کرونا وائرس:وزارت خارجہ پاکستانیوں کی واپسی کے اقدامات کرے

کرونا وائرس:وزارت خارجہ پاکستانیوں کی واپسی کے اقدامات کرے
کرونا وائرس:وزارت خارجہ پاکستانیوں کی واپسی کے اقدامات کرے

  

چین کے وسطی صوبے ہیو بے کے دارالحکومت ”ووہان“ سے شروع ہونے والا کرونا وائرس، جس کے باعث اب تک چین میں متعدد اموات ہوچکی ہیں،جبکہ وہاں اس وائرس سے ایک ہزار سے زیادہ مریض سامنے آچکے ہیں۔چین کے بعض علاقوں کے علاوہ اس وائرس سے دیگر ممالک کے لوگ بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اس کی ابتداء ایک غیر قانونی منڈی سے ہوئی، جہاں مختلف قسم کے جانور، جن میں لومٹری، چمگادڑ، مگر مچھ، بھیڑیے اور سانپ وغیرہ فروخت ہوتے تھے۔ اس مارکیٹ کو اب بند کر دیا گیا ہے۔

یہ وائرس سانپ کے ذریعے انسان میں منتقل ہوا۰ چین نے خود اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اب یہ انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہورہا ہے۔ اس و ائرس کی علامات نمونیا جیسی ہوتی ہیں، جیسے نزلہ، سانس میں دشواری، سر درد، کھانسی، بخار اور نقاہت محسوس کرنا شامل ہیں،جبکہ اس کے حفاظتی اقدامات میں ہاتھوں کو بار بار صابن سے دھونا، غیر دھوئے ہاتھوں سے آنکھوں، ناک اور منہ کو ہاتھ لگانے سے اجتناب کرنا، علاوہ ازیں گوشت اور انڈوں کو مکمل اور ٹھیک طرح پکا کر کھانا، پُر ہجوم مقامات پر جانے سے گریز کرنا، جس مریض میں اس وائرس کی علامات پائی جائیں، اس سے دور رہا جائے اور جانوروں کو نہ چھوا جائے۔

چین کے بعد اس وائرس کا خدشہ پاکستان میں بھی بڑھتا جارہا ہے،کیونکہ یہاں ہزاروں چینی باشندے موجود ہیں جو مختلف پراجیکٹوں پر کام کررہے ہیں اور وہ چین آتے جاتے رہتے ہیں۔ جب چین جیسا ترقی یافتہ ملک اس وائرس پر قابو نہیں پا سکا تو اگر خدا نخواستہ یہ پاکستان میں پھیل گیا تو اس کا مقابلہ کرنا بڑا ہی دشوار ہوگا،اس لئے ابھی سے سخت احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے احتیاطی تدابیر سے کما حقہ عوام کو آگاہ کیا جائے۔ اگلے روز کرونا وائرس کے شبہ میں ایک بیمار چینی شہری چالیس سالہ فنگ فین، جو ملتان میں ایک پراجیکٹ پر کام کررہا ہے اور چند روز قبل ہی وہ ”ووہان“ سے واپس آیا ہے، اسے نشتر ہسپتال ملتان کے آئسولیشن وارڈ میں منتقل کردیا گیا ہے،جہاں اس کا طبی معائنہ کیا جارہا ہے۔ ادھر وزارت صحت نے پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس حوالے سے غلط رپورٹنگ کی گئی ہے۔

بعض ذرائع کے مطابق اس وقت چین میں سکونت پذیر آٹھ سو پاکستانی تاجر، پندرہ سو تجارت کے لئے گئے ہوئے افراد اور دوہزار سے زیادہ پاکستانی طلبہ و طالبات کرونا وائرس سے متاثرہ صوبے کی بارہ یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں، جبکہ وزارت خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ ”ووہان“ میں پانچ سو پاکستانی طلبہ موجود ہیں۔ یہ صریحاً دروغ گوئی ہے کہ ہیوبے کی ہر یونیورسٹی میں پاکستان کے دوسو سے زیادہ طلبہ و طالبات میڈیکل اور انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کررہے ہیں، جن کی مجموعی تعداد دوہزار سے زیادہ ہے،وہ اس وقت خوف و ہراس کا شکار ہیں اور اپنی اپنی درسگاہوں میں قید اورمحصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ علاوہ ازیں دو ہزار سے زیادہ پاکستانی بھی وہاں موجود ہیں۔

ہیوبے کے تمام شہر پورے چین اور دنیا سے کٹ کر رہ گئے ہیں اور وہاں ہر طرف موت کے بھیانک سائے منڈلا رہے ہیں، وہاں نہ کوئی جا سکتا ہے اور نہ آ سکتا ہے۔ وزارت خارجہ کی ترجمان وہاں موجود خوف اور سراسیمگی کے شکار پاکستانی طلبہ و طالبات اور پاکستانیوں کو کہتی ہیں کہ وہ خود کو پاکستانی سفارتخانہ میں اندراج کرائیں۔ یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ”ووہان“ سے کسی کو باہر جانے نہیں دیا جارہا تو وہ کیسے سفارت خانے پہنچیں اور خود کو رجسٹرڈ کرائیں۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ہمارے سفارت کار سفارتی امور کو تج کر اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں اور ذاتی کاروبار میں سفارتی مراعات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں جو ایک نہایت ہی معاندانہ امر ہے۔

