میں اچھی طرح علم ہے کہ افغان صدیوں سے اپنی زمین،اپنی روایات کی حفاظت کے لئے، دراندازوں، حملہ آوروں کے خلاف کس طرح سے سینہ سپر رہے ہیں۔ انہوں نے کبھی بھی، کسی بھی قیمت پر غیر ملکی، اجنبی حملہ آوروں کو یہاں اپنی زمین پر قدم جمانے نہیں دئیے۔ گزشتہ صدی میں دنیا کی عظیم اشتراکی ریاست کی افواجِ قاہرہ اور اس سے پیوستہ صدی میں برطانیہ عظمیٰ کی افواج کو جس طرح سرزمین افغانستان پر ناکوں چنے چبوائے گئے تھے، بالکل اسی طرح گزرے اٹھارہ سال سے امریکی ناکوں چنے چبا چبا کر نڈھال ہو چکے ہیں۔

امریکی افواج جب 2001ء میں افغانستان پر حملہ آور ہوئیں اور ڈیزی کٹر بموں کے استعمال کے ذریعے پہاڑوں کو بیخ دبن سے اکھاڑنا شروع کیا، پھر ڈرونز کے ذریعے نشانے لے لے کر طالبان قیادت اور کمانڈروں کا قتلِ عام شروع کیا تو پوری دنیا سہم سی گئی تھی۔ امریکی صدر جارج بش نے القاعدہ اور طالبان کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف عالمی جنگ شروع کی تھی، جس میں ناٹو کے 42 ممالک کے ساتھ ساتھ ایساف فورسز بھی شریک ہوئیں، پھر اوباما نے اس جنگ کو برقرار رکھنے اور کابل میں قائم کردہ اپنی کٹھ پتلی حکومت کو طاقت دینے کے لئے 2 لاکھ نفوس پر مشتمل افغان نیشنل آرمی قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔

مقصد یہ تھا کہ امریکی طویل جنگ کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے تھے، اس لئے انہوں نے طے کیا کہ لوکل / قومی فوج کے قیام کے ذریعے سیکیورٹی کی ذمہ داریاں اس آرمی کے سپرد کر کے امریکی یہاں سے واپسی کا راستہ لیں، حتیٰ کہ انہوں نے 2015ء تک افغانستان میں امریکی ملٹری آپریشن ہر صورت میں ختم کرنے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔ انہوں نے طالبان کو حتمی سبق سکھانے کے لئے افغانستان میں امریکی فورسز کے کمانڈر کی درخواست پر 15 ہزار مزید ٹروپس افغانستان بھجوائے،تاکہ طالبان پر فیصلہ کن ضرب لگا کر ان کی مزاحمتی قوت کو پاش پاش کر دیا جائے، اس طرح کہ امریکی افواج کی واپسی کے بعد وہ سر اٹھانے کے لائق نہ رہیں ……ڈونلڈ ٹرمپ نے جو سفید فام انسان کی برتری اور امریکہ کی عالمی بالادستی قائم کرنے کے نعرے پر الیکشن جیت کر وائٹ ہاؤس میں آئے تھے، اعلان کیا کہ افغانستان میں حتمی فتح تک امریکی سپاہ یہاں رہیں گی۔

انہوں نے امریکی ٹروپس کی واپسی اور جنگی مشن کے خاتمے کا کوئی بھی ٹائم فریم دینے سے انکار کیا۔ ان کے غرور و تکبر بھرے اعلان کا طالبان قیادت نے خندہ پیشانی کے ساتھ خیر مقدم کیا اور تاریخی الفاظ کہے :”امریکیوں کے پاس گھڑیاں ہیں، جبکہ ہمارے پاس وقت“…… یعنی طالبان نے اپنی صدیوں طویل تاریخ کے تناظر میں افغانستان میں آخری امریکی سپاہی تک مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا اور وہ ہنوز اس پر قائم ہیں،لیکن ٹرمپ یوٹرن لے چکے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورِ حکمرانی میں طالبان پر کاری ضربیں لگا لگا کر دیکھ لیا ہے، ان کی عسکری طاقت اور نسلی برتری کا نشہ ہرن ہو چکا ہے۔ تاریخ دیکھ رہی ہے کہ طالبان کو ختم کرنے، صفحہ ہستی سے مٹانے اور جنگی مشن کو لا محدود وقت تک جاری رکھنے کا اعلان کرنے والے ٹرمپ طالبان کے ساتھ مذاکرات کو حتمی شکل دینے کے لئے بے تاب نظر آرہے ہیں۔ پہلے امریکی قیادت پاکستان کی منتیں کرتی رہی کہ وہ طالبان کو امریکیوں کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ کرے، حالانکہ امریکہ اور طالبان کی قوت کا موازنہ بنتا ہی نہیں ہے…… کہاں امریکہ سپر نہیں، سپریم طاقت، کہاں افغان طالبان جیسے ”غیر مہذب اور جاہل“ لوگ، جنہیں امریکی صدر جارج بش نے ”چوہے“ بھی کہا تھا۔

امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں۔ مذاکرات تو برابر کے فریقین کے درمیان ہوتے ہیں، ہم پلہ فریقین ہی مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے بیٹھتے ہیں۔ طالبان ڈٹ کر دنیا کی مہذب ترین اور طاقتور ترین قوم کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے بیٹھے ہیں ……ٖڈیڑھ سال سے قطر کے دارلحکومت دوہا میں ہونے والے طالبان، امریکہ مذاکرات پاکستان کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ طالبان جو پشتون ہیں، ایک بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ پشتون زندہ رہنے کے لئے صرف ایک ہنرمیں طاق ہیں اور وہ ہے طاقت/ بندوق کا استعمال۔ بندوق کا موثر استعمال، ہندوکش کے پہاڑوں میں رہتے رہتے وہ خود پہاڑوں کی طرح سخت جان ہو چکے ہیں، انہیں شدید ترین موسم میں، ماحول میں زندہ رہنے کا سلیقہ آگیا ہے۔ افغان معاشرہ پشتون ولی کے بنیادی اصول پر قائم ہے۔ متحرک ہے،جس میں بدلہ اور مہمان داری دو بنیادی ستون ہیں۔ وہ دشمن سے بدلہ لیتے ہیں، اس کی جان لیتے ہیں اور مہمان کے لئے اپنی جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

