فیروز والہ فیکٹری آتشزدگی،جاں بحق افراد کی تعداد 12ہو گئی،3سگے بھائی شامل

  فیروز والہ فیکٹری آتشزدگی،جاں بحق افراد کی تعداد 12ہو گئی،3سگے بھائی شامل

  



فیروزوالہ،لاہور،شیخوپورہ(نمائندہ پاکستان،کرائم رپورٹر،بیورو رپورٹ) امامیہ کالونی ریلوے پھاٹک کے قریب فیکٹری میں ہونے والے ہولناک دھماکے کے باعث ہلاک ہونیوالوں کی تعداد 12 ہو گئی۔زخمیوں کی حالت نازک بیان کی جاتی ہے جبکہ 2 ملازم ملبے تلے دب کر ہلاک ہو چکے ہیں تاہم ان کی نعشیں نکالنے کا کام رات گئے جاری رہا۔ ہلاک ہونے والوں میں میاں بیوی اور ان کے دو بچے جب کہ فیکٹری مالک بھی شامل ہے ہلاکتوں میں اضافے کا بھی امکان ہے۔آتشزدگی اور عمارت گرنے سے ہلاک ہونے والے 12افراد میں 3تین سگے بھائی بھی شامل ہیں۔ ان میں 30 سالہ جمیل، 40 سالہ عابد اور 27 سالہ عبدالوحید شامل ہیں جن کی میتیں شکر گڑھ روانہ کردی گئیں۔فیروزوالہ پولیس نے غیر قانونی فیکٹری میں سلنڈ رگیس میں پھٹنے سے بارہ افراد کی ہلاکت کا مقدمہ سول ڈیفنس کے انسپکٹر محمد حنیف کی رپورٹ پر فیکٹری مالک محمد جمیل کے خلاف درج کر لیا۔ جبکہ حادثہ میں ایل پی جی گیس سلنڈر گیس لیک ہونے کی وجہ سے حادثہ رونما ہوا۔ مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے فیکٹری دھماکے کی کمشنر لاہور سے رپورٹ طلب کر لی۔تفصیلات کے مطابقپیرزادہ کالونی فیروزوالہ میں کاسمیٹکس سامان تیارکرنیوالی فیکٹری میں یکے بعد دیگرے 6 سلنڈر دھماکوں کے نتیجہ میں فیکٹری اورڈبل سٹوری بلڈنگ زمین بوس ہوگئی۔ پیراورمنگل کی درمیانی شب کاسمیٹکس پرفیوم باڈی سپرے اوردیگرکیمیکلزکی مدد سے سامان تیارکرنیوالی فیکٹری میں زورداردھماکوں سے پوراعلاقہ رات گئے گونج اٹھا،لوگوں میں ہلچل مچ گئی۔ زورداردھماکہ سے فیکٹری کیساتھ ملحقہ ڈبل سٹوری بلڈنگ جس میں ڈسپوزیبل کپ تیارکئے جاتے تھے وہ بھی لپیٹ میں آ گئی۔دھماکوں سے لگنے و الی آگ کوبجھانے کے لیے علاقہ کی مکمل بجلی بندکردی گئی۔امدادی ٹیموں نے 18 گھنٹوں سے زائد جدوجہد کے بعد صورتحال پر قابو پا لیا،جبکہ دو مزدور تاحال لاپتہ ہیں اور ان کی نعشوں کی تلاش آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھی۔بتایا گیا ہے کہ فیکٹری میں پرفیوم اور نمکو کے علاوہ سلائی کڑھائی کا کام بھی ہوتا تھا۔ حادثہ میں فیکٹری کامالک عابد،زاہد،رشیداں بی بی، 9سالہ موسیٰ،7 سالہ اریب،25سالہ،نوید، 2 خواتین،اورمردوں کی لاشیں ملبے تلے سے نکال لی گئی ہیں۔1نعش بری طرح جلنے سے ناقابل شناخت ہے۔30سالہ زاہد21سالہ جنید 70سے100فیصدجل چکے ہیں جن کی حالت میوہسپتال میں بدستورنازک بیان کی جارہی ہے۔ تھانہ فیروز والا نے سانحہ کا مقدمہ درج کرلیا ہے سول ڈیفنس افسر کی مدعیت میں یہ مقدمہ متاثرہ گھر کے مالک کیخلاف درج کیا گیا،علاوہ ازیں ڈی پی او شیخوپور نے بھی گزشتہ روز جائے وقوعہ دورہ کیا جہاں انہوں نے اس سانحہ کو سلنڈر دھماکہ قرار دیا اور کہا کہ عمارت میں غیر معیاری سلنڈر استعمال کئے جاتے تھے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اس بات کا کھوج لگائے گے کہ متاثرہ عمارت میں کس نوعیت کا کاروبار کیا جاتا تھا۔

فیکٹری،آتشزدگی

مزید : صفحہ اول