وزارت خارجہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ فوری اور ہنگامی طور پر وہاں پھنسے ہوئے مجبور اور معصوم طلبہ و، طالبات اوردیگر پاکستانیوں کے وہاں سے انخلا ء کا بندوبست کرے، بصورت دیگر خدانخواستہ اگر کوئی ایک پاکستانی بھی اس مہلک وائرس کا شکار ہوگیا اور جان کی بازی ہار گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ اگر کوئی پاکستانی اس وائرس کے ساتھ پاکستان پہنچ گیا اور یہ وباء پاکستان میں پھیل گئی تو کیا بنے گا؟ ہمارے ہاں تو سرکاری ہسپتالوں کا یہ حال ہے کہ ایک ایک بستر پر کئی کئی مریض لیٹے ہوتے ہیں۔ پھر اس وائرس کا علاج دنیا بھر میں نہیں ہے تو پاکستان کیا کرے گا؟ جبکہ چین جیسا ملک بھی کچھ نہیں کرپارہا۔ وزارت خارجہ ہوش کے ناخن لے اور وہاں پھنسے ہوئے طلبہ و طالبات اور دیگر پاکستانیوں کو پاکستان لانے کا بندوبست کرے اور انہیں وہاں سسک سسک کر مرنے کے لئے نہ چھوڑا جائے۔

چین میں موجود دیگر سفارتخانوں نے فوری طور پر چن چن کراپنے ایک ایک ہم وطن کو متاثرہ علاقوں سے بخیر وخوبی نکال لیا ہے، مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ ہماری وزارت خارجہ اخباری بیانات تک ہی محدود ہے۔خدارا کچھ کریں، گرم کمروں میں بیٹھ کر زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی اقدامات کریں اور ڈر و خوف کے مارے ہوئے پاکستانی بچوں، بچیوں اور پاکستانیوں کو ملک واپس لانے کا فوری اور خاطر خواہ بندوبست کرے، بصورت دیگر کسی بھی نقصان کی ساری ذمہ داری وزارت خارجہ اور ہمارے سفارت کاروں پرعائد ہوگی، جو کڑے محاسبے کی متقاضی ہوگی، اگر وزارت خارجہ یا ہمارے سفارت کاروں کی کوتاہی اور لغزش سے یہ وباء پاکستان میں پھیل گئی تو اس سے جہاں ایک طرف قیمتی جانوں کا ضیاع ہوگا تو دوسری طرف یورپ، امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی اور دیگر ممالک اپنے ملکوں میں پاکستانیوں کی آمداور وہاں موجودگی پرپابندی عائد کر دیں گے یا انہیں ملک چھوڑنے کا کہیں گے،جبکہ ان ممالک میں لاکھوں پاکستانی بسلسلہ ملازمت یا روزگار مقیم ہیں جو اس سے متاثر ہوں گے،جن کا ملکی اقتصادیات پر بہت برا اثر پڑے گا۔

ملک جو پہلے ہی بحرانوں کی زد میں ہے، ایک اور بڑے بحران میں مبتلا ہو جائے گا،پھر یہ ان ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے روزگار کا بھی مسئلہ ہے۔وطن عزیز جہاں پہلے ہی بیروزگاروں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے، اس میں مزید لاکھوں بیروزگاروں کا اضافہ ہو جائے گا جو ملکی معیشت پر بہت بڑا بوجھ ہوگا،جو حکومت کے لئے گمبھیر مسائل کھڑے کر دے گا، جس پر قابو پانا حکومت کے بس سے باہر ہوگا۔ حکومت وقت سے پُرزور الفاظ میں یہ کہیں گے کہ وہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر سنجیدگی سے لے اور چین میں محصور پاکستانی طلبہ و طالبات اور وہاں موجود دیگر پاکستانیوں کو واپس لانے کے کام کو پہلی ترجیح دے۔ چین ہمارا دوست ملک ہے، اس نے ہمیشہ ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے،اس سے ہمارے دوستانہ مراسم مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں، وہ یقینا چین میں مقیم پاکستانیوں کے وہاں سے انخلاء کے لئے بھی پاکستان سے بھرپور تعاون کرے گا۔ جہاں تک کرونا وائرس کا تعلق ہے تو یہ ایک حرام جانور سانپ سے پھیلا ہے اور ”ووہان“ کی اس جانور منڈی سے پھیلا ہے، جو حرام جانوروں کی مارکیٹ تھی تو بے اختیار دل اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس نے اپنے آخری نبی الزماں حضرت محمدؐ کے ذریعے ہمیں حرام جانور کھانے سے ایک ہزار چار سو اکتالیس برس پہلے منع کردیا ہے،ہمیں حلال و حرام کی تمیز دی اور ان جانوروں کو کھانے سے منع فرمایا،جن سے انسانی صحت پرمضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ حلال جانوروں کو بھی ذبح کرکے کھانے کی ہدایت دی،تاکہ ان کے جسم سے خون نکل جائے اور یہ خون ہی ہوتا ہے، جس میں مضر جراثیم پائے جاتے ہیں، جبکہ غیر مسلم ممالک میں حرام و حلال کی کوئی تفریق نہیں،جس کے آئے دن منفی نتائج سامنے آتے رہتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -