بیت المقدس،مقبوضہ مغربی کنارہ اسرائیل کا حصہ،فلسطین آزاد،خود مختار ریاست

  بیت المقدس،مقبوضہ مغربی کنارہ اسرائیل کا حصہ،فلسطین آزاد،خود مختار ریاست

  



واشنگٹن(اظہر زمان،خصوصی رپورٹ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطی تنازعے کے بارے میں دو ریاستی نظریے پر مبنی اپنا امن منصوبہ پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکہ نے فلسطین کی آزاد اور خود مختار ریاست کے تصور کو اصولی طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ دو روزہ مذاکرات کے اختتام پر ان کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس میں اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ کے امن فارمولے کو اسرائیلی لیڈروں کی تائید بھی حاصل ہے۔ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس طرح اسرائیل نے امن کی سمت میں ایک بڑا قدم اٹھا لیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اس اعلان کے وقت ہزاروں میل دور موجود تھے جہنوں نے دو سال سے زائد عرصہ قبل اس وقت امریکہ کے سفارتی تعلقات توڑلئے تھے جب صدر ٹرمپ نے امریکہ کی طویل عرصے سے جاری پالیسی ترک کرتے ہوئے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کر لیا تھا صدر ٹرمپ کا موقف یہ ہے کہ ان کا موجودہ منصوبہ ماضی میں ناکام ہونے والی امن کوششوں سے بہت مختلف ہے۔ انہوں نے فلسطینی لیڈروں کی غیر موجودگی میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینوں کی جو موجودہ صورت حال ہے وہ اس کے کہیں بہتر زندگی گزارنے کا حق رکھتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے واضع کہا کہ ان کا منصوبہ تنازعے کا ایک حقیقی دو ریاستی حل پیش کرتا ہے جس میں اسرائیل کے مکمل تحفظ کی کی ضمانت موجودہے صدر نے بتایاکہ جیساکہ ان کی انتظامیہ پہلے بتا چکی ہے اس فارمولے میں بیت المقدس سمیت مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقے پر اسرائیل کا حق برقرار رکھا گیاہے۔ صدرٹرمپ نے فلسطینوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لئے ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے لئے انہیں ایک تاریخی موقع فراہم کیا گیا ہے لیکن انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ یہ ان کے لئے آخری موقع ہو گا کیونکہ اس وقت جس امریکی ٹیم نے اتنی محنت سے یہ منصوبہ تیارکیاہے وہ انہیں پھرکبھی میسرنہیں ہو گی۔صدرٹرمپ نے واضع کیا کہ اس امن فارمولے کے تحت فلسطین کاعلاقہ دوگناہو جائے گا جن میں مشرقی بیت المقدس بھی شامل ہے جہاں امریکہ سفارت خانہ کھولنا چاہتا ہے۔یادررہے کہ فلسطینی حکام نے منصوبے کے اعلان سے قبل ہی اپنے تبصرہ میں کہاتھا کہ وہ اس منصوبے کو درکردیں گے جس میں اسرائیل کو ایک ”غاصب قوت“ قرار نہیں دیاجائے گا صدرٹرمپ نے بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے علاوہ ان کے مخالف لیڈربینی گینز دونوں سے وائٹ ہاؤس الگ الگ مذاکرات ہوئے ہیں اور دونوں نے اس منصوبے کی تائید کی ہے۔ٹرمپ کے مطابق امن منصوبے کے تحت مقبوضہ بیت المقدس بلاشرکت غیرے اسرائیل کا دارالحکومت ہوگا، ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ مقدس شہر کا ایک چھوٹا سا حصہ فلسطینی ریاست کا کیپٹل ہوگا لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ وہ چھوٹا سا حصہ کہاں ہوگا، بدلے میں امریکی صدر چاہتے ہیں کہ فلسطینی اسرائیل کو بطور یہودی ریاست تسلیم کریں۔اسرائیلی آباد کاریاں چار سال کیلئے معطل رہیں گی لیکن جو غیر قانونی کالونیاں بن چکی ہیں وہ اسرائیل کا ہی حصہ ہوں گی، ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ منصوبے سے فلسطینی سرزمین د گنی ہو گی لیکن اس کی بھی وضاحت نہیں کی گئی ہے ایسا ہوگا کیسے؟پلان کے تحت غزہ کی پٹی میں محصور مہاجروں کی اپنی سرزمین پر واپسی کا دروازہ بھی ہمیشہ کیلئے بند ہوگا۔دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی اور حماس نے امریکی منصوبے کو مسترد کر دیا، حماس نے مشرقی بیت المقدس اسرائیل کے حوالے کرنے کے بیان کو اشتعال انگیز اور ٹرمپ کے منصوبے کو فضول قرار دیا۔ایران نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو یکطرفہ اور اسرائیل نواز کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ

مزید : صفحہ اول