افغان صدیوں سے ایسا کرتے آرہے ہیں۔ انہوں نے برطانوی قوم کی سپاہ کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا، جیسا انہوں نے اشتراکی افواج کے ساتھ کیا اور اب وہ گزرے اٹھارہ سال سے امریکی سپاہ کے ساتھ بھی ایسا ہی کر رہے ہیں ……اس بارے میں کوئی شک نہیں رہ گیا کہ امریکی جنگ نہیں جیت سکتے۔ امریکی جرنیل یہ بات اپنی قوم کو بتا بھی چکے ہیں کہ طالبان سے میدان جنگ میں جیتنا کسی صورت میں بھی ممکن نہیں ہے، دوسری طرف امریکی جنگی اخراجات بھی ناقابل برداشت ہو چکے ہیں، امریکی طویل اور بے نتیجہ جنگ سے عاجز آچکے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ جتنی جلدی ممکن ہو، اس لاحاصل جنگ سے جان چھڑالیں۔ طالبان بھی یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ امریکی اس جنگ سے تائب ہونا چاہتے ہیں، لیکن وہ اپنی شکست کو ایک موڑ دیناچاہتے ہیں، تاکہ شکست کی شرمندگی سے بچ سکیں، اس لئے مذاکرات طوالت کا شکار ہیں ……

مذاکرات، امریکیوں کے لئے فیس سیونگ ہیں اور شکست کا واضح داغ مدھم کرنے کی ایک کاوش ہیں۔ پاکستان اس میں برابر کاہی نہیں، امریکیوں سے بڑھ کر شریک ہے، کیونکہ افغانستان میں امن اور پاکستان دوست قوتوں کا غالب آنا پاکستان کے لئے ہر لحاظ سے سودمند ہے۔ امریکیوں کے خلاف لڑنے والے طالبان و دیگر پشتون گروپ پاکستان کے دوست ہیں، جبکہ کابل کی کٹھ پتلی حکومت اور اس کے حمایتی بشمول بھارت سرکار پاکستان کے دشمن ہیں۔

گزرے کئی سال کے دوران پاکستان نے دہشت گردوں کے ہاتھوں جس تباہی و بربادی کا سامنا کیا ہے، اس کی بنیاد اور مرکز افغان و بھارتی سرکار تھی۔ خطے میں پائی جانے والی غیر اطمینان بخش صورت حال کا براہِ راست تعلق افغانستان کی جاری صورت حال سے ہے۔ تاریخی اعتبار سے اس صورت حال کی ابتداء 9/11 کے بعد امریکی اتحادی افواج کے افغانستان پر حملہ آور ہونے سے ہوئی تھی۔ امریکی اتحادیوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر جس جنگ کی ابتداء کی تھی، اس کی آگ میں ہزاروں نہیں،لاکھوں، کروڑوں انسان جل کر ہلاک اور مجروح ہو چکے ہیں، لیکن یہ جنگ بغیر مثبت نتائج کے ہنوز جاری ہے۔

2001ء میں امریکی اتحادی اقوام کے افغانستان پر حملہ آور ہوتے وقت، افغانستان ایک امن پسند ملک تھا۔ طالبان کے افغانستان میں ڈرگز کا کاروبار ختم ہو چکا تھا، انسانی سمگلنگ نہ ہونے کے برابر تھی، طالبان عدالتیں قائم تھیں، فیصلے ہو رہے تھے، لوکل وار لارڈز کی کہیں بھی عمل داری نہیں تھی، افغانستان میں افغانوں کی حکومت تھی، طالبان، خانہ جنگی پر بھی قابو پا چکے تھے، گلبدین حکمت یار ہوں یا شمالی اتحاد کے احمد شاہ مسعود، سب اپنی اپنی اوقات میں تھے۔ طالبان حکومت کی رٹ قائم ہو چکی تھی۔ پھر 9/11 کو بہانا بنا کر افغانستان کو جنگ کے جہنم میں دھکیل دیا گیا۔ گزرے 18 سال سے یہاں آتش و آہن کا کھیل جاری ہے،امن غائب ہے، دہشت کا راج ہے،درجنوں ناٹو ممالک کی افواج یہاں سے رخصت ہو چکی ہیں، امریکی بھی رخصت ہونا چاہتے ہیں، اسی لئے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کئے جا رہے ہیں ……تاریخی اعتبار سے یہاں امن، مذاکرات کے ذریعے نہیں فیصلہ کن جنگ اور خانہ جنگی کے بعد ہی قائم ہوتا ہے۔

غیر ملکی غاصب فوج کو شکست دینے اور اپنی سرزمین سے نکال باہر کرنے کے بعد، افغان خود فیصلہ کرتے ہیں کہ یہاں کون حکمران ہوگا؟……پھر حکمرانی کا ٖفیصلہ بیلٹ نہیں بلٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔ پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے،اب بھی ایسا بھی ہو کر رہے گا۔ افغانستان کاحال طالبان کے ہاتھ میں ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ بھی طالبان ہی کریں گے۔

مزید : رائے /کالم