13.25فیصد کی شرح سود برقرار رکھنے سے غیر یقینی بڑھے گی،راولپنڈی چیمبر

13.25فیصد کی شرح سود برقرار رکھنے سے غیر یقینی بڑھے گی،راولپنڈی چیمبر

  



 راولپنڈی (کامرس ڈیسک)سٹیٹ بنک کی جانب سے شرح سود برقرار رکھنے پر بزنس کمیونٹی کو مایوسی ہوئی ہے۔ تاجربرادری کو قوی امید تھی کہ حکومت شرح سود میں کمی کرے گی۔ 13.25فی صد کی شرح برقرار رکھنے سے مارکیٹ میں غیر یقینی میں اضافہ ہو گا۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے صدر صبور ملک نے چیمبر میں وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برآمدات پر مبنی سیکٹرز کی گروتھ کے لیے ضروری ہے کہ کم شرائط پر قرضوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اس وقت تاجر کے پاس سرمائے کی شدید کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کاروباری لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ زیادہ شرح کے باعث بڑے پیمانے کی صنعت سکڑ کر رہ گئی ہے۔ افراط زر اور روپے کی قدر میں کمی سے پہلے ہی قوت خرید کم ہو چکی ہے، صنعتی بحالی اور ایس ایم ایز کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ شرح سود میں فوری کمی لائی جائے۔ صدر چیمبر صبور ملک نے کہا کہ حکومتی ایوانوں اور اہم ملاقاتوں میں اس بات کا اشاریہ دیا گیا تھا کہ شرح سود کم ہو گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ حکومتی دعوی کے مطابق کرنٹ اکاونٹ خسارہ سرپلس ہو چکا، تجارتی خسارے میں ساٹھ سے زائد فیصد کمی بھی آچکی۔ ہماری توقع تھی کہ حکومت شرح سود میں کمی لائے گی۔ سٹیٹ بنک فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

مزید : کامرس