بک شیلف

بک شیلف
بک شیلف

  



نام کتاب: A History of warfare

(جنگ و جدال کی تاریخ)

نام مصنف: John Keegan(جان کیگن)

پبلشرز: رینڈم ہاؤس، برج روڈ، لندن

اشاعت اول: 1993ء

اشاعتِ پنجم: 2012ء

صفحات: 432

قیمت: 13.99 برطانوی پاونڈ

میرے سامنے کتاب کا جو ایڈیشن ہے، وہ پیپر بیک ہے، مجلد نہیں۔ اس میں 24صفحات ریشمی کاغذ (گلینر پیپر) پر بلیک اینڈ وائٹ تصاویر بھی ہیں اور درجن سے زیادہ نقشہ جات ہیں۔ جان کیگن 20کتابوں کا مصنف ہے جس میں The Face of Battle سب سے زیادہ مشہور ہے۔ وہ کئی برس تک رائل ملٹری اکیڈمی سیندھرسٹ میں ملٹری ہسٹری کا سینئر لیکچرار رہا۔ وہاں سے ریٹائر ہونے کے بعد روزنامہ ڈیلی ٹیلی گراف کا ڈیفنس ایڈیٹر رہا۔ 1935ء میں پیدا ہوا اور 77 برس کی عمر میں 2012ء میں اس کا انتقال ہوا۔ اس کی عمر کا بیشتر حصہ لندن میں گزرا۔

اس کتاب کے پانچ حصے ہیں جن کے عنوانات درج ذیل ہیں:

1۔ انسانی تاریخ میں جنگوں کا ذکر

2۔پتھر کا زمانہ

3۔گوشت پوست کا زمانہ

4۔لوہے کا زمانہ

5۔آگ (فائر) کا زمانہ

کتاب کا پہلا باب 60 صفحات پر مشتمل ہے اور بنی نوعِ انسان کی تاریخ میں جنگ و جدال کی موجودگی سے بحث کرتا ہے۔ دینِ اسلام میں قرآنِ حکیم میں حضرت آدم کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کے مابین لڑائی کا ذکر موجود ہے جس میں ہابیل، قابیل کے ہاتھوں مارا جاتا ہے۔ یعنی مرنے مارنے کا عنصر حضرتِ انسان کی سرشت میں روز ازل سے لکھ دیا گیا ہے اور یہ خونریزی ابد تک چلے گی۔ لیکن جان کیگن اس کتاب میں اس واقعہ کا ذکر نہیں کرتا بلکہ ابتدا ہی میں جنگ کے بارے میں ایک متنازعہ مقولے کا حوالہ دیتا ہے جو جرمن جنرل کلازوٹز کی کتاب ’آن وار‘ (On War) میں درج ہے۔

اور وہ یوں ہے کہ: ”جنگ دوسرے ذرائع سے سیاسی پالیسی کا تسلسل ہے“۔ چونکہ یہ کتاب (On War) دنیا بھر کی عسکری درسگاہوں میں پڑھی اور پڑھائی جاتی ہے اس لئے اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ عصرِ حاضر میں جنگ اور سیاست کو ایک ہی چیز سمجھ لیا گیا ہے۔ کلازوٹز کا استدلال ہے کہ کسی بھی ملک کی سیاسی پالیسی کا مسئلہ اگر مذاکرات سے حل نہیں ہوتا تو اس کے فیصلے کے لئے جنگ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ کلازوٹز کے مقولے میں دوسرے ذرائع (Other Means) کا مطلب ’مذاکرات‘ سے عبارت سمجھا جاتا ہے۔ تاریخِ انسانی ہمیں بتاتی ہے کہ ایک ریاست دوسری ریاست کو الٹی میٹم دیتی ہے کہ یا تو ہمارے مطالبات (فلاں فلاں تاریخ تک) تسلیم کر لو وگرنہ جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ۔ یہ الٹی میٹم وغیرہ بھی مذاکراتی پراسس کی ہی ایک شکل شمار کئے جاتے ہیں۔ لیکن جان کیگن نے اس مقولے کی صداقت سے انحراف کیا ہے اور لکھا ہے کہ چونکہ کلازوٹز نے اپنی کتاب جرمن زبان میں لکھی تھی اس لئے جب اس مقولے کا ترجمہ انگریزی زبان میں کیا گیا تو وہ درست نہ تھا۔ کلازوٹز کا اصل مقولے کا انگریزی ترجمہ یہ ہے:

War is the Continuation of political intercourse with the inter-mixing of other means.

لیکن ”آن وار“ کے انگریزی ترجمے میں اس فقرے کا جو ترجمہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے:

War is the continuation of policy by other means.

جان کیگن کا اصرار ہے کہ کلازوٹز کے مقولے کا درست ترجمہ نہیں کیا گیا۔ اورجنل جرمن زبان کا وہ خیال (آئیڈیا) انگریزی میں کھل کر بیان نہیں کیا گیا جو کلازوٹز کے دماغ میں تھا…… ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو کیگن کا اعتراض درست ہے۔ وہ ”پولیٹکل انٹرکورس“ (Political Inter-Course) اور ”انٹرمکسنگ آف اَدر مینز“ (Intermixing of other means) میں جو بات بیان کی گئی ہے وہ انگریزی ترجمے یعنی ”سیاسی پالیسی کے تسلسل“ میں نہیں۔

اس کے بعد کیگن، کلازوٹز پر یہ اعتراض بھی کرتا ہے کہ اس کا یہ مشہورِ عالم مقولہ ادھورا اور نامکمل ہے۔ کیگن کا کہنا ہے کہ کلازوٹز جب یہ کہتا ہے کہ جنگ پولیٹیکل مقاصد کے حصول کا دوسرے ذرائع کے ملغوبے کا نام ہے تو سیاسی مقاصد تبھی سامنے آئیں گے جب ریاست موجود ہوگی۔ لیکن جنگ تو کسی بھی ریاست کے وجود میں آنے سے پہلے انسان کی سرشت میں ودیعت کر دی گئی تھی اس لئے جنگ کا جذبہ اور وجود کسی ریاست کے ہونے یا نہ ہونے کا محتاج نہیں۔ اگر ہم ہابیل اور قابیل والے قرانی قصے کو یاد کریں تو جنگ واقعی روزِ اول سے انسان کی سرشت میں موجود ہے۔ یعنی جنگ اور انسان کا گویا چولی دامن کا ساتھ ہے…… بعض تبصرہ نگاروں نے جان کیگن پر اعتراض کیا ہے کہ اس نے خواہ مخواہ ایک مسلمہ جنگی مقولے پر حرف گیری کی ہے۔

ان معترضین نے یہ نہیں سوچا کہ جان کیگن کا مقصد، جرمن جنرل پر تنقید کرنا نہیں تھا بلکہ ایک حقیقتِ حال کا اظہار تھا۔ اس پہلے باب میں کیگن نے ایک ذیلی عنوان یہ بھی دیا ہے: ”کلازوٹز کون تھا؟“…… اس حصے میں اس نے On War کا ایک عمومی تجزیہ درج کیا ہے۔ یہ تجزیہ ”آن وار“ کے ناقدین سے زیادہ کلازوٹز کی پیشہ ورانہ تعریف و تحسین پر مشتمل ہے۔ پھر اس باب میں دو اور موضوعات پر بھی بحث کی گئی جن میں ایک کا عنوان ہے: ”جنگ بطور ایک ثقافت“ اور دوسرے کا عنوان ہے: ”ثقافت بغیر جنگ“۔

یہ دونوں عنوان ثقافت اور جنگ کے باہمی تعلق کو واضح کرتے ہیں۔کیگن کا استدلال ہے کہ ثقافت اور جنگ بھی آپس میں دو لازم و ملزوم عناصر ہیں جو کسی بھی قوم کی تاریخ بیان کرتے ہوئے ہمیں مدنظر رکھنے چاہئیں۔ تاریخِ جنگ سے متعدد مثالیں درج کی گئی ہیں اور آخر میں نتیجہ یہ نکالا گیا کہ جنگ میں انسانی جانوں کا زیاں بے شک ہوتا ہے لیکن اس کے سود سے انکار ممکن نہیں۔ جنگ انسانی ثقافت میں اسی ”سود و زیاں“(نفع و نقصان) کا نام ہے۔

کتاب کا دوسرا باب پتھر کے زمانے میں جنگی طور طریقوں (Warfare) پر مشتمل ہے۔ مصنف اس باب کا آغاز ایک دلچسپ جملے سے کرتا ہے اور کہتا ہے: ”مرد کس لئے لڑتے جھگڑتے ہیں؟…… کیا وہ پتھر کے دور میں بھی لڑا کرتے تھے؟ آج کل عورتیں جو قلم، دوات اور کاغذ سے لڑتی ہیں کیا وہ اس دور میں بھی لڑا کرتی تھیں؟“…… اس باب میں انسانی فطرت پر بھی بحث مباحثہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا کہ جنگ دراصل انسانی سرشت کا ایک جزوِلاینفک (Inseparable Part) رہی ہے اور باب کے آخری حصے میں زمانہ ء قدیم کی بعض اقوام میں جنگ لڑنے کے طور طریقوں کا تذکرہ ہے۔ اس باب کے دوسرے دو ذیلی عنوانات یہ ہیں: (1) جنگ و جدل کا آغاز …… (2) جنگ اور تہذیب و تمدن۔

تیسرے باب کا عنوان ہے ”گوشت پوست (The Flesh)…… پتھر کے زمانے سے شفٹ ہو کر جنگ و جدل، گوشت پوست کے انسانوں تک آ گئی۔ اس کا آغاز 1700قبل مسیح میں مصر اور عراق سے ہوا جس میں لڑائی کے لئے رتھ (Chariots) استعمال کئے جاتے تھے۔ جان کیگن کا استدلال ہے کہ رتھوں میں پہلے پہل گھوڑے کی جگہ گدھا استعمال کیا جاتا تھا۔ گدھے کے بارے میں اس جانور کی خوبیوں اور خامیوں پر مصنف کا یہ تبصرہ خاصا معلوماتی اور دلچسپ ہے۔وہ لکھتا ہے: ”جس کسی نے بھی گدھے کو بچپن میں پالتو جانور کے طور پر پالا ہے وہ جانتا ہے کہ بچپن میں اس جانور پر پیار ضرور آتا ہے لیکن جب یہ اپنے شباب کو پہنچتا ہے تو اس کی خامیاں کھل کر سامنے آنے لگتی ہیں۔ اس کی ضد اپنے مالک سے بازی لے جاتی ہے۔

سخت ترین قسم کا ضدی اور اڑیل جانور ہے۔ اس کی درد کی دہلیز بہت دیر کے بعد آتی اور بہت دور تک جاتی ہے یعنی گدھے کی درد کی حدِ برداشت درجہ ء کمال کی ہے۔ اس پر چابک مارے جاؤ خواہ ڈنڈے برساتے جاؤ یہ ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ زیادہ بوجھ اپنی پچھلی دو ٹانگوں پر اٹھاتا ہے اس لئے اس پر سواری کے لئے اس کی کمر کا عقبی حصہ زیادہ زیرِ استعمال رہتا ہے۔لیکن اگلے حصے کی ”ناقابلِ کنٹرول پوزیشن“ خالی از خطر نہیں ہوتی۔ اس کی چال کے دو حصے ہیں یعنی یا تو یہ واک کرتا ہے یا پھر سرپٹ بھاگتا ہے۔ اس کی واک، انسانی واک سے آہستہ ہوتی ہے اور اس کی دوڑ، گردن توڑ رفتار کے نزدیک جا پہنچتی ہے۔ گدھے کی یہ خصوصیات روز اول سے ہیں اور آج تک ان میں کوئی مثبت تبدیلی یا سدھار نہیں آ سکا۔ بوجھ اٹھانے کی اس جانور کی استعداد محدود ہے جبکہ بطور سواری، گدھے کا انتخاب آخری ترجیح ہے“۔

کتاب کا چوتھا باب لوہے (Iron) کے زمانے سے بحث کرتا ہے۔ بہت سے قارئین کو شائد معلوم نہ ہو کہ لوہے کا زمانہ،کانسی (Bronze) کے زمانے کے بعد کا زمانہ ہے۔ یعنی انسان نے آہن سے پہلے کانسی کو جنگ و جدل کے لئے استعمال کیا۔ یہ دھات، لوہے سے زیادہ سخت اور مضبوط ہوتی ہے۔ سب سے پہلے آہنی ہتھیار یونانیوں نے جنگ میں استعمال کئے، ان کے بعد رومیوں کا دور آیا۔ مصنف روم کو جدید افواج کا ”مادری گھرانہ“ (Mother House) قرار دیتا ہے۔لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ کیگن عربوں اور مسلمانوں کے دور میں استعمال ہونے والے آہنی اسلحہ جات کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ مسلمانوں کے دور کا ذکر عمداً نہیں کرتا یا اس کا تعلق ان اوصافِ سپہ گری کے بارے میں معلومات کے فقدان کی وجہ سے ہے۔

آخری اور پانچواں باب آگ (Fire) سے بحث کرتا ہے۔ اس کا آغاز بھی یونان سے ہوا۔ بارود کی قدیم ترین شکل کو ”یونانی آگ“ (Greek Fire) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جو ساتویں صدی عیسوی میں زیر استعمال تھی۔ یہ باب اہم ترین ہے۔ اس میں ’گن پاؤڈر‘ سے لے کر ایٹمی بارود تک کا دور شامل ہے۔ بتایا گیا ہے کہ فائر پاور نے جنگ و جدل کا مزاج یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ ایٹم بم کو جنگ کا آخری اور حتمی (Ultimate)ہتھیار قرار دیا گیا ہے۔

میرے خیال میں جان کیگن ایک ایسا واحد عسکری مورخ سے جس نے تاریخِ جنگ و جدل کو تو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن اسلامی دور کی (Contributions) کو شائد جان بوجھ کر حذف کر گیا ہے!

مزید : رائے /کالم